انتشار کا شکار ہوتا بیانیہ

یقیناً ہم سب نے میاں نواز شریف اور اس کے خاندان کو نا قابل یقین سختیاں برداشت کرتے بھی دیکھا، بدترین میڈیا ٹرائل کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا، پارٹی کے وفادار اور دلیر لیڈروں کو ایک خوفناک جبر سے گزرتے اور ڈٹے ہوئے بھی دیکھا، مریم نواز کو والد کے سامنے ہزیمت ناک انداز میں گرفتار ہوتے بھی دیکھا، کلثوم نواز کو اس وقت غریب الوطنی میں ایڑیاں رگڑتے اور جسم سانسوں سے خالی ہوتے ہوئے بھی دیکھا جب اس کا شوہر اور بیٹیبیانیے کی جنگمیں زندانوں میں پڑے تھے۔

 یہ بھی دیکھا کہ اس مملکت خداداد کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو نیب کا ایک معمولی اہلکار کھینچتا ہوا اپنی جیپ سے باہر نکالتے ہوئے توہین آمیز انداز میں گرفتار کر رہا تھا

 رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے ہیروئنبرآمدہوتے اور ایک وردی پوش کے ساتھاللہ تعالی کے سامنے جوابدہوزیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ خواجہ آصف خواجہ سعد رفیق اور جاوید لطیف کو سربلند ہوتے اور جیلوں میں جاتے ہوئے بھی دیکھا۔ جاوید ہاشمی کو معذوری کے باوجود بے خوفی کے ساتھ بلند بانگ اور دلیر لہجے میں گرجتے ہوئے بھی دیکھا۔ بوڑھے لیکن غضب کے نظریاتی پرویز رشید کو ہمیشہ تکلیفوں اور آزمائشوں کا سامنا کرتے اور ڈٹے ہوئے بھی دیکھا۔ عابد شیر علی کو جلا وطنی میں گھر اجڑنے اور کم عمر بچوں کے بے سہارا ہونے کا دکھ اٹھاتے دیکھا۔

 بیانیے کے حامی یا جمہوریت پسند صحافیوں کو اغوا ہوتے، گولیوں کا نشانہ بنتے، تشدد سہتے، بے روزگار ہوتے اور بد ترین دھمکیوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف اور اس کے بیانیے پر مر مٹتے لاکھوں سیاسی کارکنوں کو جمہوری جدوجہد کرتے اور تکلیفیں برداشت کرتے ہوئے بھی دیکھا۔

 لیکن اس وقت اہم سوال یہ ہے کہ بیانیے کا رخ کس سمت میں ہے یا باالفاظ دیگر کیا بیانیے کی جنگ میں یکسوئی اور آگے بڑھنے کی سکت موجود ہے؟

 دوسرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ اس وقت مسلم لیگ نون پر حاوی ہیں کیا ان کا اعتماد اور سیاسی جدوجہد اس معیار کا ہے کہ اس نازک موڑ پر انہیں ایک جذباتی انداز میں ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جائے؟

 پہلے سوال سے منسلک حقائق یہ ہیں کہ مسلم لیگ نون کے اندر ٹاپ لیڈر شپ کی سطح پر مسلسل متضاد نقطہ نظر اور ایک واضح دراڑ دیکھنے میں آ رہی ہے کیونکہ ایک طرف مریم نواز ووٹ کو عزت دو کے بلند بانگ لیکن مقبول نعرے کے ساتھ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ضمنی انتخابات گلگت بلتستان اور کشمیر میں سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں (اگرچہ عمومی طور پر انتخابات کے نتائج مختلف لیکن متنازع نکلتے ہیں) تو دوسری جانب پارٹی کے صدر شہباز شریف نہ صرف خود کو انمعاملاتسے الگ تھلگ رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان کا سیاسی جھکاؤ عمومی طور پر اسٹبلشمنٹ کی جانب نظر آتا ہے۔

 ہو سکتا ہے کہ یہ پارٹی پالیسی کا حصہ ہو لیکن یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ یہ پالیسی کارکنوں کی سطح پر بد دلی اور کنفیوژن کا سبب بھی بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظریاتی طور پر مسلم لیگ نون کے ساتھ جڑے رہنے کے باوجود بھی کارکنوں کا جوش و خروش گزشتہ برسوں کی نسبت کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ اگر پارٹی کے اندر یہی پالیسی تسلسل کے ساتھ چلتی رہے تو نہیں معلوم کہ نواز شریف اور اس کے بیانیے کی مبالغہ آمیز مقبولیت اور پذیرائی کہاں جا کر دم لے گی لیکن اتنا کم از کم واضح ہے کہ اس سے اسٹبلشمنٹ کو غیر متوقع اور حیرت انگیز برتری ملنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔

 دوسرا سوال مسلم لیگ نون پر حاوی گروہ سے متعلق ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کو یہ بات چونکا کر رکھ دیتی ہے کہ شاہد خاقان عباسی، پرویز رشید، احسن اقبال، خواجہ آصف اور سعد رفیق جیسے تجربہ کار اور دلیر رہنماؤں پر مریم اورنگزیب کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ اس خاتون (مریم اورنگزیب) کی سیاسی جدوجہد معلوم نہیں ہے لیکن ایک دنیا جانتی ہے کہ ان کا آدھا خاندان کسمیرٹکی وجہ سے مخصوص سیٹوں پر نہ صرف اسمبلیوں میں گھس جاتا ہے بلکہ مریم نواز کی چال ڈھال اور کپڑوں کی نقل اتارتے ہوئے یہ خاتون جیل خانوں اور تکلیفیں اٹھانے کے معاملے میں کبھی مریم نواز کی نقل اتارتے ہوئے نہیں دیکھی گئی۔

 بعض ذرائع کے مطابق پارٹی لیڈروں کا ایک مضبوط گروپ مریم اورنگزیب کے حوالے سے شدید تحفظات کا شکار ہے۔

 کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بیانیے کے حوالے سے اگر صورتحال میرٹ تجربے اور قربانیوں کی بجائے اسی طرح ذاتی یا جذباتی معاملات کے گھیراؤ اور یکسوئی کی بجائے انتشار کا شکار رہی تو پھر مسلم لیگ نون اور بیانیے سے بھی وہی کچھ برآمد ہوگا جو بھٹو کی انقلابی اور مقبول پیپلز پارٹی کے روٹی کپڑا اور مکان سے آصف علی زرداری نے رحمان ملک اور اعتزاز احسن جیسے کاریگروں کے ذریعے برآمد کیا ہے۔

 مسلم لیگ نون خصوصاً میاں نواز شریف کے لئے لازم ہے کہ وہ تاریخ کی طرف بھی پلٹ کر دیکھتے رہیں لیکن وقت کی رفتار اور حساسیت کو بھی مدنظر رکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words