80 فیصد پاکستانی آلودہ پانی پینے پر مجبور، سالانہ 25 لاکھ اموات

بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتوں سے جہاں معدنی وسائل کا استعمال بے دریغ حد تک بڑھ چکا ہے وہاں انسانی زندگی کے لئے اہم پانی کی سطح بھی خوفناک حد تک یا تو کم ہو رہی ہے یا پھر صاف اور صحت مند پانی سکڑتا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی آلودگی سے متاثر ہونے والے ملکوں میں بدقسمتی سے پاکستان سرفہرست ہے، افسوسناک حد تک پاکستان کی صرف بیس فیصد آبادی کو صاف اور صحت مند پانی کی سہولت دستیاب ہے جبکہ 80 فیصد آبادی کسی نہ کسی صورت میں آلودہ پانی پر گزارہ کر رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال صرف پیٹ اور آلودہ پانی سے ہونے والی دیگر بیماریوں کے باعث 25 لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ہونے والی بیماریوں میں سے پچاس فیصد کی وجہ صرف آلودہ پانی ہے۔

انٹرنیشنل واٹر منیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان میں 4 کروڑ کی آبادی اری گیشن سسٹم کے تحت پانی حاصل کر رہی ہے۔ سب سے برا حال دیہی آبادی کا ہے کہ جہاں یا تو پانی کنویں، دریاؤں، نہروں، بارشی پانی کے تالابوں یا پھر ہینڈ پمپ کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے بدقسمتی سے سیوریج والا آلودہ پانی زیرزمین پانی کے ساتھ مل کر آلودگی پھیلا رہا ہے۔ واٹر ایڈ این پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پانی کی سپلائی کے حوالے سے سب سے بہتر نظام پنجاب میں ہے کہ جہاں کی سات فیصد آبادی کنویں کھود کر یا دریائی پانی پی کر گزارا کر رہی ہے جبکہ سندھ کی 24 فیصد آبادی غیر محفوظ طریقوں سے پانی حاصل کر رہی ہے، کے پی کے کی 46 فیصد آبادی اور سب سے برا حال بلوچستان کا ہے کہ جہاں کی 72 فیصد آبادی کو پینے کے پانی کے لئے دوردراز کے تالابوں یا پھر کنوؤں اور دیگر ذرائع کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

اگر اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو ایسا نہیں کہ پاکستان کو ہمیشہ سے ہی ان مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، آزادی کے وقت پر کیپیٹا پانی 56 سو کیوبک میٹر ہوتا تھا جو کہ کم ہوتا ہوتا دو ہزار دس میں 1038 کیوبک میٹر اور 2020 میں 877 کیوبک میٹر تک جا پہنچا، ایک رپورٹ کے مطابق 2025 میں یہ مزید کم ہو کر 660 کیوبک میٹر اور 2050 میں خطرناک حد تک 575 میٹر تک کی خطرناک حد تک چلا جانا ہے۔ انٹرنیشنل واٹر منیجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جنوبی پنجاب اور پاکستان کے دیگر شہری و دیہی علاقوں میں کی گئی ریسرچ سٹڈیز کے مطابق زیرزمین پانی، اری گیشن سسٹم کے ذریعے حاصل کیے جانے والے پانی میں نمک، آئرن، فلورائیڈ اور آرسینک کی سطح خطرناک حد تک زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ پانی، ڈائیریا، ہیپاٹائٹس بی سی اور ملیریا اور دیگر امراض کا بنیادی سبب بن رہا ہے۔

پاکستان میں زیرزمین پانی نہ صرف تیزی سے سکڑ رہا ہے بلکہ زہر آلود بھی ہوتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجوہات سیوریج سسٹم کا نہ ہونا، سیلابوں کا آنا، نالوں کا پانی بغیر کسی فلٹر کے دریاؤں اور نہروں میں چھوڑا جانا ہے۔ اس کے ساتھ ملک میں ماحولیاتی پروٹو کولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لگائی گئی صنعتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔ پنجاب کے دیہی علاقوں سے زیرزمین اور بڑے شہریوں میں پانی کی ترسیل کے لئے استعمال کی جانے والی پائپ لائنوں سے سے حاصل کیے گئے نمونوں کے کیمیائی تجزیوں کے بعد ان میں پائے جانے والے جرثوموں کی حد کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور یو ایس ای پی اے کے طے کردہ حدوں سے زیادہ پایا گیا۔ زیادہ تر میں مائیکروبز اور آرسینک کی مقدار مضر صحت حد تک زیادہ تھی۔

ایم ڈی واسا لاہور سید زاہد عزیز کے مطابق پانی کی ترسیل کے لئے استعمال کی جانے والی پائپ لائنوں کی صفائی کے لئے نہ صرف ماہانہ بنیادوں پر کیمیکلز ڈالے جاتے ہیں بلکہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بھی باقاعدہ مرمت اور نگرانی کی جاتی ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں پانی کی تیزی سے کمی کو کیسے قابو کیا جا سکتا ہے پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پوری قوم کے طور پر سطح پر موجود پانی کو ٹریٹ کر کے پینے کے پانی کے طور پر استعمال کرنا سیکھنا ہوگا بجائے زیرزمین پانی کے۔

ایم ڈی واسا کے مطابق دیہی علاقوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تعمیر کے لئے علیحدہ سے پنجاب آب پاک اتھارٹی کا قیام کیا گیا ہے جو کہ رواں سال کے اختتام تک 1538 واٹر پوائنٹس کو فعال کرنے جا رہی ہے جس سے 76 لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر ہو سکے گا۔ اسی طرح سے اگلے سال بھی اتنے ہی صاف پانی کے مراکز بنائے جائیں گے۔

ایم ڈی واسا کے مطابق ایک آر او فلٹریشن پلانٹ پر تیس لاکھ کا خرچ آتا ہے، اگر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ سے یہ پراجیکٹ شروع ہوں تو اور زیادہ تیزی سے صاف پانی کی دستیابی کا کام پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے اور سرفیس واٹر کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے نہ صرف انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج ٹینک کامیابی سے کام کر رہا ہے بلکہ پانی کی فلٹریشن کا کام بھی جاری ہے۔

ڈاکٹر تصدق حسین جو کہ گیسٹرولوجسٹ ہیں اور صاف پانی کی فراہمی اور اس کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لئے دیہی علاقوں میں سیمینارز اور کمپنیز کا انعقاد کرتے رہتے ہیں کے مطابق دیہی علاقوں اور قصبوں میں جو سب سے بڑی غلطی دیکھنے میں آتی ہے وہ واش رومز اور ہینڈ پمپس، موٹر بورنگز کی ایک ساتھ تعمیر ہوتی ہے، دیکھا جائے تو جنوبی پنجاب اور اندرون سندھ میں گھر کی تعمیر کرتے ہوئے واش رومز اور پانی کے ذرائع کو ایک ہی جگہ تعمیر کیا جاتا ہے اب یہی پانی مناسب سیوریج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے زیرزمین پانی میں چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر تصدق حسین کے مطابق دیہی علاقوں میں کروائے گئے پانی کے نمونوں کے کیمیکل تجزیوں کے دوران نہ صرف گائے کے گوبر اور سیوریج کا پانی ملا تھا۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے قصبوں میں اگر کہیں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا بھی گیا ہے تو نہ ہی اس کا روٹین معائنہ کیا جاتا ہے نہ ہی فلٹر تبدیل کیے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words