مریم نواز کے نام ایک خط

ڈیئر مریم نواز صاحبہ! گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مسلم لیگ نون کی ناکامی اور حکمران جماعت کی واضح کامیابی یہ ظاہر کرتی ہیں کہ آئین اور جمہوریت کی بات کرنے والوں کو شکست دینے کے لئے ڈوریاں کہاں سے ہلائی جاتی ہیں اور کیسے الیکشن سے پہلے سیٹوں کی بندر بانٹ ہوئی۔ ایک ایسی پارٹی جس کی کارگردگی صفر ہو، نہ تین سال میں اپنے وعدے پورے کیے جانے کا مضبوط بیانیہ ہو، نہ انتخابی مہم اتنی شاندار ہو، اوپر سے مہنگائی نے عام لوگوں کا جینا دوبھر کر رکھا ہو ایسی پارٹی کو جتوانے کا مقصد یہی ہے کہ ملک میں جمہوری اور نظریاتی پارٹیوں کو کمزور کرنا ہے۔ آپ کی طاقت عوام ہیں جو ہم نے گلگت بلتستان اور کشمیر کے الیکشنز میں بڑے بڑے جلسے اور عوام کے جوش و خروش میں دیکھ لیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ الیکشن ہارنے کے باوجود مسلم لیگ نون جیت رہی ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ نون کا بیانیہ مضبوط ہو رہا ہے۔

ڈئیر مریم! آپ کے جلسوں میں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے اس سے پتہ چلتا ہے لوگ مسلم لیگ نون کے بیانیہ کو لبیک کہہ رہے ہیں لیکن ٹائم لگے گا لوگوں کو بکسہ چوروں، ووٹ چوروں کو روکنے اور اپنے ووٹ کی حفاظت کرنے کے لئے۔ آپ نے مزاحمتی سیاست کر کے ایک مشکل راستہ چنا ہے۔ ووٹ کو عزت، آئین کی حکمرانی اور عوامی طاقت کا راج یہ ایسے راستے اور بیانئے ہیں جس میں آپ کو مشکلات آئی گے۔ آپ کے امیدوار ہار بھی جائیں گے کیونکہ حق اور سچ کا ساتھ دینے والوں کے لئے کوئی بھی راستہ پھولوں کا سیج نہیں ہوتا ہے۔ مشکلات اور سازشوں کا گڑھ ہوتا ہے۔

ڈیئر مریم! آپ کٹھ پتلی نہیں ہیں، نہ آپ کا راستہ گیٹ نمبر 4 ہے۔ آپ اس وقت عوام کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ آپ کی سمت درست ہے راستہ صحیح ہے۔ آپ فکر نہ کریں پاکستانی عوام نے ہمیشہ سے پتلی تماشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ آپ خود ہی ہسٹری میں دیکھ چکی ہیں بھٹو کو پھانسی لگی تھی تو لوگ کہتے تھے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی ہے۔ ضیا کے درباری اس کے ساتھ ہی ختم ہو گئے لیکن پیپلز پارٹی کا وجود پاکستان کی ایک بڑی اور وفاقی پارٹی کے طور پر ہمیشہ سے موجود رہا۔ آپ کے والد نواز شریف کو جب مشرف نے جلاوطن کیا تھا تو اس وقت بھی یہی آوازیں آ رہی تھی کہ نواز شریف کی پارٹی ختم ہو گئی ہے اب یہ کبھی سیاست نہیں کر سکیں گے بلکہ وقت کے ساتھ پتہ چلا کہ صفائی تو مشرف کا ساتھ دینے والے کٹھ پتلیوں اور لوٹوں کی ہوئی تھی۔

ڈیئر مریم! نظریاتی پارٹیاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ پاکستانی عوام اس بارے میں بہت باشعور رہے ہیں جب سلیکشن ان کے ذریعے کی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ سے ڈکٹیٹروں اور کٹھ پتلیوں کا صفایا کرتے ہیں۔ آپ کو ایسے حالت میں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ قوم کی ایک بہادر بیٹی اور نڈر لیڈر ہیں۔ آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قوم کو لیڈ کرنے کے لئے آپ میں خدا نے صلاحیت بھی دی ہیں اور آپ اپنی قوم کی رہنمائی کرنے کی پوری کوشش بھی کرتی ہیں۔

ایسے لیڈر جن کے بڑے بڑے جلسے ہو جس کے ایک اشارے پر ہجوم کھڑا ہو اور ایک اشارے پر بیٹھ جائے تو ایسے لیڈر عوام سے کنارہ کش اور مائنس ہونے کے لئے نہیں ہوتے ہیں بلکہ تاریخ بنانے کے لئے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کا مقابلہ کارکردگی اور بڑے بڑے جلسوں سے کرنے کی بجائے آپ کی کردار کشی سے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ ہمارے مشرق میں جب ایک عورت کی character assassination کی جاتی ہے تو معاشرے میں اس کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ عوام آپ کو صحیح طرح سمجھتے اور جانتے ہیں بلکہ اس قسم کی زبان استعمال کرنے والے صرف اپنی اوقات بتا رہے ہیں۔

وقت اور حالات بدل جاتے ہیں لیکن نظریاتی پارٹیاں ہی اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں۔ جمہوریت اب بھی ہمارے ملک میں ایک کچی ڈور کی طرح ہے جس کو مضبوط کرنے کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ یہ مفاہمتوں اور مصالحتوں سے مضبوط نہیں ہوگی عوام کی ترجمانی کرنے والے نمائندے چور دروازوں سے نہیں آتے ہیں بلکہ وہ عوام کی طاقت سے آتے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں آر۔ ٹی۔ ایس کے بیٹھنے کے باوجود مرکز اور پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون اب بھی اکثریتی پارٹی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ آ نے والے الیکشن میں بھی نون لیگ میں عوامی ووٹ اس لیڈر کو ملیں گے جو نواز شریف کا بیانیہ لے کر چلے گا۔ آپ اس نظام کے خلاف اکیلی لڑ رہی ہیں آپ کا بیانیہ گھر گھر پہنچ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words