غیرت کی حقیقت کیا ہوتی ہے؟
اگر میں یہ کہوں کہ غیرت کیا ہوتی ہے یہ مجھے سمجھ ہی نہیں آ سکا تو وہ ان گنت لوگ جو خود بھی غیرت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے مجھ کو بلا توقف بے غیرت قرار دے دیں گے۔ بہت سارے دوسرے جو غیرت سے وابستگی کو ہی غیرت سمجھ بیٹھتے ہیں، ذرا نرمی برتتے ہوئے مجھے بے حس، پژمردہ ذہن، ڈھیٹ اور نجانے کیا قرار دے دیں گے، اس الزام تراشی اور دشنام طرازی سے بچنے کی خاطر میں یہ کہوں گا کہ مجھے یہ تو پتہ ہے کہ ہمارے ہاں بلا اجازت ”انسانی تعلق“ بنانے والے کو بے غیرت کہا جاتا ہے اور اس ”جرم“ کا ارتکاب کرنے والے، کرنے والی یا کرنے والوں کو قتل کر کے اقبال جرم کرنے والے کو با غیرت سمجھا جاتا ہے مگر انسانی تعلقات کے آزادانہ قیام کو دنیا کے ایک بہت بڑے، زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ حصے میں انسانی حق مانا جاتا ہے اور اس ضمن میں اگر کوئی قتل کرے بھی تو اسے درندہ سمجھا جاتا ہے۔
غیرت دراصل ایک ایسے سماج کا قدیم پرتو ہے جس میں عورت اور زمین پر تصرف کو ”مردانگی“ تصور کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس تصرف کو چیلنج کرنے والے سے انتہائی سختی سے نمٹے جانے کو مقدم خیال کیا جاتا تھا اور یہ درشت عمل صرف مرد کا خاصہ تھا۔ عورت کا اول تو غیرت سے کوئی ربط نہیں تھا لیکن اگر اکا دکا ایسی کوئی عورت ہوتی بھی تو وہ حقیقت میں ”مردانہ وار“ تصور کی جاتی تھی جیسے ماضی کی ڈاکو پھولن دیوی۔
غیرت سے شقاوت کا گہرا ناتا تھا۔ رقیق القلب اور حقیقت پسند مرد شقی القلب شخص نہیں ہوتا چنانچہ عمرانی طور پر پسماندہ سماج میں ایسے شخص کو یا تو ”سیانا“ سمجھا جاتا تھا یا پھر نامرد کیونکہ بے غیرتی اور نامردی تقریباً یکساں خصائص شمار کیے جاتے ہیں۔
آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصرف تو جاندار کی صفت ہے، اس سے بھلا گریز کیونکر ممکن ہے اور زیر تصرف شے کا تحفظ بھلا کیوں نہ کیا جائے؟ یہ سوال بالکل درست اور عاقلانہ ہے لیکن تحفظ کو شقاوت سے ملا دینا اس مخلوط وصف کو حیوانی بنا دیتا ہے اور تحفظ کو عقل اور حلاوت سے مربوط کیا جانا اس کو انسانی پیرائے میں لے آتا ہے۔
کیا اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت نہیں کی جانی چاہیے؟ کیوں نہیں، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ ان میں اعتماد اور خود داری کو مستحکم کیا جائے تاکہ وہ اپنی حفاظت آپ کرنے کے قابل ہوں۔ کیا اپنی زمین کی رکھوالی نہیں کی جانی چاہیے؟ ضرور کی جانی چاہیے لیکن ارد گرد کے زمینداروں سے دوستانہ تعلقات رکھے جانا رکھوالی کو زیادہ سہل بنا دے گا۔ کیا اپنی سرزمین کا دفاع نہیں کیا جانا چاہیے؟ بلا دفاع علاقے کو ”اپنی سرزمین“ گردانے جانے کا حق ہی نہیں ہوتا، مگر اپنی ہی سرزمین میں ایسے جاندار بلکہ جانور نہیں پالے جانے چاہئیں جو اسے نہ صرف اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر رہے ہوں بلکہ باہر والوں کی توجہ بھی مبذال کرا نے کا سامان کر رہے ہوں کیونکہ ایسے عناصر یا جانور ارد گرد کی سرزمینوں کو بھی تلپٹ کر دینے کا موجب بن سکتے ہیں۔
ایک لفظ جس کا شقاوت اور تصرف سے کوئی ربط نہیں لیکن وہ خود حفاظتی کا انسانی اظہار ہے وہ ہے ”حمیت“ ۔ اگر قوم ہونے کا حقیقی احساس اجاگر ہو جائے اور دلوں میں حمیت گھر کر جائے تو آپ اپنے گھر اور اپنے ملک میں ایسے عناصر کو در آنے کی اجازت ہی نہیں دیں گے جو آپ کے ہاں پھول پھل کر آپ کے لیے گھر اور ملک کے اندر اور ان سے باہر کے خطرات ابھارنے اور نقصان پہنچانے کی وجہ بن سکیں۔ اور اگر آپ میں قوم کہلائے جانے کی صفت ہی نہیں ہے تو ایک طرف تو آپ باہر سے آنے والے دوستوں کے روپ میں دشمنوں کو گلے سے لگائیں گے تو دوسری طرف آپ ان کو غیروں سے بچاتے بچاتے اپنے دفاع سے بھی عاری ہو جائیں گے۔
انا اگر خودداری کی حد تک ہو تو اگر مثبت نہیں تو منفی جذبہ بھی نہیں ہوا کرتی لیکن اگر انا ضد، ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی بن جائے تو وہ کسی طور بھی آپ کی نیک نامی سے عبارت قرار نہیں دی جا سکتی۔ ایک انگریزی کے محاورے کے مطابق اپنی سلامتی اور اپنے دفاع کے لیے گھر کے معاملات کو مناسب کیے جانے کی اشد ضرورت ہوا کرتی ہے لیکن اگر گھر کے معاملات کو لیپا پوتی سے درست کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اندرونی بدنظمی پہ پردہ ڈالے جانے کی کوشش کی جائے تو بظاہر یہ لگے کا کہ آپ نے غیروں کی نظروں سے اسے چھپا لیا لیکن دراصل یہ کوشش معاملات کو مزید الجھانے کا باعث بنا کرتی ہے۔
اغیار کو آپ کے گھر سے غرض نہیں ہوا کرتی لیکن وہ اپنے گھر یا گھروں کو صاف ستھرا رکھنے کے جتن کرتے ہوئے آپ کے ہی گھر میں اپ کے قالین تلے چھپائے گئے ضرر رساں حشرات کو اپنا ہدف بناتے ہیں جس سے آپ کے گھر کے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ابھی سب کچھ نہیں بگڑا لیکن لگتا یہی ہے کہ وقت بہت کم رہ گیا ہے چنانچہ عقل کے ناخن لیے جانے کی ضرورت ہے وگرنہ گھر میں جمع حشرات سے چھٹکارا پانے کی خاطر اغیار کی مدد لیتے لیتے بہت سے لوگ مسموم و معدوم ہو جائیں گے۔


