کھلاڑی وزیر اعظم اور کھیلوں میں قومی کارکردگی


جن دنوں لاہور میں ورزش کے لئے نیشنل ٹریننگ اینڈ کوچنگ سنٹر جایا کرتا تو ساتھ قومی سطح کے کئی کھلاڑی مشق کرتے۔ ساؤتھ ایشیا میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے عبدالمجید ماڑو والا پہلوان  ’فری سٹائل ریسلنگ میں سرخ لمبے بالوں والے کلین شیو رفیق نیازی جو کونان دی باربیرین والے آرنلڈ شیورزنگر جیسے نظر آتے اور ایک طرف لکڑی کے پلیٹ فارم پر مشق کرتے ویٹ لفٹر۔ ان دنوں عقیل جاوید بٹ کا شہرہ تھا۔ عقیل بٹ نے ایشین لیول تک کئی میڈل جیتے۔

ان کے بیٹے سے چند سال پہلے سرسری ملاقات ہوئی۔ وہ بھی ویٹ لفٹنگ کر رہا ہے۔ جب تک لاہور اور اس کے گردونواح میں میلوں کی روایت رہی‘  ہم نے دیکھا کہ ایک کھلی جگہ مختلف وزن کے پتھر اور ویٹ رکھے ہوتے۔ میلے میں اکڑ کر چلنا  ’خواہ مخواہ لڑائی مول لینا اور گھوری ڈال کر دیکھنا عام تھا۔ جن امن پسند لوگوں کو طاقت دکھانے کا شوق ہوتا وہ اکثر دنگا فساد کی بجائے ویٹ اٹھا کر اپنی جان دکھاتے۔ بچپن میں دیکھے یہ مشاغل اب خواب ہو چکے۔

اولمپکس مقابلوں میں نمایاں رہنے والے طلحہ طالب کی ویٹ اٹھانے والی ویڈیو دیکھی ہیں۔ وہ کسی سکول کے احاطے میں مشق کر رہا ہے‘  ایک ویڈیو میں اس کے والد بیٹے کی صلاحیت کی طرف اداروں اور حکومت کی توجہ دلا رہے ہیں۔ مجھے اچھا لگا۔ وہ دور یاد آ گیا جب ابا جی میرا ہر مقابلہ دیکھنے جایا کرتے۔ ہم بھی لکڑی کے بنچوں اور ناکافی سامان کے ساتھ گرمی سردی کھلی جگہ پر ورزش کیا کرتے۔ میں ہمیشہ رنر اپ ہوتا یا تیسرے نمبر پر۔

ٹائٹل جیتنے کے وسائل نہیں تھے۔ تب ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑتے تھے اور میرے پاس فقط تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی سکت تھی۔ آج بھی مسٹر لاہور  ’مسٹر پنجاب اور مسٹر پاکستان کی تیاری کرنے والے نوجوان ایک مقابلے پر پانچ سے دس لاکھ خرچ کر دیتے ہیں۔ لوگ ٹائٹل ہولڈر کا نام جانتے ہیں‘  دوسری  ’تیسری‘  چوتھی یا پانچویں پوزیشن کچھ نہیں ہوتی۔ طلحہ کم عمر ہے  ’بلاصلاحیت ہے وہ گولڈ میڈل جیتنے والا کھلاڑی ہے۔ اسے ذہنی طور پر مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ وہ جان سکے کہ پانچویں پوزیشن کچھ نہیں ہوتی۔

اس بار اولمپکس میں شرکت کے لئے پاکستان کا بائیس رکنی دستہ ٹوکیو گیا۔ دس کھلاڑی تھے اور بارہ آفیشلز۔ ہر کھیل کی الگ ایسوسی ایشن ہے۔ پھر ہاکی‘  والی بال  ’ویٹ لفٹنگ‘  اتھلیٹکس  ’باکسنگ‘  سوئمنگ  ’روئنگ‘  کراٹے  ’ریسلنگ‘  سائیکلنگ  ’ٹینس اور باسکٹ بال کی ایسوسی ایشن مل کر پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن بناتی ہیں۔ اس ایسوسی ایشن کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ ہر چار سال بعد ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں کے لئے کھلاڑیوں کو تلاش کر کے ان پر محنت کی جائے۔

ہمارا حال یہ ہے کہ ہر کھیل کی ایسوسی ایشن پر مخصوص بیوروکریٹس، چند سابق کھلاڑیوں اور ریٹائرڈ افسروں کا تسلط ہے۔ جو فنڈز ملتے ہیں وہ آفیشلز اپنے بیرونی دوروں، الاؤنسز اور دفاتر کے اخراجات پر خرچ کر ڈالتے ہیں۔ جب کسی مقابلے کا وقت آتا ہے تو میڈیا پر فنڈز نہ ہونے کا رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ یہی لوٹ مار ہے جو کھلاڑیوں تک فنڈز پہنچنے نہیں دیتی۔ غریب گھروں کے ہونہار کھلاڑی ٹریک سوٹ ملنے پر ہی خوش ہو جاتے ہیں‘  ان کی خوراک اور ٹریننگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

حالت یہ ہے کہ ہر کھیل کی ایسوسی ایشن کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے  ’فٹ بال ایسوسی ایشن اپنی حرکتوں کے باعث عالمی پابندی لگوا چکی‘  گزشتہ دس بارہ سال سے اولمپکس ایسوسی ایشن بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ کھلاڑیوں کی مدد اور کھیل کی ترویج کے لئے جو فنڈز باہر سے آتے ہیں وہ آفیشلز ہڑپ کر جاتے ہیں۔ قانونی طور پر حکومت بین الاقوامی فنڈز کا آڈٹ نہیں کر سکتی اس لئے یہ لوگ اور بھی شیر ہو جاتے ہیں۔ عمران خان کے جلسوں میں بہت سے کھلاڑی شریک ہوتے رہے  ’کھیل سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس امید پر ان کا ساتھ دیا کہ وہ نئے میدان بنائیں گے۔ اچھے کوچ لے کر آئیں گے‘  کھلاڑیوں کو سہولیات مہیا کریں گے  ’لڑکیوں کے لئے گھر کے قریب الگ سپورٹس سنٹر بنائیں گے، کچھ بھی نہیں ہوا۔ کرکٹ ٹیم کے دوستوں کے سوا عمران خان نے آج تک کسی کھلاڑی یا کھیلوں کی ایسوسی ایشن سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے جہانگیر خان‘  جان شیر خان  ’سنوکر کے محمد آصف اور ہاکی کے عالمی چمپئن رہنے والے کھلاڑیوں سے بھی مشورہ نہیں کیا۔ حد تو یہ کہ جس کرکٹ ڈھانچے سے ہیرو نکلا کرتے تھے‘  عمران خان نے اپنی ضد کی بھینٹ چڑھا کر وہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم کر دی  ’پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، سوئی گیس، حبیب بینک، کسٹمز جیسے محکموں میں ملازم سینکڑوں غریب کھلاڑی بیروزگار ہو گئے۔

نتیجہ یہ کہ اب ہمارے پاس 20 اوور کے سٹیمنا والے کھلاڑی آ رہے ہیں‘  انہیں پورا دن یا پانچ روز میدان میں رہنا پڑ جائے تو ان فٹ ہو جاتے ہیں۔ پاکستان نے مدت سے کوئی اولمپک میڈل نہیں جیتا۔ سالہا سال تک عہدوں سے چپکے افراد مقابلوں کے دوران اپنی کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسرے ملکوں میں مقیم پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو دستے میں شامل کرتے ہیں یا پھر ایک آدھ طلحہ طالب انہیں کہیں پریکٹس کرتا مل جاتا ہے جس کی محنت اور شوق کو بڑی چالاکی کے ساتھ وزارت کھیل  ’اولمپکس ایسوسی ایشن اور متعلقہ ایسوسی ایشن کے عہدیدار اپنی عمدہ کارکردگی بنا کر میڈیا میں مہم چلا لیتے ہیں۔

پنجابی کا محاورہ ہے : گھوڑے اپنی شرماں نوں دوڑ دے نیں۔ یعنی گھوڑے اپنی عزت رکھنے کے لئے دوڑتے ہیں‘  وسائل سے محروم غریب اچھے مستقبل کی امید میں جوانی کے سنہرے دن کھیل کی نذر کر دیتے ہیں اور بڑھاپے میں رکشہ چلاتے ہیں۔ پاکستان کی اپر کلاس اپنے بچوں کو ملک لوٹنے کے طریقے بتاتی ہے  ’بچوں کو پیدا ہوتے ہی پارٹی سربراہ اور ولی عہد بنا دیا جاتا ہے۔ یہ غریب گھرانے ہیں جن کے بچے خود کو منوانے کے لئے ہر آگ میں کودنے کو تیار رہتے ہیں۔ اب یہ ان کی قسمت کہ ایک کھلاڑی وزیر اعظم کے عہد میں بھی وہ بار بار آگ میں پھینکے جا رہے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments