آزاد کشمیر میں بیروزگاری کے مسائل کا حل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرسبز و شاداب وادیوں، مہکتے پھولوں، بہتے دریاؤں، گنگناتی آبشاروں اور فلک بوس پہاڑوں پر مشتمل جنت نظیر خطہ آزاد کشمیر کا رقبہ تقریباً13297 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریباً43 لاکھ ہے، زیادہ تر آبادی پڑھے لکھے افراد پر مشتمل ہے اور شرح خواندگی تقریباً74فی صد ہے، اور فی کس آمدنی 1512 امریکی ڈالر ہے، لیکن یہاں پر بے روزگاری کی شرح 4۔ 14فی صد ہے جو پاکستان کی45۔ 4فی صد شرح کے حساب سے بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ یہاں پر صنعتی ڈھانچے کی عدم موجودگی ہے اور زرعی شعبہ غیر مربوط ہونے اور عدم توجہ کی وجہ سے روزگار کے مناسب مواقع مہیا کرنے سے قاصر ہے، مقامی آبادی کا زیادہ تر دار و مدار ملازمتوں پر ہے جن کے مواقع مقامی سطح پر محدود ہونے کی وجہ سے زیادہ لوگ پاکستان اور بیرون ملک میں ملازمت پر انحصار کرتے ہیں جب کہ پاکستان ازخود بیروزگاری کے مسائل سے دوچار ہے اس لئے کشمیر میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے۔

بڑھتی ہوئی بے روزگاری بہت سے سماجی مسائل کو جنم دیتی ہے، جس کا حل مقامی سطح پر روزگار کے مواقع مہیا ہونا ہے، آزاد کشمیر قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن ان کو کماحقہ استعمال کرنے کے لئے کوئی مربوط پروگرام نہیں بنایا گیا جس کی وجہ سے مقامی آبادی ابھی تک ان وسائل سے استفادہ کرنے سے محروم ہے، افسوس ناک امر یہ ہے کہ آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات میں کسی بھی جماعت یا امیدوار نے روزگار کی فراہمی کے حوالے سے کسی پالیسی کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ نہیں بنایا اور زیادہ تر زبانی جمع خرچ اور الزام تراشیوں کو ہی اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا۔

آزاد کشمیر میں تین بڑے دریاؤں کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے ندی نالے بہتے ہیں جن سے تقریباً بیس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس میں سے ابھی تک چار ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے، اگر بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کی جائے تو کئی صنعتی منصوبے جیسے چھوٹی صنعتیں، آئی ٹی پارک، کاٹیج انڈسٹری، وغیرہ لگائے جا سکتے ہیں جن سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

معدنیات کے شعبے میں بھی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے کیوں کہ آزاد کشمیر میں باکسائٹ، تانبہ، لوہا، گریفائٹ، ابرق، لیتھئیم، یورینیم، کوئلہ اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں لیکن ابھی تک اس شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور وادی نیلم میں موجود قیمتی پتھروں کی چوری اور سمگلنگ سے ان قیمتی وسائل کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے، اگر اس شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے تو مقامی آبادی کو روزگار مہیا کیا جا سکتا ہے۔

آزاد کشمیر میں تقریباً 42فی صد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے اور ریاست کی تقریباً ساٹھ فی صد آمدنی کا دار و مدار جنگلات پر ہے لیکن درختوں کی بے دردی سے کٹائی، آتشزدگی، چوری اور سمگلنگ سے جنگلات تباہ ہو رہے ہیں لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لئے شجرکاری کی مربوط منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جنگلات کا رقبہ تیزی سے کم ہو رہا ہے، اگر جنگلات کے وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے اور اس کو صنعت کی شکل دی جائے تو اس شعبے میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

زراعت کسی بھی ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے لیکن آزاد کشمیر میں یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے، زراعت اور لائیو سٹاک کے حکومتی ادارے تو موجود ہیں اور ان کے وزرا، افسران اور دیگر عملہ بھی بھاری تنخواہیں اور دیگر مراعات وصول کر رہے ہیں لیکن عملاً ان کی کارکردگی صفر ہے، اگرچہ آزاد کشمیر کا زیادہ تر رقبہ پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے لیکن مقامی موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی زرعی اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کی گنجائش موجود ہے جس سے مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں، آزاد کشمیر کا موسم سیب، انار، آڑو، آلو بخارا، خوبانی، چلغوزے اور بادام کی اعلیٰ اقسام پیدا کرنے کے لئے موزوں ہے جن کی پیداوار بہت کم ہے اور اس کو بڑھایا جا سکتا ہے، زیادہ تر پہاڑی علاقوں میں ایک خودرو درخت بکثرت پایا جاتا ہے جس کو مقامی زبان میں۔

کہو کہتے ہیں، یہ زیتون کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اس پر زیتون کی پیوندکاری بھی کی جاتی ہے اگر اس شعبے پر توجہ دی جائے تو زیتون کی کثیر پیداوار ممکن ہے جس سے روزگار کے وسیع مواقع میسر آ سکتے ہیں، آزاد کشمیر کے سرسبز علاقوں میں وسیع چراگاہوں کی موجودگی ڈیری فارمنگ کے لئے انتہائی موزوں ہے جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار کے ذریعے مقامی آبادی کو روزگار مہیا ہو سکتا ہے لیکن یہ شعبہ بھی دیگر شعبوں کی طرح حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے۔

آزاد کشمیر کے دریاوں، ندی نالوں اور منگلا ڈیم سے مچھلی کی کثیر پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے جس سے مقامی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ روزگار کے مواقع بھی مہیا کیے جا سکتے ہیں لیکن فی الحال پیداوار بہت کم ہے جو توجہ کی متقاضی ہے، وادی نیلم میں تاؤ بٹ اور گرد و نواح میں اعلٰی نسل کی ٹراؤٹ مچھلی پیدا ہوتی ہے جس کی مقدار بہت کم ہے جس کو بڑھانے کے اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کو صنعت کا درجہ دے کر اور سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع مہیا کیے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ تمام مجوزہ اقدامات حکومتی توجہ اور سرپرستی کی بغیر مفید ثابت نہیں ہو سکتے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنی سوچ اور رویوں کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ا اللھتعالیٰ بھی ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں، نوجوانوں کو چاہیے کہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر صرف ملازمتیں ملنے کا انتظار نہ کریں بلکہ خود بھی آگے بڑھیں اور چھوٹے کاروباری، زرعی اور صنعتی منصوبے، خود بنائیں اور اپنے حصے کی شمع روشن کریں اور اپنے اور دوسروں کے بھی کام آئیں کیوں کہ چراغ سے چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments