کیا تشدد تعلیم کے لیے ضروری ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں ایک متحرک تصویر موصول ہوئی پابہ زنجیر بچے کو دیکھا تو مجھے لگا شاید کسی جیل قید خانے کی تصویر ہے جس میں پا بہ قفل ایک بچہ درد کی تصویر بنا ہے۔ جس کے سامنے تپائی پر اک کتاب ہے اور رسی یا زنجیر سے پاؤں باندھ رکھا ہے جیسے کسی بپھرے جانور کو باندھ کر تالا ڈالا جاتا ہے۔ کیا جیل، قید خانوں میں یوں پاؤں پر تالے ڈال کر تعلیم دی جاتی ہے؟ غور کرنے پر خبر ہوئی یہ تو کوئی دینی درسگاہ ہے۔ جہاں صف پر بیٹھا بچہ، جس کے سر پر ٹوپی ہے اور سامنے تپائی پر ایک کتاب بند پڑی ہے۔ وہ دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے اپنی تکلیف کو مسکراہٹ سے اڑا رہا ہے۔

یہ گجرات کے ایک قصبہ کی تصویر تھی۔ جس میں بچے کو درسگاہ سے بھاگنے پر باندھ رکھا تھا۔ متحرک تصویر میں بچہ بتا رہا تھا کہ اسے بہت مارا پیٹا، اب باندھ رکھا ہے۔ کیا مقدس کتاب کی تعلیم یوں دی جاتی ہے؟ اگر بچہ بھاگ نکلا، بغاوت کی، سرکشی پر اتر آیا، سبق سے جان چرائی تو اسے یوں باندھ کر پڑھایا جائے گا؟ ایک ایسی مقدس کتاب جسے پڑھنے، یاد کرنے پر ثواب کی نوید ہے کیا یوں باندھ کر پڑھانے، یاد کرانے پر عتاب کی بھی اجازت ہے؟ عہد طفولیت میں کیا جبر کی اجازت ہے؟ کیا اساتذہ کرام طالب علموں سے اپنے معلم ہونے کا خراج وصول کرتے ہیں؟ کیا مار سے بچے کی شخصیت بنتی ہے؟

مارپیٹ تو ویسے بھی بچوں کو سرکش بناتی ہے۔ ذہنی نشو و نما پر برا اثر پڑتا ہے۔ ابن خلدون کے مطابق تشدد سے بچے جھوٹ کی عادت سیکھتے ہیں۔ کسل مندی، نفاق، ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ منفیت کو جنم دینے، دل و دماغ کو روشن کرنے کی جا اس پر زنگ چڑھانے کا ذمہ دار کون ہوگا؟ تعلیمی اداروں میں تشدد کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ گرچہ ان کا اطلاق نہیں ہوتا یا کم ہوتا ہے لیکن کیا وہ قوانین مذہبی تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوتے ہیں؟

ان قراء کرام سے پوچھ گچھ کو ان اداروں کی تنظیمات کے پاس کوئی کمیٹی یا جانچ کا کوئی انتظام ہے؟ حفظ قرآن کے مدارس کی مارپیٹ تو ویسے بھی مشہور ہے۔ مار پیٹ سے پاک ماحول کے مدارس کمیاب ہیں۔ قراء کے مارنے کا انداز دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ لمبے ہو جاؤ۔ اسے لمبا کرو۔ جیسی اصطلاحات کی بازگشت حفظ قرآن کی کلاسوں میں عام سنائی دیتی ہے۔ پھر جب چار ہٹے کٹے لڑکے اک غبی، کمزور طالب علم کو بازو اور ٹانگوں سے لمبا کرتے اور قاری صاحب لاٹھی سے اس بچے کی پشت کو لال کرتے ہیں۔ ان جاں گسل لمحات کا غم اسی بچے سے پوچھئے جسے پھر بیٹھنے میں دقت ہو رہی ہو۔

خوف اور دہشت کی ہوا میں کون مائی کا لعل حافظ قرآن بنے گا۔ پھر اگر بن بھی گیا تو کل کلاں جب وہ بچوں کو علم کی معراج بخشنے گدی نشین ہوگا تو اپنی مار کٹائی کا بدلہ لے گا۔ وہ جو مار کھا کر کسی طور معلم بن ہی گیا اس سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ اساتذہ تو شفیق ہوتے ہیں۔ معلم کتنا عظمت والا مرتبہ ہے۔ بہروپیے بھی شرف حاصل کر جاتے ہیں۔ چہ جائیکہ نسبت رسول تھامے معلمین عظمت والی کتاب ایک دل میں کھد رہے ہوں اور وہ لاٹھی، گالی، سخت زبان کا استعمال کریں۔ تعمیر شخصیت میں پہلا سبق تو خود اس شخصیت کے لیے ہے جو استاد بنا۔ کیا وہ استاد اسی طرح اپنے بچے کو مار کر باندھے گا؟

کسی درسگاہ سے کوئی بچہ بھاگ نکلا، نہ جانے کی ضد کی یا سبق سے چھپنے لگا تو غالب گمان یہی ہے کہ پڑھانے والے میں گن نہیں۔ وہ پڑھانے، سکھانے کے آداب سے بے بہرہ ہے۔ اسے تربیت کی الف بے سے واقفیت نہیں اور ڈنڈے کے زور پر ڈرا دھمکا کر پڑھا رہا ہے۔ معلوم کرنا چاہیے کہ درسگاہ میں کون بیٹھا ہے؟ استاد ہی ہے یا استاد کا روپ دھارے کوئی ظالم و جابر۔ پھر بعض والدین بھی اس جابر استاد کو شہ دیتے ہیں۔ یہ بچہ آپ کے سپرد ہے جو چاہیں کریں لیکن بس حافظ بنا کر بھیجیے گا۔

وہ بھی اس تشدد کے برابر ذمہ دار ہیں۔ ان سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے۔ والدین تو ننھے پھولوں کے رکھوالے ہیں۔ اس لیے یہ نعمت سونپی گئی کہ آپ اس کو ایک اچھا، صالح انسان بنائیں نہ کہ یوں روح چھلنی کرنے کسی کے سپرد کر دیں۔ وہ جس کے حوالے کیا اس ڈھیل پر بچے کی خوب درگت بناتا ہے اور بچہ جب شکایت لیے گھر جاتا ہے تو جواباً اسے اس بات سے تسلی دی جاتی ہے کہ استاد کی مار والی جگہ پر جہنم کی آگ حرام ہوتی ہے۔

عجیب منطق ہے۔ پھر تو بھئی آپ پورے بدن پر ہی لاٹھیوں کے نشان لگوا لیں کہ جہنم بھی نہ جلا سکے۔ استاد اس بات کو کیوں نہیں سمجھتا کہ اس پر جہنم کی آگ حرام ہوئی نہ ہوئی آپ پر حلال ہو گئی۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے مطابق بچوں کو مارنا ایسا حق العبد ہے جس کی معافی بھی مشکل ہے۔ بچے کو تادیباً سزا دینا، اخلاقی تربیت کے ساتھ باز پرس کر لینا، گوش مالی کر لینا، چلیے ممکن ہے آپ اپنے بچے کو بھی یوں ہی ٹریٹ کریں لیکن مارنا، اور لٹھ لیے رعب داب سے قہر برسائے رکھنا، ذہنی و جسمانی اذیت دینا، تشدد کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ ایک بچہ نہیں پڑھنا چاہ رہا تو کیا یہ طریقہ ہے اسے سکھانے کا؟ یوں اس کے سینے پر قرآن اتارا جائے گا؟ آپ کے من پسند اور مرضی کے اسلام میں تو شاید گنجائش نکلتی ہو حقیقتاً ایسی کوئی گنجائش نہیں۔ استادی کے اقوال پر عمل کرنے سے قبل استاد تو بنیے۔ کیا بچوں کا خون پانی ایک کرنا لازم ہے؟

سکھانے، تربیت کرنے والے تو درشت رویے سے قبل بارہا سوچتے ہیں۔ کہیں یہ رویہ دل و دماغ پر منفی اثر تو نہ ڈالے گا؟ استاد یا معلم کا کام حکمت عملی سے بچے کے دل و دماغ اور اس کی نفسیات کو کنٹرول کرنا ہے۔ خلوص و محبت کی آنچ میسر آ گئی تو بچے کی زندگی بن جائے گی۔ وگرنہ یہ نشتر اس کی روح کو چھلنی کریں گے۔ مشہور ہے کہ جو استاد پڑھانا نہیں جانتا وہ مارتا ہے۔ نہیں تو حد سے زیادہ غصہ دکھاتا ہے۔ اپنے بچوں کے اساتذہ کو پرکھ لیں۔

ان کی بے چارگی کی مسکراہٹ کے پیچھے کا درد سمجھیں۔ ان کی بات کا یقین کریں، ایکشن لیں۔ کہ مار نہیں پیار ہی وہ فارمولا ہے جو بچوں کو اچھا انسان بنا سکتا ہے۔ بچے شفقت کے مستحق ہیں۔ انہیں یوں تشدد یا متشدد کے حوالے کر کے آپ مجرم بن رہے ہیں۔ جرم روکیں معاون نہ بنیں۔ یاد رہے جسمانی سزا روحانی زخم لگاتی ہے۔ قفل بہ لب نہیں ہیں تو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائیں۔ ایک سوال البتہ اب باقی ہے کہیں علم و فن سے محرومی کا سبب یہی تشدد تو نہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments