تھراپی، سائیکو تھراپی اور کونسلنگ: ایک سائیکیٹرسٹ دوست سے گفتگو


ڈاکٹر سہیل گیلانی سے ہماری عمر بھر کی شناسائی رہی ہے۔ ڈاؤ میڈیکل کالج میں دوران طالب علمی ان کا حوالہ شعر و سخن، بحث مباحثے اور طلبا سیاست میں شرکت تھا اب ان کی شناخت ایک امریکی سائیکاٹرسٹ کی ہے انہیں ایک امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ وہ اس شعبہ میں پاکستان اور انگلستان میں بھی زیر تربیت رہے۔ آج کل پاکستانی میڈیا میں ”تھراپی“ اور ”تھراپسٹ“ کا کردار بہت زیادہ زیر بحث ہے۔ آئیے ان سے اس انتہائی اہم طبی شعبے کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔

تھراپسٹ کون ہوتے ہیں؟

سہیل گیلانی: سائیکو تھراپی کو مختصراً تھراپی کہتے ہیں اور اس شعبہ کے ماہر کو تھراپسٹ یا سائیکو تھراپسٹ کہا جاتا ہے۔ کونسلنگ اور کونسلر بھی متبادل اصطلاحات ہیں۔

ذہنی صحت کے لیے کونسلنگ (صلاح مشورہ) دراصل ایک پیشہ ور تربیت یافتہ معالج اور اس کے ”کلائنٹ“ کے درمیان بامقصد شراکت داری کا دوسرا نام ہے۔

تھراپسٹ مندرجہ ذیل چار میں سے کسی ایک تعلیمی پس منظر کے حامل ہوتے ہیں :
1۔ سائیکیاٹرسٹ
2۔ سائیکولوجسٹ
3۔ سوشل ورکر
4۔ تربیت یافتہ کونسلر

سائیکیاٹرسٹ اور دیگر تھراپسٹ میں کیا فرق ہوتا ہے؟

سہیل گیلانی: سائیکیاٹرسٹ بنیادی طور پر سند یافتہ یعنی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوتے ہیں جو فارغ التحصیل ہونے کے بعد پہلے ہاؤس جاب مکمل کرتے ہیں اور پھر جس طرح مختلف ڈاکٹرز کئی سال سرجن، ماہر امراض قلب یا ماہر اطفال بننے کی تربیت لیتے ہیں اور متعلقہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں بالکل اسی طرح کم از کم تین سے پانچ سال کا عرصہ بحیثیت زیر تربیت ڈاکٹر گزارتے ہیں۔

تھراپسٹ اور سائیکیاٹرسٹ میں کیا فرق ہے؟

سہیل گیلانی: ایک تو تعلیم اور تربیت میں فرق ہوتا ہے۔ سائیکیاٹرسٹ نسبتاً زیادہ عرصے زیر تربیت رہتے ہیں۔ دیگر تھراپسٹ بھی عموماً کم از کم یونیورسٹی سے ماسٹرز کرتے ہیں۔ دوسرا فرق ان کی اپروچ کا ہے۔ سائیکیاٹرسٹ ذہنی امراض کو طبی بیماریاں سمجھتے ہیں جبکہ تھراپسٹ کے نزدیک ان مسائل کو سلجھانے کے لئے کلائنٹ کے گرد موجود “نظام” کا جائزہ لینا زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ نظام سے مراد ماحول، سیاسی، سماجی، جنسی اور قانونی معاملات وغیرہ ہیں۔

تھراپسٹ کے معالجے کا دائرہ کار مختلف النوع تھراپی ہوتا ہے جبکہ سائیکیاٹرسٹ مرض کی تشخیص کر کے ادویات کا آغاز کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

کیا تھراپسٹ کی بھی کوئی تربیت ہوتی ہے؟

سہیل گیلانی: جی ہاں بالکل۔ یونیورسٹی ڈگری کے بعد متعدد کورسز کرنے پڑتے ہیں جن کی نوعیت مختلف ممالک میں اور تھراپی کے پروگرام کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔

یہ کس طرح کی تربیت ہوتی ہے؟

سہیل گیلانی: اس تربیت کا سب سے اہم پہلو ایک تجربہ کار سپروائزر کی موجودگی ہے جس کا کام تھراپسٹ کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنا اور اس کی رہنمائی کرنا ہوتا ہے۔ تھراپسٹ کو اپنے کلائنٹ کے ساتھ بہت سارے سیشن سپروائزر کی زیر نگرانی کرنا ہوتے ہیں۔

کیا یہ افراد ایک دفعہ مطلوبہ تربیت مکمل کرنے کے بعد تاعمر تھراپسٹ بن جاتے ہیں؟

سہیل گیلانی: ہر گز نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آج کل تمام ممالک میں طب کے پیشے سے منسلک ہر قسم کے پیشہ ور افراد کو سالانہ لائسنس کی تجدید کرانی پڑتی ہے جس کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہوں نے مسلسل تعلیم کے مطلوبہ گھنٹے پورے کیے ہیں۔ بالکل ایسا ہی نظام تھراپسٹ کے لئے بھی موجود ہے۔

