ہمارا ہیرو ہوش محمد شیدی اور بلاول بھٹو
کلہوڑوں کو شکست دے کر تالپور خاندان سندھ کا حکمران بنا اور اس خاندان کی حکمرانی 1843 میں انگریزوں کے ہاتھوں شکست کی صورت میں اختتام کو پہنچی۔
تالپوروں نے اپنی سلطنت کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ اور ان کی بادشاہت کا اختتام بھی مرحلہ وار ہی ہوا۔
فروری 1843 کو حیدرآباد میں میانی کے مقام پر انگریزوں نے حیدرآباد کے تالپوروں کو شکست دے کر تخت حیدرآباد پر اپنا جھنڈا گاڑا تو اگلے ہی مہینے، یعنی مارچ 1843 میں میر پور خاص کے تالپور، جن کا حکمران، شیر سندھ، میر شیر محمد خان تالپور تھا، جنرل ہوش محمد کی قیادت میں حیدرآباد میں دوبی کے مقام پر انگریزوں کا مقابلہ کرنے پہنچے۔ تالپور یہ جنگ بھی ہار گئے اور سندھ بھی ہار گئے لیکن تالپور فوج کا سپہ سالار، جنرل ہوش محمد شیدی تاریخ میں امر ہو گیا۔ اس جنگ کو حیدرآباد کی لڑائی بھی کہا جاتا ہے اور دوبی کی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ میدان جنگ اور ہوشو کا مزار، نیو حیدرآباد سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے پاس واقع ہے۔
یہ جنگ 23 مارچ کو شروع ہوئی۔ انگریزوں کا پلڑا بھی بھاری تھا اور حوصلہ بھی بلند تھا کیونکہ وہ تالپوروں کو ایک معرکے میں شکست دے چکے تھے۔ لیکن ہوش محمد شیدی جسے عرف عام میں ہوشو کہا جاتا ہے، وہ دیوانہ وار، مر ویسوں مر ویسوں پر سندھ نہ ڈیسوں کا نعرہ لگایا جا رہا تھا۔ ہوشو اس قدر دیوانہ وار لڑ رہا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس نے مرنے کے بعد بھی ہاتھ سے بندوق نہیں چھوڑی تھی۔ صرف یہی نہیں بلکہ انگریز فوج کے سالار، سر چارلس نیپئر نے ہوشو کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا تھا۔
یہاں چند ایک چیزیں دلچسپ ہیں۔
اگر لڑائی سندھ میں ہو رہی تھی تو ہوشو نے نعرہ سرائیکی زبان میں کیوں لگایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس زمانے میں اس خطے میں سرائیکی بولی بھی جاتی تھی اور سمجھی بھی جاتی تھی۔
دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ شیدی وہ نسل ہے جو افریقہ سے اس خطے میں آئی۔ کیونکہ کسی زمانے میں افریقی باشندوں کی غیر انسانی طریقے سے جانوروں کی طرح خرید و فروخت کی جاتی تھی۔ تو اس خطے میں آنے والے افریقیوں کو شیدی کہا گیا۔ آج سندھ میں شیدی آپ کو زیادہ قمبرانی ذات کے ملیں گے۔
تیسری انتہائی دلچسپ بات، وہ یہ کہ کچھ لوگوں کا ماننا یہ ہے کہ ہوشو کی اصل قبر حیدرآباد کے پکے قلعے کے اندر تھی جس پر اب کوئی مکان تعمیر ہو گیا ہے۔ تاہم میں نے بذات خود جا کر کھوج لگائی تو پکے قلعے کے کسی بھی رہائشی کو ایسی کسی قبر کا علم نہیں تھا۔ اور بلاول بھٹو بھی جب ہوشو کے مزار پر آئے تو وہ اسی جگہ آئے تھے تو جو دوبی کی جنگ کے میدان میں واقع ہے۔
حیدرآباد کے علاقے قاسم آباد میں ایک فلائی اوور ہوشو کے نام سے منسوب ہے اور حیدرآباد پریس کلب کے پاس ہوشو کا ایک بڑا مجسمہ بھی نصب ہے جس میں وہ گھوڑے پر سوار ہے۔ اس کے علاوہ جس مقام پر دوبی کی جنگ ہوئی تھی اس میدان جنگ میں دو یادگاریں قائم ہیں۔ ایک یادگار تو انگریزوں کے زمانے میں ہی قائم کر دی گئی تھی جس پر اس جنگ میں حصہ لینے والے انگریزوں کے نام کندہ ہیں۔ دوسری یادگار پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں قائم کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انگریز حکمرانوں نے میدان جنگ میں توپوں کو الٹا زمین میں گاڑ دیا تھا جو کہ ابھی تک ویسی ہی موجود ہیں۔
البتہ، مزار اور یادگار دونوں ہی بہت خستہ حالت میں ہیں۔ مزار کے آس پاس گندا پانی ہے، افتتاح کی تختی ٹوٹی ہوئی ہے۔ سیڑھیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مزار کے اندر و باہر گندگی ہے۔ دور دور تک کوئی سرکاری محافظ موجود نہیں ہے۔ پورا علاقہ ہی لاوارث محسوس ہوتا ہے۔
بلاول بھٹو نے الیکشن کے دنوں میں تو اس قومی ہیرو کے نام کا بھرپور استعمال کیا لیکن الیکشن کے بعد شاید ہوشو ان کے کسی کام کا نہیں رہا۔


