بیگم کلثوم نواز کا مریم کے نام خط

ہم خاندان والے تمہاری ولادت پر بے حد خوش ہوئے تھے آج بھی وہ دن یاد ہے دادا اور دادی کس قدر مسرور تھے۔ میاں صاحب نے سارے ملازموں میں مٹھائی کے ساتھ پیسے بانٹے۔ بیٹی یہ باتیں صرف اس لئے دہرا رہی ہوں کہ تمہیں باور کرا سکوں کہ شریف خاندان میں مریم نواز کی اہمیت کسی دوسرے سے کم نہیں۔ تم ابھی چھوٹی تھی دادا تمہاری ہر بات کو توجہ دیتے اور اس پر عمل کرنے یا پورا کرنے کا حکم دے دیتے تھے۔ شادی والے فیصلے میں بڑے میاں جی کا ہاتھ تھا۔ صفدر کو خاندان کے دیگر ارکان میں قابل قبول بھی انہوں نے بنوایا۔

بڑے میاں جی اور تمہاری بات ٹالنا گھر میں مشکل ہوتا تھا کبھی کبھار چھوٹے بھائی اسے محسوس کرتے تو دادا انہیں بتاتے کہ مریم کی دانشمندی خاندان کی بہتری کا سوچتی ہے تمہارے ابا مجھے بھی یہی حیثیت دیتے تھے میں انہیں سیاست اور کبھی کاروباری معاملات میں مشورے دے دیتی تھی۔ وہ مشاورت کے قائل ہیں اور یہ عادت ایک طرح سے دوسروں کو ساتھ جوڑتی ہے۔

ہمارے خاندان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد کئی بار برے حالات دیکھے۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے پارٹی کے معاملات سنبھالنا پڑے کئی لوگ جانتے نہیں یہ بڑے میاں جی کا فیصلہ تھا۔ سعودی عرب سے واپسی پر لوگ توقع کر رہے تھے کہ میں دوبارہ میدان میں اتروں گی لیکن ابا جی نے منع کر دیا تمہارے والد بھی ایسا نہیں چاہتے تھے۔

مجھے شدید بیماری کی حالت میں الیکشن لڑانے کا فیصلہ کبھی سمجھ نہیں آیا ماسوائے مدمقابل ایک خاتون ڈاکٹر تھی۔ میری علالت کے دوران پورا خاندان مقدمات میں اور سیاسی جھمیلوں میں پھنسا تھا۔ میرے بستر کے پاس کھڑے تمہارے ابا جان کی شکل بتا رہی تھی کہ پاکستان میں ان کے ساتھ اچھا نہیں ہو رہا اور آگے بھی کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تھا۔ میں خاندان کے لئے کچھ نہ کر پائی بڑی بے بسی کے عالم میں دنیا سے رخصت ہونا پڑا۔

مریم مجھے سب کی فکر رہتی خاص طور پر تمہیں میاں صاحب کے ساتھ جیل جاتے دیکھ کر بہت دکھ ہوا کئی روز تک یہ غم دل پے لگائے رکھا پھر تمہارے دادا نے حوصلہ دیا اور سمجھایا کہ اب تمہارے حقیقی سیاسی کیریئر کا آغاز ہو گیا مسلم لیگ کو مریم کی ضرورت پڑے گی ہے۔ خوشی کے ساتھ ایک دھڑکا سا لگ گیا کہ نہ جانے کیا ہو گا۔

مریم میری بچی میں نے دیکھا تم نے سیاست میں موقف سخت رکھا۔ اس سے تمہیں مقبولیت ملی ہے لیکن مقتدر حلقے تمہارے شدید مخالف بن گئے۔ میڈیا میں کوئی تعریف کرتا ہے کہیں بہت تنقید بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ بیٹی تھوڑا سا اعتدال سے کام لیتے ہیں۔ تمہارے ابا ابھی مکمل صحت یاب نہیں ہوئے اگرچہ اس پر بھی لے دے ہو رہی ہے لیکن ان کے معاملات بھی سلجھ نہیں پا رہے، ایسے میں شاید تم پارٹی کے ساتھ سارے بڑوں کو کسی نئے امتحان میں ڈال رہی ہو۔ تمہارے چچا اور ان کا بیٹا پہلے بھی تمہاری انٹری کے خلاف تھے اب تو ایک آنکھ نہیں لگ پاتی۔

نہ جانے کیوں مجھے لگ رہا ہے کہ اپوزیشن کی دیگر جماعتیں خاص کر پیپلز پارٹی تمہاری باتوں سے ناخوش ہیں اور حکومت اس سب پر بغلیں بجا رہی ہے۔ تھوڑا سکون سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھاؤ اپنے ابا کے لئے زیادہ مشکلات نہ بڑھاؤ انہیں ایک بار پھر وطن سے دوری دیکھنا پڑ رہی ہے۔

بے نظیر کا بیٹا کچھ سمجھ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے اس نے ہماری پارٹی میں اختلافات کو بھانپتے ہوئے تنقید کے تیر برسانے شروع کر دیے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے سب ہمارے مخالف ہو گئے ہیں۔ بیٹی سیاست میں دشمن کے ساتھ دوست بھی بنائے رکھنا پڑتے ہیں۔ تم اتنی عقلمند ہو۔ کیسے بھول گئیں۔ میدان اکیلے لڑنے سے جیت مل بھی جائے تو وہ دیرپا نہیں رہتی۔

میری بیٹی دکھی اور غمزدہ ہے لیکن وہ کمزور نہیں پڑی۔ اپنے عوام سے خطاب میں لہجے تھوڑے نرم رکھو۔ تم بیٹی ہو ایسا ٹھیک نہیں۔ اردگرد تعریفیں کرنے والے اور مقبولیت کے گراف دکھانے والے مل جائیں گے مگر دانشمندی کس عمل میں یہ بتانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

امید ہے میری تمہید کا مقصد جان گئی ہوگی۔ مجھے تمہاری اور میاں صاحب کی فکر ہے۔
اپنا خیال رکھنا۔
تمہاری والدہ کلثوم نواز
(از عالم ارواح)

Latest posts by نعمان یاور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words