اگر اندر کے یہ جانور قربان کر دیے، تو آپ کی عید ”مسلسل“ ہے!


قربانی کا موسم ہے اور بہت سی قربانیاں ہو چکی ہیں اور آپ میں سے بہت سے لوگوں نے قربانی بھی کی ہے، یعنی بڑی عید پر جانور کی قربانی کی ہے۔ مگر کچھ قربانیاں ابھی اور کرنی ہے اور یہ قربانیاں شخصیت کو نکھارنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگر جانور کی قربانی کی طرح یہ قربانی بھی کر ڈالی تو آپ کی شخصیت بھی عید جیسی ہوں گی کیونکہ یہ قربانیاں آپ کی شخصیت کو چار چاند لگا دیگی۔

ذرا پوچھئے آپ اپنے آپ سے کہ اس عید پر آپ نے جانور تو قربان کر دیا مگر کیا اپنی انا قربان کی؟ اپنی ضد یا اپنی ہٹ دھرمی قربان کی؟ اپنا غصہ؟ اپنی چوہدراہٹ قربان کی؟ یا پھر یہ جانور ابھی تک آپ کے اندر پل رہے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہے کہ ہمارے اندر بہت سے جانور پل رہے ہیں اور ہم انھیں روز خود خوراک دیتے ہیں۔ چلیں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہمارے اندر کیا کچھ ہے اور اگر یہ قربان کر دیا تو ہماری شخصیت کی ”مسلسل عید“ ہے۔

آپ میں ایک سوچ پروان چڑھ گئی ہے کہ ہمیشہ چھوٹا ہی آپ کو سلام کرے گا مگر ایسا نہیں ہے اگر آپ چھوٹے کو سلام کر لیں گے تو کوئی قیامت نہیں آئے گئی بلکہ خود بخود آپ کی میں ختم ہو جائے گی۔ اس طرح شفقت کا جذبہ بھی پیدا ہوگا اور چھوٹوں کے دل میں آپ کی عزت و احترام بھی بڑھ جائے گا۔

آپ آفس جاتے ہوں گے ، دروازے پر گارڈ ہوگا اور ریسپشن پر بھی کوئی موجود ہوگا، آپ خود ان دونوں کو سلام کر دیجئے۔ اس سے یہ ہوگا کہ اگر دل میں برتر ہونے کا خیال ہوگا تو وہ بھی آہستہ آہستہ دور ہو جائے گا۔

ہم آفس میں جب کام کرتے ہیں تو ہم سے جونئیر لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مگر ہم سینیئر ہوتے ہیں تو ایک برہم یا خاص رویہ چھوٹوں پر طاری کر کے رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم کبھی کبھار اپنے جونئیرز سے مسکراہٹ کا تبادلہ کر لیں اور ان کے کام کو سراہا دیں تو یقین جانئیے ان کا دل بڑا بھی ہو جائے گا اور باہمی تعاون کے سلسلے میں کام میں مزید بہتری آ جائے گی۔

آفس میں آفس بوائے بھی ہوتا ہے۔ آفس بوائے اگر کوئی غلطی کردیں یا چائے ٹھنڈی لے آئے تو ان پر بھڑکنے کا کیا فائدہ؟ ممکن ہے کام کا لوڈ زیادہ ہوں جس کی وجہ سے کوتاہی ہو گئی ہو؟ عزت نفس ہر انسان کی ہوتی ہے اور یہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔ بس درگزر کرنا سیکھئے بہت سکون ملے گا۔

آپ اگر دکان کے مالک ہیں جہاں کئی کئی لوگ کام کرتے ہیں تو اکثر کوئی کام کرنے والا لڑکا غلطی کر دیتا ہے اور مالک اس کو گالیاں دیتا ہے، سب کے سامنے اسے کوستا ہے، اس پر طنز کرتا ہے تو ذرا اس کام کرنے والے کے دل سے پوچھئے۔ ممکن ہے کہ وہ کسی آزمائش میں ہو جس کی وجہ سے اس سے غلطی سرزد ہو گئی ہو۔ سادی سی بات ہے وہ آپ کا ملازم ضرور ہے مگر غلام نہیں ہے جو آپ اس کو اس طرح ٹارچر کریں۔ اخلاق اچھا رکھیں، فائدہ آپ کے کاروبار کو بھی ہوگا۔

Facebook Comments HS