آزاد کشمیر کے انتخابات

ملکی سیاست میں موجود تلخی آزاد کشمیر کی الیکشن مہم میں بھی شدت سے نظر آئی۔ اس تلخی کو آزاد کشمیر کی سرحدوں میں پہنچانے میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ تینوں جماعتیں انتخابی مہم میں اپنا منشور اور کارکردگی بیان کرنے کے بجائے دوسری جماعتوں کو مودی کا یار اور بھارتی ایجنٹ ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔ انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے عجیب بات کہی جو کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ ریاستی موقف کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر میں دو ریفرنڈم کرانا چاہتے ہیں۔ ایک ریفرنڈم میں کشمیری عوام پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کریں گے جبکہ دوسرے ریفرنڈم میں وہ پاکستان یا آزاد ریاست کے طور پر رہنے کا فیصلہ کریں گے۔ اس سے قبل مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز اپنی انتخابی مہم میں وزیراعظم عمران خان پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو صوبہ بنانے اور مقبوضہ کشمیر فروخت کرنے کا الزامات عائد کر چکی تھیں۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب وادی جموں کشمیر کی امتیازی حیثیت ختم کی اس وقت بھی عمران خان پر سیاسی مخالفین کی طرف سے کشمیر فروشی کے الزامات لگے تھے۔ اس لحاظ سے عمران خان صاحب نے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا عندیہ دے کر گویا ان الزامات کو خود زبان دے دی کہ پانچ اگست دو ہزار انیس کو کشمیر کی امتیازی حیثیت کے خاتمے سے نریندر مودی نے وادی جموں کشمیر کے بٹوارے کا جو عمل شروع کیا تھا وہ کسی گرینڈ منصوبے کے تحت ہی تھا اور اسے اب پاکستان پایہ تکمیل تک پہنچانے جا رہا ہے۔

ان شکوک و شبہات میں جان اس لیے بھی ہے کیونکہ عمران خان صاحب نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ ریفرنڈم صرف آزاد کشمیر میں ہی ہوگا یا پھر مقبوضہ کشمیر میں بھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ بھارت کبھی بھی اپنے زیر انتظام کشمیر میں ریفرنڈم کرانے پر راضی نہیں ہوگا۔ صرف آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کے نتیجے میں لازمی بات ہے کہ وہاں کے باشندے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد جب دوسرا ریفرنڈم ہوگا تو اس کا نتیجہ آزاد کشمیر کو صوبہ بنانے کی صورت نکلے گا جس کا لا محالہ مطلب کشمیر کا مقدمہ اپنے ہاتھوں برباد کرنا ہے۔

بعض تجزیہ نگار اور تحریک انصاف کے حامی عمران خان صاحب کی اس خواہش کو آئین پاکستان کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں، یہ بات مگر اس وقت کہی جا سکتی تھی جب انڈیا بھی اپنے زیر انتظام کشمیر میں ریفرنڈم کرانے پر تیار ہوتا۔ اس کے سوا یہ کہنا نہ صرف خلاف آئین بلکہ کشمیریوں کی دہائیوں پر محیط جدوجہد اور لا زوال قربانیوں سے غداری کے مترادف ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کشمیریوں کو اپنا مستقبل طے کرنے کا حق ہونا چاہیے لیکن کنٹرول لائن کے اس پار بھی کشمیری باشندے ہی رہتے ہیں ان کی مرضی کے بغیر بھی کشمیریوں کے مستقبل کا کوئی بھی فیصلہ کرنے کا اختیار بھی کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔

یقین نہیں آتا کہ وزیراعظم صاحب واقعتاً اتنے سادہ اور لا علم ہیں کہ انہیں اپنی کہی بات کہ مضمرات کا اندازہ نہیں۔ جس اعتماد سے انہوں نے یہ بات کہی اس کے بعد ذہن میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ کشمیر کے بارے ریاستی پالیسی بھی کہیں تبدیل نہ ہو چکی ہو۔ بہرحال اب آزاد کشمیر میں انتخابات کا نتیجہ آ چکا ہے اور تحریک انصاف اکثریت حاصل کر چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران اپنی بات پر قائم رہتے ہیں یا نہیں۔ خدا سے دعا کریں کہ ریفرنڈم کا وعدہ بھی پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں جیسا ہی ہو۔

