جب نیپالی پنڈت رفیع صاحب کو بھگوان سمجھ کر عقیدت کے پھول چڑھانے پیدل ممبئی پہنچا
گائیکی کے سرتاج، برصغیر کے لافانی گلوکار محمد رفیع کی وفات کو چار دہائیاں بیت جانے کے باوجود ان کی آواز کی چاشنی، جادو اور مقبولیت آج بھی برقرار ہے۔ ”آج موسم بڑا، بے ایمان ہے بڑا، بے ایمان ہے آج موسم“ ، ”چلو دلدار چلو، چاند کے پار چلو“ ، ”آنے سے اس کے آئے بہار“ ، ”چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو“ ، ”کھلونا جان کر تم تو مرا دل توڑ جاتے ہو“ اور ”وہ جب یاد آئے بہت یاد آئے“ سمیت سیکڑوں ایسے سدا بہار گیت ہیں جو آج بھی سننے والے کو سروں کی لہروں میں بہا لے جاتے ہیں، بھلا کون سوچ سکتا ہے کہ ایک شخص ایک ہی موضوع کو سو طریقے سے گانے پر قادر ہو، غم، خوشی، محبت، نفرت جیسے جذبات سمیت قوالی، غزل، بھجن حتی کہ نعت تک بھی کوئی ایسے گا سکتا ہے کہ تخصیص مشکل ہو۔
رفیع صاحب 24 دسمبر 1924 ء کو امرتسر کے قریب واقع ایک گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ کے ایک چھوٹے سے بھرے پرے گھر میں پیدا ہوئے، غالباً 1933 ء میں ان کا خاندان امرتسر چھوڑ کر لاہور آ بسا۔ یہاں سے شروع ہوئی اس محمد رفیع کی زندگی جو آج برصغیر کی ساز و آواز کے بے تاج بادشاہ ہیں، بھاٹی گیٹ لاہور میں واقع نائی کی دکان اور ان کے بھائی کے دوست عبدالحمید نے صرف برصغیر کو ایک گلوکار ہی نہیں دیا بلکہ انہوں نے فن گائیکی کو اس بلند مقام پر پہنچانے کا وسیلہ بھی فراہم کیا جس کا تصور ہی محال تھا۔
رفیع صاحب کے خاندان میں موسیقی اور گائیکی کو برا سمجھا جاتا لیکن عبدالحمید کی پر زور سفارش پر رفیع صاحب کے اہل خانہ نے بادل نخواستہ ان کو موسیقی سیکھنے کی اجازت دے دی، زمانہ طالب علمی میں ہی محض 13 سال کی عمر میں انہوں نے لاہور میں کے۔ ایل سہگل کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا، 1944 ء کی پنجابی فلم ”گل بلوچ“ کے ذریعے شیام سندر نے انہیں فلمی دنیا کا راستہ دکھایا، تاہم یہ ان کی منزل نہ تھی، ان کی نظریں ممبئی پر جمی ہوئی تھیں جہاں کے ایل سہگل کا طوطی بول رہا تھا۔
ایسا نہ تھا کہ لاہور میں مشہور محمد رفیع کو ممبئی میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، ممبئی کے ایل سہگل کی راجدھانی تھی جبکہ وہ خود بھی سہگل کے متاثرین میں سے تھے سو ان کی حیثیت بس واجبی سی تھی، چند ایک فلموں میں گانے کا موقع بھی ملا جن میں اہم ترین محبوب خان کی سپرہٹ فلم ”انمول گھڑی“ ہے جس میں انہوں نے صف اول کی گلوکارہ ملکہ ترنم نور جہاں کے مقابل ”تیرا کھلونا ٹوٹا بالک“ گایا، اس فلم کے موسیقار نوشاد علی تھے، نوشاد علی کی جہاندیدہ نظروں نے مستقبل کو بھانپ لیا، وہ سمجھ گئے نوجوان گلوکار کی صورت ایک نئے عہد کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔
اس نئے عہد کا آغاز 1947 ء کو شوکت حسین رضوی کی فلم ”جگنو“ کے اس گیت سے ہوا ”یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے“ ، دلچسپ بات یہ ہے اس خوبصورت فلم سے اداکاری کے میدان میں بھی دلیپ کمار کی صورت ایک نئے عہد کا آغاز ہوا، شوکت حسین رضوی اور نور جہاں اس فلم کے بعد نوزائیدہ پاکستان ہجرت کر گئے مگر وہ جاتے جاتے برصغیر کو دو انمول رتنوں سے سرفراز کر گئے، ایک تھے دلیپ کمار اور دوسرے محمد رفیع۔
اس کے بعد محمد رفیع سہگل کی راجدھانی (کندن لال سہگل اسی سال وفات پا گئے ) پر قبضہ کر گئے، ان کی آواز کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا، وہ جو گاتے ہر دلعزیز ہو جاتا، حتی کہ وہ ہر ہدایت کار و موسیقار کی پہلی پسند کا درجہ اختیار کر گئے۔