کیا تمام تھراپی ایک ہی قسم کی ہوتی ہے؟

سہیل گیلانی: نہیں جناب۔ ان کی شکل forms اور مواد contents مختلف ہوتے ہیں۔ شکل کے لحاظ سے یہ انفرادی، اجتماعی یا خاندان کے افراد کے ہمراہ ہو سکتی ہے جبکہ مواد کی طرف جائیں تو اس کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ تھراپی کا بنیادی اصول کیا طے کر لیا گیا ہے۔ کہیں پر فرد کی تحلیل نفسی psychoanalysis کیا جاتا ہے تو کہیں اس فرد کے حالیہ رویے اور جذبات کو نقطۂ ارتکاز سمجھ کر سلوکی و ادراکی معالجے cognitive behavioural therapy سے الجھی ہوئی ڈور سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

آپ کی بات سے لگتا ہے کہ کوئی بھی شخص جو دوسرے کی بات بغور سن کر اچھے اچھے مشورے دینے کا عادی ہے تھراپسٹ بن سکتا ہے؟!

سہیل گیلانی: کونسلنگ ایک پیشہ ہے اور اس کے پس پشت بڑے سائنسی اور مبنی بر شواہد evidence based اصول کار فرما ہوتے ہیں۔ تھراپسٹ اپنے کلائنٹ کی مشکل کی نوعیت کا ادراک کر کے مناسب مداخلت کرتے ہیں جس کے لئے بھرپور تربیت، مسلسل مشق اور مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ایک وارڈ بوائے، ایک نرس، ایک مڈ وائف اور ایک جونیئر ڈاکٹر کو اپنی حدود کا علم ہوتا ہے بالکل اسی طرح تربیت یافتہ تھراپسٹ کو بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کہاں اسے رک کر مدد کے لئے پکارنا Call for help کرنا ہے۔

کس قسم کی سائیکو تھراپی زیادہ کارگر ہوتی ہے؟

سہیل گیلانی: مختلف النوع تھراپی میں کوئی واحد نہیں جسے ہم باقی تمام سے بالاتر اور موثر قرار دے سکتے ہوں۔ ممکن ہے ایک کلائنٹ کے لئے ایک قسم کی تھراپی زیادہ فائدہ مند ہو لیکن وہی تھراپی دوسرے مریض پر کوئی اثر نہ کرے۔

کیا تھراپی سے مریض مکمل صحتیاب ہو جاتے ہیں؟

سہیل گیلانی: تھراپی کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک الجھے ہوئے فرد میں زندگی کو درپیش مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو جائے تاکہ اپنی سماجی، اقتصادی اور نجی زندگی کے تقاضوں سے عہدہ برا ہو سکے اور بالکل اپاہج یا عضو معطل بن کر نہ رہ جائے۔

کیا یہ بات درست ہے کہ ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں لیکن تھراپی کا فائدہ نہ ہو تو نقصان بھی نہیں ہوتا؟

سہیل گیلانی: یہ بالکل گمراہ کن تصور ہے۔ غیر تربیت یافتہ یا غیر مناسب تھراپسٹ کے ذریعے کی جانے والی تھراپی سے ذہنی مریض کی علامات میں شدت آ سکتی ہے۔ ان میں معالجے کے خلاف مزاحمت پیدا ہو سکتی ہے۔ وہ مزید الجھ کر خودکشی کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایک بہت بڑا خطرہ تھراپسٹ کے ہاتھ استعمال ہو کر مالی، جذباتی حتی کہ جنسی استحصال کا بھی ہوتا ہے جس کا شکار مریض یا اس کے اہل خانہ ہوسکتے ہیں۔

آپ نے گفتگو کی ابتداء میں بتایا کہ سائیکاٹرسٹ بھی تھراپسٹ ہوسکتے ہیں تو پھر سارے تھراپسٹ سائیکاٹرسٹ کیوں نہیں ہوتے؟

سہیل گیلانی : یہ بہت اچھا سوال ہے۔ عالمی ادارۂ صحت ہر سال دنیا میں سائیکاٹرسٹ کی فی کس تعداد کے اعداد و شمار جاری کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ تعداد کافی نہیں۔ یاد رہے کہ یہ ایک بہت مشکل اسپیشیئلٹی سمجھی جاتی ہے۔ آپ کو یہ جان کر افسوس اور حیرت ہوں گے کہ پاکستان کی بائیس کروڑ آبادی کے لئے بمشکل ساڑھے پانچ چھ سو سائیکیاٹرسٹ موجود ہیں تھراپی کا ایک سیشن ایک گھنٹے کا ہوتا ہے اور ہر مریض کو کم از کم دس سیشن درکار ہوتے ہیں۔ سائیکاٹرسٹ کو اپنی دیگر پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب اتنا زیادہ وقت میسر نہیں ہوتا۔

ایک ایسا نظام جس میں تربیت یافتہ تھراپسٹ اور سائیکاٹرسٹ آپس میں مثالی ہم آہنگی سے مصروف کار ہوں اور مریض کی طبی ضروریات کو ہر دوسری ترجیح پر مقدم سمجھیں یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم معاشرے میں ذہنی صحت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS