ظاہر جعفر کے والدین نے اپنے بیٹے کے "ناقابل تصور گھناؤنے جرم” کی مذمت کر دی

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین عصمت جعفر اور ذاکر جعفر کی جانب سے آج اخبارات میں ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنے بیٹے ظاہر جعفر کے ہاتھوں نور مقدم کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ ان کے اسلام آباد میں واقع بنگلے پر پیش آیا تھا۔

"اظہار غم” کے عنوان سے اس پیغام میں لکھا گیا ہے: "ہم عزت مآب شوکت علی مقدم کی بیٹی نور مقتدم کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ میں ہیں۔ ہم اس ناقابل تصور گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں جن کی مدد سے اس مشکل وقت میں نور مقدم کے کنبے اور پیاروں کو تسلی دے سکیں۔

"والدین کی حیثیت سے، ہم اس کے کنبے پر گزرنے والی اذیت کا تصور کرنے سے بھی بھی قاصر ہیں۔ ہم غیرمشروط طور پر نور مقدم کے اہل خانہ کے ساتھ ان کے دکھ مین شریک ہیں اور یہ یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے اور اس جرم پر انصاف کیا جائے۔”

"ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ نور مقدم کے گھرانے کو اس خوفناک سانحہ اور ان کی پیاری بچی کے ساتھ ہونے والے مکروہ جرم سے نمٹنے کی طاقت اور ہمت عطا کرے۔ اللہ نور مقدم کی مغفرت کرے اور سوگواران کو صبر دے۔ عصمت اور ذاکر جعفر۔ "

اس سے قبل ، میڈیا سے بات کرتے ہوئے ، ذاکر جعفر نے شوکت مقدم سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں انصاف ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ظاہر جعفر کے والدین کے علاوہ ان کے دو گھریلو ملازم اس وقت زیر حراست ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words