کیا پاکستان ہاکی دوبارہ زندہ ہو گی؟

ہمارے ایک ویٹ لفٹر طلحہٰ طالب نے ٹوکیو اولمپکس میں ویٹ لفٹنگ میں پانچویں پوزیشن حاصل کر کے ہمیں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جناب ٹوکیو میں اولمپکس نام کی کھیلیں بھی ہو رہی ہیں۔ جاپان، چین، امریکہ وغیرہ کے کھلاڑی سونے، چاندی اور کانسی کے تمغے دھڑا دھڑ جیت رہے ہیں۔ ہم بچپن سے پچپن تک آ گئے لیکن پاکستان کبھی ان کھیلوں میں کوئی نمایاں مقام حاصل نہ کر سکا۔ ایک سوال ہمیں اکثر پریشان کرتا ہے کیا ہم دوڑ بھی نہیں سکتے؟

ہمارے اتھلیٹس دوڑ کے مقابلوں میں بھی کہیں بہت ہی دور بھٹک رہے ہوتے ہیں۔ بیڈ منٹن، تیراکی، نیزہ بازی، کشتی، جوڈو کراٹے، نشانہ بازی وغیرہ میں وکٹری اسٹینڈ کے کہیں قریب قریب بھی ہمارا نام و نشان ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اب کی بار بھی ٹوٹل ملا کر ہمارے دس کھلاڑی ان کھیلوں میں شریک ہیں۔ اب تک کی رپورٹ کے مطابق اس میں سے پانچ فارغ ہو چکے ہیں۔ باقی پانچ سے بھی کسی معجزے کی توقع نہیں۔ بس گلاس توڑا بارہ آنے والی بات ہے۔

ماضی میں بھی اولمپکس میں ہماری کارکردگی اس سے مختلف نہیں ہوتی تھی۔ بس ہاکی ایسا کھیل تھا جس کی وجہ سے اولمپکس میں ہماری دلچسپی ہوتی تھی کیوں کہ اسی میں ہمارا وکٹری اسٹینڈ پر پہنچنے کا کوئی امکان ہوتا تھا۔ ہم نے پہلی بار 1948 میں اولمپکس کھیلوں میں حصہ لیا۔ ہاکی کے میدان میں اب تک مجموعی طور پر ہم نے تین بار سونے، تین بار چاندی اور دو بار کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ اولمپکس کے علاوہ ہاکی کے عالمی کپ میں ہم نے چار بار سونے اور دو بار چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔

چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان نے تین بار سونے، سات بار چاندی اور سات بار ہی کانسی کا تمغہ جیتا۔ جہاں تک ایشیائی کھیلوں کا تعلق ہے ہاکی کے میدان میں ہم نے آٹھ بار سونے، تین بار چاندی اور تین بار ہی کانسی کا تمغہ جیتا۔ 1979 میں آسٹریلیا میں ہونے والا ”ایسنڈا ہاکی ٹورنامنٹ“ بھی ہم نے ہی جیتا تھا۔ ہم نے ہاکی میں ایسا عروج بھی دیکھا کہ 1980 میں اولمپکس کے علاوہ ہاکی کے تمام گولڈ میڈلز ہمارے پاس تھے۔ ان اولمپکس میں بھی ہماری کامیابی یقینی تھی۔

1980 کے اولمپکس روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہوئے تھے۔ 1979 میں روسی افواج افغانستان پر چڑھ دوڑی تھیں۔ روس ان دنوں سوویت یونین کہلاتا تھا اور امریکہ کے ساتھ اس کی سرد جنگ اور مخاصمت عروج پر تھی۔ دنیا سوویت اور امریکی بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی۔ پاکستان امریکی بلاک کا حصہ تھا اور امریکہ کے زیر اثر ممالک نے سوویت فوجوں کی افغانستان میں دراندازی کے خلاف بطور احتجاج ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ پاکستان کی عدم موجودگی کا بھارت نے خوب فائدہ اٹھایا اور وہ اس سال ہاکی کا اولمپک چیمپئن بن گیا۔ ان دنوں پاکستان کی ہاکی ٹیم اپنے عروج پر تھی۔ اس لئے پاکستان کے پاس سنہری موقع تھا کہ ہاکی کے تمام عالمی اعزازات کے ساتھ ساتھ اولمپکس میں بھی ہم ہاکی کے چیمپئن ہوتے۔ اس بائیکاٹ کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔

جہاں تک درجہ بندی کا سوال ہے پاکستان 2000 اور 2001 میں پہلی پوزیشن پر تھا۔ 2004 میں چوتھی اور اب خیر سے 18 ویں پوزیشن پر ہے۔ یہ اسی درجہ بندی کا کمال ہے کہ ایک وقت کا ہاکی کا بے تاج بادشاہ ٹوکیو اولمپکس میں ہاکی کے لئے کوالیفائی ہی نہیں کر سکا۔ ہمارے لئے یہ انتہائی صدمے کی بات ہے کہ ان اولمپکس میں ہماری ہاکی ٹیم کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ہے۔ مزید صدمے کی بات یہ کہ دوسرے بہت سے میدانوں کی طرح ہاکی میں بھی ہمارا روایتی حریف بھارت ٹوکیو اولمپکس میں شرکت کر رہا ہے۔ اپنا غم ہلکا کرنے کے لئے ہم اسی میں خوش ہو رہے تھے کہ انڈیا آسٹریلیا سے اپنا دوسرا میچ بری طرح ہار گیا۔ ہمارے اخبارات نے اس بھارتی شکست کو بہت نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ اس نے اپنا پہلا میچ جیت لیا تھا اور اب تک کی صورت حال کے مطابق وہ کوارٹر فائنل تک پہنچ چکا ہے۔

