کیا ڈپریشن کا علاج عبادت سے کیا جا سکتا ہے؟

میں سب سے پہلے ’ہم سب‘ کے ایڈیٹر عدنان کاکڑ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مجھے ایک ایسا کالم پڑھنے کے لیے بھیجا جس میں مصنف کا موقف تھا کہ پاکستانی نوجوان مذہب سے دوری کی وجہ سے ڈپریشن اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اس لیے انہیں صحتمند ہونے کے لیے اسلامی نفسیات کا مطالعہ اور اسلامی تھراپی سے استفادہ کرنا چاہیے۔

طب اور نفسیات کے سنجیدہ طالب علم جانتے ہیں کہ جس طرح عیسائی سائنس اور یہودی طب وجود نہیں رکھتے اسی طرح اسلامی نفسیات بھی وجود نہیں رکھتی۔

سائنسدان جب تحقیق کرتے ہیں تو اس کے نتائج پوری انسانیت کے لیے ہوتے ہیں کسی خاص مذہب یا فرقے کے لیے نہیں ہوتے۔ جس سائنسدان نے پنسلین یا انسولین دریافت کی اس نے ساری انسانیت کے لیے دریافت کی۔ عدنان کاکڑ نے مشورہ دیا کہ میں اس حوالے سے ایک کالم لکھوں۔

مجھے اپنی پاکستانی مریضہ شبنم یاد آ گئیں جو پچھلے سال مجھ سے علاج کروانے آئی تھیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ’میرے فیمیلی ڈاکٹر نے چند ماہ پہلے مجھے مشورہ دیا تھا کہ میں اپنی ڈپریشن کا علاج کروانے آپ کے پاس آؤں‘

آپ کے کیا نفسیاتی مسائل تھے؟ ’میں نے پوچھا

’ میں اداس رہتی تھی۔ کچھ بھی کرنے کو جی نہ چاہتا تھا۔ بھوک بھی نہیں لگتی تھی۔ میرا چار ماہ میں بارہ پونڈ وزن کم ہو گیا تھا۔ نیند نہیں آتی تھی۔ ڈراؤنے خواب نظر آتے تھے۔ میں چڑچڑی بھی ہو گئی تھی۔ زندگی بے مقصد لگنے لگی تھی‘

’ یہ تو ڈپریشن کی ہی علامات ہیں تو پھر آپ مجھ سے علاج کروانے کیوں نہ آئیں؟‘ میں متجسس تھا۔

’ڈاکٹر سہیل! میری والدہ بہت مذہبی خاتون ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کہا مسئلہ روحانی ہے۔ اگر تم پانچ وقت نماز پڑھو اور ہر صبح قرآن کی تلاوت کرو تو عبادت کرنے سے ٹھیک ہو جاؤ گی۔ میں نے وہ سب کچھ چھ ماہ کیا لیکن میری حالت بہتر ہونے کی بجائے بدتر ہوتی گئی۔ آخر جب مجھے خود کشی کے خیالات آنے لگے تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ پانی سر سے گزرنے لگا ہے اور میں اپنی والدہ سے چھپ کر آپ سے ملنے آئی‘

میں نے جب شبنم کی تفصیلی ہسٹری لی تو پتہ چلا کہ
۔ وہ حد سے زیادہ حساس طبیعت کی مالک ہیں
۔ شرمیلی ہیں۔ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتی ہیں
۔ ان کے ددھیال میں ذہنی بیماری کی ہسٹری ہے۔ ان کے چچا اور دادا ڈپریشن کا شکار تھے۔

ہم نے اپنے کلینک میں شبنم کا ادویات اور تھراپی سے علاج کیا تو وہ چند ماہ میں صحتمند ہو گئیں اور ایک خوش باش زندگی گزارنے لگیں۔

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ تین ہزار سال پیشتر انسان سمجھتے تھے کہ ان کی جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا تعلق ان کے گناہوں سے ہے۔ اس لیے وہ دعائیں مانگتے تھے اور خداؤں کو خوش کرنے کے لیے قربانیاں دیتے تھے۔

یونانی فلاسفر بقراط وہ پہلے طبیب تھے جنہوں نے انسانوں کو حفظان صحت کے اصول بتائے اور طب کو مذہب سے دور اور سائنس کے قریب کیا۔ بقراط کی سائنسی بنیادوں پر اگلی نسلوں کے طبیبوں نے ’جن میں جالینوس اور بو علی سینا بھی شامل ہیں‘ بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔

اب ہم جانتے ہیں کہ سنجیدہ ڈپریشن ’جو کلینکل ڈپریشن کہلاتی ہے اور جس کا شبنم شکار تھی‘ اس کی تین طرح کی وجوہات اہم ہیں

موروثی وجوہات۔ ایک نسل اپنی ڈپریشن اگلی نسل کو منتقل کر سکتی ہے۔ شبنم کے چچا اور دادا بھی ڈپریشن کا شکار تھے
جذباتی وجوہات۔ شبنم کی طرح کسی کی شخصیت میں خود اعتمادی کی کمی اور حد سے زیادہ حساس طبیعت کا مالک ہونا بھی اہم وجوہات ہیں۔
سماجی وجوہات۔ شبنم کی طرح دوستوں کی کمی بھی اہم وجہ ہے۔

ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ
موروثی اور کیمیکل وجوہات کا علاج اینٹی ڈپریسنٹ ادویات سے
جذباتی وجوہات کا علاج انفرادی تھراپی سے اور
سماجی وجوہات کا علاج گروپ تھراپی سے کیا جاتا ہے۔

یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے اپنی ممانی یاد آ رہی ہیں جو ایک زمانے میں مزنگ لاہور رہا کرتی تھی۔ جب وہ ذہنی طور پر بیمار ہوئیں تو سارا خاندان بہت پریشان ہوا۔ انہوں نے بہت سے علاج کروائے لیکن افاقہ نہ ہوا۔ جب میرے ماموں جان نے مجھ سے مشورہ کیا اور علامات بتائیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ سکزوفرینیا کا شکار ہیں اور انہیں موڈیکیٹ انجکشن کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ماموں جان نے مقامی ڈاکٹر سے وہ ٹیکے لکھوائے اور مقامی نرس جب انہیں ہر دو ہفتوں کے بعد ٹیکہ لگانے لگیں تو وہ بہتر ہونے لگیں۔

اتفاق سے ان ہی دنوں میرے ماموں جان میری ممانی کو ایک روحانی پیشوا کے پاس لے گئے۔ بابا جی نے گنڈا تعویز سے علاج شروع کیا اور خاص طریقے کی عبادتیں تجویز کیں۔

جب ممانی جان صحتمند ہو گئیں تو میرا موقف تھا کہ وہ موڈیکیٹ انجکشن سے ٹھیک ہوئی ہیں جبکہ ماموں جان کو یقین تھا کہ وہ روحانی علاج کا نتیجہ ہے۔ ماموں جان کے احترام میں میں خاموش رہا۔

چند ماہ بعد اتفاق سے پاکستان میں بازار سے موڈیکیٹ انجکشن غائب ہو گئے۔ جب ممانی جان کو ٹیکے لگنے بند ہو گئے تو وہ پھر بیمار ہو گئیں اگر چہ وہ روحانی علاج تواتر سے کروا رہی تھیں۔ جب ان کی حالت زیادہ ہی خراب ہو گئی اور انہیں ذہنی دورے پڑنے لگے تو میں نے کینیڈا سے ان کے لیے چھ ماہ کے انجکشن بھجوائے اور ٹیکے لگوانے سے وہ پھر بہتر ہونے لگیں۔

جوں جوں سائنس طب اور نفسیات کے علوم میں ترقی ہو رہی ہے ہم یہ جان رہے ہیں کہ وہ بیماریاں جنہیں ایک زمانے میں روحانی بیماریاں سمجھا جاتا تھا درحقیقت نفسیاتی بیماریاں ہیں اسی لیے اب سائیکی اصطلاح کا ترجمہ روح نہیں ذہن کیا جاتا ہے۔ اب روح پر ایمان لوگوں کے مذہب اور عقیدے کا حصہ ہے۔ جبکہ ڈپریشن اور سکزوفرینیا ذہنی بیماریاں ہیں۔ اسی لیے مغرب میں جس طرح لوگ ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسی جسمانی بیماریوں کے علاج کے لیے پادری کی بجائے میڈیکل ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اسی طرح وہ ڈپریشن کے علاج کے لیے روحانی پیشوا کی بجائے ماہر نفسیات سے مشورہ کرتے ہیں اور عبادت کرنے کی بجائے ادویہ اور تھراپی سے علاج کرواتے ہیں۔

Students, Depression and Faith

Comments - User is solely responsible for his/her words