آزاد کشمیر کے انتخابات میں بدترین شکست کے بعد مسلم لیگ نون کے مستقبل اور مریم نواز کی جارحانہ حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ نون لیگ کی سینئر قیادت کو مریم نواز کے جارحانہ رویے پر تحفظات ہیں اور اب جماعت کے اندر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ بدستور پارٹی انہی جارحانہ خطوط پر استوار رہے گی یا پھر شہباز شریف کی مفاہمانہ پالیسی کو بھی آزمایا جائے گا۔ نون لیگ کے اندر تقسیم کی باتیں اس مرتبہ اس لیے بھی شدت سے ہو رہی ہیں کیونکہ انتخابی مہم کے دوران بطور پارٹی صدر شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں جلسوں سے خطاب کرنا تو دور کی بات قدم تک نہیں رکھا۔

انتخابات میں ہار کے بعد بھی مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال اور راجہ فاروق حیدر تو دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں لیکن شہباز شریف اور دیگر اعلی قیادت بالکل لا تعلق اور خاموش ہے۔ نون لیگ میں بیانیے کی تقسیم بہت پہلے سے موجود ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تقسیم گہری ہوتی جا رہی ہے۔ نون لیگ کے صدر شہباز شریف مفاہمت کی بات کرتے نہیں تھکتے لیکن ان کی بھتیجی جارحانہ پالیسی سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس اجلاس میں شہباز شریف موجود ہوتے ہیں وہاں مریم نواز نظر نہیں آتیں اور جس جلسے میں مریم نواز شامل ہوں شہباز شریف اس میں شرکت نہیں کرتے۔ لگتا ہے پارٹی قائد نواز شریف کی یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ پارلیمانی معاملات اپنے برادر خورد شہباز شریف کے حوالے کر دیے جائیں اور جلسے وغیرہ کے معاملات بیٹی کے سپرد۔ بظاہر یہ پالیسی کامیاب نظر آتی ہے کیونکہ مریم نواز کراؤڈ پلر ہیں اور ان کے جلسے ہمیشہ کامیاب رہے ہیں مگر ووٹر اس پالیسی سے کنفیوز ہو چکا ہے جس کا خمیازہ آزاد کشمیر انتخابات میں جماعت کو بھگتنا پڑا ہے۔

یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ آزاد کشمیر میں وہی جماعت انتخاب جیتتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو۔ کیونکہ وہاں ووٹرز یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد میں برسر اقتدار جماعت کو جتوانے کی صورت میں ان کے حلقوں کے چھوٹے موٹے کام آسانی سے ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں بھی دیکھا گیا جب وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو آزاد کشمیر میں بھی وہی کامیاب ہوئی اور جب وفاق میں نون لیگ کی حکومت آئی تو آزاد کشمیر میں اسے اکثریت ملی۔

کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف کی جیت اسی روایت کا تسلسل ہے۔ سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں نون لیگ کی شکست کی مگر کیا تاویل پیش کی جائے؟ دو ہزار تیرہ اور دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں یہ نشست نون لیگ کے پاس تھی۔ لہذا اس حلقے میں شکست کے بعد لیگی قیادت کو اپنی حکمت عملی پر ازسر نو غور کرنا چاہیے۔ نون لیگ کی بھرپور کاوش کے باوجود حکومت اپنی جگہ کھڑی ہے اور اگلے انتخابات سر پر آ پہنچے ہیں۔ اس دوغلی پالیسی کے ساتھ اگلے انتخابات میں کامیابی کی امید نظر نہیں آ رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words