طالبان تبدیل ہو گئے” کی خوش فہمی”
امریکی انخلا کے بعد افغانستان کا ممکنہ سیاسی منظر نامہ اچھے حالات کی غمازی نہیں کر رہا۔ طالبان ملک کے اکثر علاقوں پر قبضہ کرتے ہوئے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، ان کے دعوی کے مطابق اب صرف مرکز پر قبضہ کرنا باقی رہ گیا ہے۔ اگر طالبان طاقت کے زور پر کابل پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں تو انہیں اپنے اس اسلامی نظام کے نفاذ کا موقع مل جائے گا جس کے لئے وہ گزشتہ دو دہائیوں سے بر سر پیکار ہیں۔
موجودہ حالات میں جب پاکستان سے لے کر ایران تک بہت سے لوگ طالبان کو ”تبدیل شدہ“ قرار دے رہے ہیں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ بالآخر طالبان کا اسلامی نظام ہے کیا؟ اور 20 سال پہلے کی نسبت تبدیل ہو جانے والے طالبان کا اسلامی نظام، جمہوری، انسانی اور اسلامی اقدار کے ساتھ کتنا ہم آہنگ ہے؟ اور یہ کہ جس اسلامی نظام پر طالبان لیڈر کسی طرح کا سمجھوتا کرنے کے لئے تیار نہیں، کن خصوصیات پر مبنی ہے؟
طالبان کے قصیدے پڑھنے والے لوگوں کی خوش فہمی کہیے یا تجاہل عارفانہ کہ طالبان کی طرف سے بعض جدید وسائل سے استفادہ اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر ”طالبان تبدیل ہو گئے“ کا راگ الاپے جا رہے ہیں۔ جبکہ مذکورہ سوالوں پر غور و فکر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کر رہے۔ طالبان لیڈر ملا ہیبت اللہ نے حال ہی میں عید کے موقع پر پیغام دیا ہے جس میں بار بار حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی ہے۔ لیکن یہ نظام در حقیقت ہے کیا، اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور اپنے من پسند اسلامی نظام کے خاکے کے حوالے سے موجود ابہام کو مزید گہرا کیا ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظام کے حوالے سے طالبان خود ابہام کا شکار ہیں اور ان کے پاس دنیا کے سامنے رکھنے کے لئے کوئی خاکہ موجود ہی نہیں ہے۔
حقیقت تو یہی ہے لیکن حال ہی میں طالبان ترجمان سہیل شاہین نے معروف صحافی سلیم صافی کو انٹرویو میں اس تاثر کی نفی کی ہے اور کہا ہے ایسا نہیں کہ ہمارے پاس اسلامی نظام کا کوئی واضح خاکہ موجود نہ ہو اگر ایسا ہوتا تو ہم 20 سال کیوں لڑتے کیوں اتنی قربانیاں دیتے اور آج مذاکرات کیوں کر رہے ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے نظام کا خاکہ دوسری پارٹی کے ساتھ شیئر کیا ہے گویا طالبانی اسلامی نظام کا خاکہ اتنا بہترین اور مثالی تھا کہ اسے افغان عوام کے سامنے رکھنے سے احتراز برتا گیا کہ مبادا اس کی خوبیاں دیکھ کر وہ اپنے حواس ہی نہ کھو بیٹھیں! ۔
کسی بھی سیاسی نظام کا خاکہ کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جسے مخفی رکھا جائے۔ بلکہ اسے دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تا کہ اہل علم اس نظام کی خوبیوں اور خامیوں کو سامنے لا سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان کے اسلامی نظام کا افغانستان کی تہذیب اور افغان عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے نہ ہی اس نظام میں عوام کی رائے کی کوئی وقعت ہے۔ طالبان کا اسلامی نظام لوگوں کے عقائد چیک کرنے اور لاچار عوام کو کوڑے مارنے سے شروع ہو کر خواتین پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کر کے گھروں میں قید کرنے پر ختم ہوجاتا ہے۔
طالبان کے پاس حکومت چلانے، معیشت کا پہیہ چلانے، بے روزگاری و غربت ختم کرنے، روزگار کی فراہمی اور ترقی کا کوئی پروگرام موجود نہیں ہے۔ دوسرے شدت پسند اسلامی گروہوں کی طرح طالبان کے اسلامی نظام کی حیثیت بھی، سادہ لوح مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے نفاذ شریعت کے پر کشش نعرے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ طالبان جس اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں یہ وہی نظام ہے جس کے مطابق 1996 سے 2001 تک، حکومت کرتے رہے۔ وہ نظام جس کی خوبیاں! تاریخ کا حصہ ہیں۔ وہ نظام جو جنگ، قتل و غارت، تشدد اور جدیدیت کی مخالفت کے گرد گھومتا تھا۔ اور وہ نظام جس کے ذکر سے آج بھی عام افغان سہم جاتے ہیں! وہ نظام کہ جس کے خوف سے افغان مظلوم عوام ایک بار پھر ہجرت کر رہے ہیں یا ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔
طالبان دوسرے مسلم شدت پسند گروہوں کے بر عکس اپنے اسلامی نظام کے لئے ”امارت اسلامی“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جس طرح القاعدہ اور داعش خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں اسی طرح طالبان کا ہدف بھی اسلامی خلافت کا قیام ہے مذکورہ گروہ دینی و دنیاوی امور میں سلف صالح کی طرف رجوع کے قائل ہیں اس حوالے سے طالبان سمیت ان سب گروہوں کا فکری مشرب ایک ہی ہے گزشتہ روز محترم حامد میر نے بھی اپنے کالم میں خلافت اور جہاد کے متعلق ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کی رائے کا ذکر کیا ہے ولی محسود نے اپنی کتاب میں واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ اس کے گروہ نے پاکستان کے خلاف جہاد کیا ہے اور وہ اسلامی امارت افغانستان کے جھنڈے تلے پوری دنیا میں خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ گویا داعش ہو القاعدہ ہو یا طالبان خلافت کے قیام کے حوالے سے سب ایک ہی پیج پر ہیں۔
طالبان کا اسلامی نظام اسلام کی روایتی تعبیر پر استوار ہے جس میں انتخابات، آزادی بیان، خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہے طالبان کے نزدیک کوئی بھی ان کے نظام کے مقابل کسی اور سیاسی نظام کی بات کرتا ہے تو وہ اسلام کا دشمن ہے۔ گزشتہ سال طالبان نے قطر میں مذاکرات میں اس بات پر زور دیا کہ ملکی سطح پر علما کی ایک کونسل (شوری حل و عقد) تشکیل دی جائے جو امیر المومنین کا انتخاب کرے اور قوانین بھی بنائے شاید طالبان کے اسلامی نظام کا یہی وہ خاکہ ہے جسے بقول سہیل شاہین دوسری پارٹی کے سامنے رکھا گیا ہے جس کے مطابق طالبان اپنی دینی تعبیر کی بنیاد پر تمام اختیارات امیرالمومنین کو دے کر در واقع بدترین استبداد کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔
طالبان تبدیل ہو گئے کے بیانیہ کو پروان چڑھانے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ طالبان اقتدار حاصل کرتے ہیں تو اسی نظام کو فالو کریں گے جس کی بنیاد پر پانچ سال حکومت کر چکے ہیں اس لئے کہ انہوں نے آج تک 1996 سے 2001 کی حکومت کو کبھی بھی غیر اسلامی نہیں کہا اور نہ کہیں گے بلکہ وہ اس حکومت کو اپنے لئے آئیڈیل قرار دیتے ہیں وہ بدترین حکومت جس میں کسی طرح کا کوئی آئین و قانون ہی موجود نہیں تھا وہ بدترین حکومت جس کا ہم و غم صرف لوگوں کے عقائد کی تفتیش تھا۔
طالبان کی پانچ سالہ حکومت کی بدترین بد نظمی اور بد انتظامی کو یقیناً نظام سے تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ وہ حکومت جو کسی آئین و قانون کی پابند نہ تھی۔ وہ حکومت جس کا تمام تر آئینی اور قانونی اثاثہ ”قانون شریعت امارت اسلامی طالبان کے عنوان کے تحت 15 ہدایات کا مجموعہ تھا جس میں امر بالمعروف اور دوسرے سادہ شرعی احکامات کا بیان تھا جن کی بنیاد پر داڑھی نہ رکھنے والوں، محرم کے بغیر گھر سے باہر نکلنے والی خواتین کو سر عام کوڑے مارے جاتے تھے۔
یا یوں کہہ لیجیے کہ مختلف امور میں طالبان کی دینی تعبیر ہی درحقیقت قانون کا درجہ رکھتی تھی اسی خشک دینی تعبیر کی بنیاد پر طالبان کا عقیدہ تھا کہ شریعت کے ہوتے ہوئے کسی بھی طرح کی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ طالبان کی پانچ سالہ حکومت کا ڈھانچہ امارت اسلامی طالبان کے الفاظ اور امیر المومنین سے عبارت تھا اگر چہ وزرا کونسل وغیرہ موجود تھیں لیکن ہر طرح کا اختیار صرف طالبانی امیر المومنین کو حاصل تھا۔
اسی طرح طالبان کے اسلامی نظام کے مطابق خلیفہ یا امیر المومنین خدا کی طرف سے حق حکومت رکھتا ہے ان کی دانست میں، اگر چہ امیر المومنین اہل حل و عقد کی بیعت سے منصوب ہوتا ہے لیکن یہ عمل صرف مشروعیت الہی کی تفویض ہے۔ اس کے بعد اس کی اطاعت واجب ہے اور مخالفت کفر یعنی اس نظام کے مطابق شہریوں کی رضایت یا عدم رضایت کا حاکم بنانے یا اسے ہٹانے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
اب ایک بار پھر تبدیل شدہ طالبان کی طرف آ جاتے ہیں جب سلیم صافی طالبان ترجمان سے پوچھتے ہیں کہ آپ نے ملا ہیبت اللہ کے ہاتھ پر بطور امیر بیعت کی ہوئی ہے ان کے ہوتے ہوئے کسی کو حکمران نہیں مان سکتے چین روس پاکستان نے بھی کہہ دیا ہے کہ انہیں امارت اسلامی قبول نہیں ہے کیا امارت اسلامی کے کنسیپٹ پر کوئی کمپرومائز کر سکتے ہیں؟ جواب میں کہتے ہیں مذاکرات ہمارے سپریم لیڈر کی ہدایت کے مطابق ہو رہے ہیں۔ طالبان کی سوچ کی تبدیلی کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب ملتا ہے ہم سائنس کے کانٹینٹ کو اسلامی بنائیں گے۔ خواتین کو پردے کے بغیر میڈیا پر نہیں آنے دیں گے عوام موسیقی سنیں یا نہ سنیں یہ فیصلہ ہمارے مفتیان کریں گے۔
طاقت کے زور پر ملک میں انتشار، امارت اسلامی کے بے بنیاد اور فرسودہ نظام کو منوانے پر اصرار، علاقوں پر قبضہ، عوام اور حکومتی اہلکاروں کا قتل عام نذر محمد خاشہ زوان جیسے حساس فنکار کا قتل یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ تبدیل شدہ طالبان کا اسلامی نظام، جمہوری، انسانی اور اسلامی اقدار سے کتنا ہم آہنگ ہے۔


