عید قرباں
امتحانات کی وجہ سے لکھنے لکھانے کا جو سلسلہ رک گیا تھا آج اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی تو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا لکھوں۔ عید بھی امتحانات کے بالکل درمیان میں تھی۔ ابھی کچھ دن پہلے بابا نے والدہ صاحبہ سے قربانی کی بابت کچھ کہا تو بیرون ملک قیام کی وجہ سے وہ کہنے لگیں کہ کیوں نہ قربانی کے پیسے تقسیم کر دیے جائیں تو بابا کہنے لگے کہ آپ دکان پر چکن لینے جاؤ اور دکان والا اتنے ہی پیسوں کی سبزی دے دے تو کیا آپ لے لیں گی؟
یہ سن کر والدہ صاحبہ کہنے لگیں ظاہر ہے نہیں، تو بابا نے کہا کہ پھر آپ لوگ کس طرح اللہ پاک کے احکامات کو اپنی سہولت کے لئے بدل سکتے ہیں۔ یہی مباحثہ میرے اس آرٹیکل کی بنیاد بنا کہ کس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کے حکم کو مانا اور ان کی فرمانبرداری اللہ پاک کے ہاں مقبول ہوئی اور انہیں اللہ کا تقرب نصیب ہوا۔ تب سے لے کر اب تک عید الاضحی پر اہل اسلام بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کر کے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے ہیں۔
یہ مقدس و مبارک عمل در اصل ایک عجیب و غریب واقعہ کی یاد گار ہے جس کی نظیر پیش کرنے سے تمام اگلے اور پچھلے لوگ قاصر ہیں، اس واقعہ کا تعلق دو عظیم شخصیات سے ہے، ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے حضرت اسماعیل علیہ السلام۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام شخصیت سے کون ناواقف ہوگا۔ آپ اللہ کے وہ برگزیدہ نبی ہیں جنہوں نے اللہ کے محبت میں ایسے مصائب جھیلے کہ اللہ نے آپ کو خلقت کا بلند ترین مقام نصیب فرما دیا اور ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ملت ابراہیمی کی اتباع کریں۔ آپ ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے اللہ کے حکم سے کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی، حج کا اعلان کیا اور حج جیسی مقدس عبادت کی تعلیم دی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں۔ ایک طویل مدت تک آپ علیہ السلام کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی، یہاں تک کہ آپ کی عمر تقریباً چھیاسی برس کی ہو گئی، تو آپ نے اللہ سے اولاد کے لئے دعا فرمائی:
کہ اے میرے رب مجھے صالحین میں سے ایک صالح بیٹا عطاء فرما۔
پھر کیا ہوا اللہ نے آپ کو ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی اور آپ کے گھر حضرت ہاجرہ علیہ السلام کے بطن سے ایک حسین و جمیل بچہ تولد ہوا جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔
اسکے بعد اللہ کریم نے آپ کو بعض مصلحتوں کی وجہ سے حکم دیا کہ آپ علیہ السلام بیوی اور بیٹے دونوں کو مکہ کے بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں اور ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے اس حکم کی تعمیل کی۔
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی ماں حضرت ہاجرہ علیہ السلام ساتھ مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور بڑھتے بڑھتے اس قابل ہو گئے تھے کہ کچھ کام کر سکیں تو ابراہیم علیہ السلام کو ملک شام میں ایک خواب نظر آیا۔
وہ یہ کہ خواب میں کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ ابراہیم اپنی نذر کو پورا کرو۔ دیکھو اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم اپنے بیٹے کو ذبح کرو، اور یہ خواب ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ کو دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو سوچنے لگے کہ یہ کیا خواب ہے؟ اور یہ اللہ کی جانب سے ہے یا شیطان کی طرف سے؟
اسی لئے آٹھ ذی الحجہ کو یوم الترویہ یعنی تفکر و تذبذب کا دن کہا جاتا ہے۔
پھر جب نوی ذی الحجہ کی رات ہوئی تو پھر وہی خواب نظر آیا، پھر جب صبح ہوئی تو آپ نے سمجھ لیا کہ یہ خواب اللہ ہی کی جانب سے ہے۔ اسی لئے نوی ذی الحجہ کو یوم العرفہ یعنی پہچاننے والا دن کہا جاتا ہے۔
پھر دس ذی الحجہ کی رات میں بھی یہی خواب دیکھا اور یہ ارادہ کر لیا کہ اپنے لخت جگر کو اللہ رب العزت کے راستے میں قربان کر دوں گا۔ اسی لئے دس ذی الحجہ کو یوم النحر یعنی کہ قربانی کا دن کہا جاتا ہے۔
مگر اس سے قبل کہ آپ اس حکم کی تعمیل فرماتے تو آپ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مشورہ کیا، اور اس سلسلے میں ان کی رائے دریافت کی۔
آپ کے جواب کو قرآن کریم میں یوں بیان کیا گیا:
اسماعیل علیہ السلام نے کہا کہ ابو جان آپ کو جو حکم ہوا ہے اسے کر گزریے۔ انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورہ صافات 102 ) ۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس جواب میں ایک بات بڑی قابل غور ہے، وہ یہ کہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جس وقت یہ جواب دیا تھا اس وقت آپ کی عمر صرف تیرہ برس کی تھی۔
اللہ اکبر!
سلام اس نبی پر جو ہمارے نبی آخر الزمان ﷺ کے جد امجد ہیں۔
سلام اس باپ پر جو اللہ پاک کے حکم کو اسی طرح ہم تک پہنچانے کا باعث بنے جیسے ان تک پہنچا۔
سلام اس ماں پر جس کی تربیت مثال بنی۔
سلام اس بیٹے پر جس کی فرمانبرداری رہتی دنیا تک مذکور رہے گی۔
سلام اس دین پر جس نے ہمیں کوئی بھی حکم بغیر عملی نمونے کے نہیں دیا۔
میری دعا ہے کہ رب کریم ہمیں اس عید کو سمجھنے کی توفیق دے اور ہم قربانی دینا سیکھیں اور صبر کرنے والے بنیں۔