ایک وقت تھا کہ یہ تصور ہی نہیں تھا کہ دنیا کا کوئی بڑا یا چھوٹا ٹورنامنٹ پاکستان کے بغیر کھیلا جائے۔ اب ہم اٹھارہویں پوزیشن پر لڑھکتے پھر رہے ہیں جب کہ ارجنٹائن، جاپان، نیوزی لینڈ، یبلجیم اور کینیڈا جیسی نسبتاً کمزور ٹیمیں اولمپکس کے مقابلوں میں شریک ہیں۔ ارجنٹائن اگرچہ اولمپکس ہاکی کا دفاعی چیمپیئن ہے لیکن پھر بھی اس کا شمار بہت مضبوط ٹیموں میں نہیں ہوتا۔ یاد رہے کہ 2016 کے اولمپکس میں بھی ہم کوالیفائی نہیں کر سکے تھے۔ چار بار کا عالمی چیمپئن پاکستان 2014 کے ہاکی ورلڈ کپ میں بھی شرکت کے اہل نہیں سمجھا گیا تھا۔ اب ہمیں ان ٹورنامنٹس میں شمولیت کے لئے پہلے کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلنے کی ذلت اٹھانی پڑتی ہے اور ہم اس میں بھی ناکام رہتے ہیں۔

پاکستان کی ہاکی نے وہ عروج بھی دیکھا کہ ہماری جیت اتنی متوقع ہوتی تھی کہ جیت کی خبر معمول کی ہوتی تھی۔ تھرتھلی اس دن مچتی تھی جس دن پاکستان ہار جاتا تھا۔ لوگ پاکستان کی ہار پر حیران ہو رہے ہوتے تھے کہ ہیں پاکستان ہار گیا۔ اصلاح الدین ہماری ہاکی ٹیم کے رائٹ آؤٹ اور کپتان رہے ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں وہ بتا رہے تھے کہ اولمپکس کے مقابلوں کے دوران پوری دنیا سے ہزاروں کھلاڑی اکٹھے ہوتے تھے۔ ان میں سے کئی ممالک کے نام پہلی بار ہی سننے کو ملتے ہیں۔

وہاں کھلاڑی ہم سے ہمارے ملک کا نام پوچھتے۔ ہمارے بتانے پر وہ کہتے اچھا اچھا وہ ہاکی والا پاکستان۔ یعنی صرف ہاکی کے کھیل میں ہماری شاندار کارکردگی ہی ہماری پہچان بن جاتی تھی۔ انفرادی کارکردگی کو دیکھا جائے تو پاکستان کے سہیل عباس نے سب سے زیادہ 348 گول کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ ایک اور کھلاڑی وسیم احمد نے پاکستان کے لئے سب سے زیادہ 410 میچوں میں حصہ لیا۔ لیفٹ آؤٹ کی پوزیشن پر کھیلنے والے سمیع اللہ کی برق رفتاری پر انہیں فلائنگ ہارس کا خطاب ملا۔

عروج کے دنوں میں ہمارے پاس عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کی ایک پوری کھیپ ہوتی تھی۔ سمیع اللہ کے ساتھ ان کے بھائی کلیم اللہ، اصلاح الدین صدیقی، منور الزماں، منظور الحسن، حنیف خان، اختر رسول، منظور جونیئر، شہناز شیخ، رشید جونیئر۔ کس کس کا نام لیں۔ شہباز سینئر اور حسن سردار کی ہاکیوں کے ساتھ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ گوند لگی ہوئی ہے۔ گیند بس ہاکی کے ساتھ چپکی ہی رہتی تھی۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر اس عروج کو زوال کیسے آیا؟ ہمارے خیال میں اس کی بہت سی وجوہات ہیں : سب سے بڑی وجہ کھیلوں کے درمیان عدم توازن ہے۔ ہم نے سارا پیسا اور گلیمر کرکٹ میں اکٹھا کر دیا ہے۔ جب کرکٹ کے کھلاڑیوں کو لاکھوں روپے مل رہے ہوں اور ہاکی کے کھلاڑیوں کو ہزاروں بھی میسر نہ ہوں تو کس کا دماغ خراب ہو گا کہ وہ کرکٹ چھوڑ کر ہاکی کھیلے گا۔ ہاکی کے لئے مصنوعی گھاس کا گراؤنڈ آسٹروٹرف ضروری ہے۔ یہ درآمد کرنی پڑتی ہے اور یہ ایک بہت مہنگا سودا ہے۔

ہمارے پاس ان کی تعداد ہماری ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں سکول اور کلب کی سطح پر آسڑوٹرف کا جال بچھا ہوا ہے۔ بچے چھوٹی عمر میں ہی شاندار سہولیات کے ساتھ ہاکی کھیلتے ہیں اور بڑے ہو کر کامیابی کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ ہمارے ہاں ہاکی کے کلب نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سکولوں میں ہاکی کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ملتا۔ گلی محلے میں کبھی آپ نے کسی کو ہاکی کھیلتے دیکھا ہے؟ کرکٹ کی دیوانگی ہر طرف نظر آئے گی۔

پاکستان جب ہاکی کے میچ جیتتا تھا تو ٹی وی پر میچ شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ جب ٹیم کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیت کر آتی تو ائرپورٹ پر اس کا والہانہ استقبال ہوتا۔ کھلاڑیوں کو ہیروز کا درجہ ملتا۔ ہر طرف ہاکی کا ایک ماحول اور جنون نظر آتا۔ جب ٹی۔ وی خال خال ہوتے تھے تو ریڈیو پر کمنٹری سنی جاتی۔ اس کے لئے دن اور رات کی تمیز بھی نہیں کی جاتی تھی۔ 1978 کے ورلڈ کپ کا فائنل ہم نے اپنے لڑکپن میں رات دو بجے ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس سے براہ راست ریڈیو پر ہی سنا تھا جس میں پاکستان نے ہالینڈ کو شکست دے کر گولڈ میڈل جیتا تھا۔

اس سے پہلے 1976 میں کینیڈا کے شہر مانٹریال میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والا اولمپکس ہاکی کا سیمی فائنل بھی ہم نے آدھی رات کو ریڈیو پر ہی سنا تھا۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ اس میچ کے شروع میں ہی آسٹریلین کھلاڑیوں نے ٹارگٹ کر کے سینٹر فارورڈ شہناز شیخ کو زخمی کر کے میچ سے فارغ کروا دیا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی پورا میچ اس صدمے سے ہی باہر نہ آ سکے اور ہم یہ میچ ہار گئے۔

جب پاکستان کی ٹیم نے بوجوہ ہارنا شروع کر دیا تو ہاکی کا وہ ماحول ہی نہ رہا۔ رہی سہی کسر کرکٹ کی حد سے بڑھی ہوئی پذیرائی نے پوری کر دی۔ شروع میں صرف پی۔ ٹی وی تھا۔ اس پر ہاکی میچز دکھائے جاتے تو ہر کوئی دیکھ لیتا تھا۔ پھر ڈش اور کیبل کا دور آیا، میچز مخصوص سپورٹس چینلز تک محدود ہو گئے۔ اس دوران ٹیم نے بھی ہارنا شروع کر دیا۔ لوگوں کی دلچسپی ہاکی میں کم ہوتی گئی اور ہاکی کا کھیل بھی ٹی۔ وی سے غائب ہونا شروع ہو گیا۔ کرکٹ کا گلیمر اور پیسا ہاکی میں رہی سہی دلچسپی کو بھی کھا گیا۔

اب سوال یہ کہ ہاکی کا وہ سنہری دور واپس آ سکتا ہے؟ بالکل آ سکتا ہے، لیکن اس میں کافی محنت کی ضرورت ہے۔ ہاکی کو سکول اور کلب کی سطح پر منظم کرنا پڑے گا۔ نوجوانوں کو کرکٹ کے ساتھ ساتھ ہاکی کی طرف بھی لانا پڑے گا۔ پہلے کی طرح اداروں مثلاً پی آئی اے، بینکس، پولیس، ریلوے اور واپڈا جیسے اداروں کی ہاکی ٹیمیں دوبارہ بنانی پڑیں گی۔ اداروں کی ان ٹیموں میں کھلاڑیوں کا معاشی مستقبل بھی محفوظ ہوگا اور پوری دل جمعی کے ساتھ کھیل پر توجہ دے سکیں گے۔

آسٹروٹرف کی تعداد بڑھانی پڑے گی۔ کرکٹ کی طرز پر دوسرے ممالک کی طرح لیگ ہاکی شروع کرنے سے بھی ہاکی کو فروغ مل سکتا ہے۔ کرکٹ کی طرح ہاکی میں بھی پیسا اور گلیمر لانا پڑے گا۔ انڈیا میں لیگ ہاکی نے ہی ہاکی کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ سنا ہے لاہور میں 32 کھلاڑیوں کی تربیت ہو رہی ہے اور بیس کھلاڑیوں کو کرکٹ کی طرز پر سینٹرل کنٹریکٹ دینے کا پروگرام ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ لیکن آج ہی وہاں سے خبر ملی ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی فٹنس کے اس معیار پر پورا نہیں اتر سکا جو سینٹرل کنٹریکٹ کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ کھلاڑیوں کو مزید وقت دیا جائے تا کہ وہ اس مطلوبہ معیار تک پہنچ سکیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید ہم پاکستان ہاکی کو دوبارہ زندہ ہوتا دیکھ سکیں گے۔ اور ہاں یہ بات ہم بتانا بھول ہی گئے کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words