رفیع صاحب زیادہ پڑھے لکھے نہ تھے اس لئے تلفظ اور گیتوں کو یاد کرنے، آواز کو سنگیت کے زیر و بم سے ملانے کے لئے لاہور کی تعلیم ناکافی تھی، اس کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے شبانہ روز محنت کی، ایک ایک گانے کے ریاض پر انہوں نے گھنٹوں صرف کیے، کلاسیک موسیقی کو گھول کر پی لیا، سر اور تال کے اسرار سمجھنے کے لئے زندگی کھپا دی، اس محنت کا نتیجہ یہ نکلا ان کے فن کا تاثر گہرے سے گہرا ترین ہوتا گیا، وہ آواز کو ہر سچویشن میں ڈھالنے پر قادر ہو گئے، نشیلی، غمگین، رونی، مستی، عاشقانہ، حب الوطنی الغرض وہ ہر قسم کی آواز بڑی خوبصورتی سے نکال لیتے۔
ان کے گہرے اثر کا اندازہ اس مشہور واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک نیپالی پنڈت نے جب نیپال میں رفیع صاحب کا بھجن سنا تو وہ ان کو بھگوان سمجھ کر عقیدت کے پھول چڑھانے پیدل ممبئی پہنچے، ممبئی پہنچنے کے بعد انہیں یہ جان کر یقین نہ آیا کہ اس عقیدت اور سوز کے ساتھ بھجن گانے والا ایک پنج وقتہ نمازی مسلمان ہے، پنڈت نے بڑی عقیدت کے ساتھ ان کے ہاتھ چھومے اور نیپال چلے گئے، سری لنکا کی ایک عوامی محفل میں سری لنکن صدر و وزیر اعظم سمیت لاکھوں افراد کا مجمع آخر تک سحر زدہ حالت میں انہیں سنتا رہا۔
یہ عزت اور شہرت انہیں اپنے فن سے بے انتہا اخلاص اور دن رات کی محنت سے ملی تھی، کہا جاتا ہے کہ برصغیر کی شہرہ آفاق فلم ”بیجو باورا“ کا گانا ”او دنیا کے رکھوالے، سن درد بھرے میرے نالے“ گانے سے قبل انہوں نے تقریباً درجن بار اس کی ریاضت کی، اس شدید محنت کے باعث ان کا گلا تک بیٹھ گیا اور اندیشہ ہوا شاید وہ پھر کبھی نہ گا سکیں گے مگر پھر چشم فلک نے دیکھا کہ وہ تھے، ساز تھے اور کروڑوں سامعین تھے، 1960 ء کی دہائی آتے آتے ہندی سینما کی موسیقی کا دوسرا نام محمد رفیع بن چکا تھا، ساٹھ کی دہائی میں نوے فیصد فلمی گیت ان کو ملتے اور باقی دس فیصد دیگر گلوکاروں میں تقسیم ہوتے تھے، حتی کہ ان کے ہونٹوں سے جو بھی برآمد ہوتا شاہکار بن جاتا۔
عظیم موسیقار نوشاد علی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رات گئے میرے دروازے پر دستک ہوئی، میں آنکھیں ملتا باہر نکلا، باہر محمد رفیع کو کھڑا دیکھ کر میں پریشان ہو گیا، استفسار پر انہوں نے مجھے بتایا آج جو گانا ہم نے فائنل کیا ہے میں اس سے مطمئن نہیں ہوں اس لئے نیند نہیں آ رہی چلیں اسے دوبارہ ریکارڈ کرتے ہیں، نوشاد علی کے مطابق میں نے کہا گانا بالکل ٹھیک ہے، مطمئن رہیے مگر بے چین رفیع کو قرار نہ آیا۔ ان کے اصرار پر میں نے کپڑے بدلے، اسٹوڈیو پہنچے اور گانا پھر ریکارڈ کیا۔
اپنے فن سے حد درجہ عشق ہی وہ قوت ہے جس نے ہر کسی کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ محمد رفیع جیسا نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہوگا۔ افسوس محمد رفیع اپنی تمام تر عظمت اور خلاقی کے باوجود بھارتی حکومت کی جانب سے نظر انداز کیے گئے، وہ ہندوستان کے سب سے بڑے سول اعزاز ”بھارت رتن“ کے حق دار تھے مگر ان کو دوسرے اہم اعزاز ”پدما بھوشن“ کے بھی قابل نہ سمجھا گیا، ایک احسان سمجھ کر انہیں تیسرے درجے کے اعزاز ”پدما شری“ سے نوازا گیا، ایک ایسا فنکار جن کی عظمت کا اعتراف جواہر لال نہرو سمیت ایک جہان کرتا ہے ان کی یہ حق تلفی بلاشبہ بھارتی حکومت کے نام نہاد میرٹ پر سوالیہ نشان ہے۔
حکومت کی عدم دلچسپی کے برخلاف ان کے گیتوں سے امید پانے والے عوام، محنت کش عوام نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا، 31 جولائی 1980 ء کو جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو تقریباً پورے برصغیر نے سوگ منایا، بارش کے باوجود بلاتخصیص رنگ، نسل و مذہب ان کے جنازے پر ایک خلقت امنڈ آئی، میڈیا کے مطابق پندرہ ہزار افراد نے ان کے جنازے میں شرکت کی، یہ اعزاز آج تک کسی فنکار کو نصیب نہ ہوا، یقیناً رفیع صاحب رہتی دنیا تک بھلائے نہ جا سکیں گے۔




