’موروثیت‘ امت کے جسم کا ناسور ہے
خلیفہ یا امیر کے انتخاب کے معاملے میں ایک مثال وہ ہے جو خود رسول اللہ ﷺ نے چھوڑی ہے، وہ یہ کہ آپﷺ نے خلیفہ منتخب کرنے کا فیصلہ اپنے صحابہ پر چھوڑ دیا تھا۔ اس میں کیا حکمتیں اور مصلحتیں ہو سکتی ہیں یہ تو اللہ اور رسول اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ممکن ہے اس میں یہ مصلحت رہی ہو کہ اگر حضورﷺ کسی کو اپنا خلیفہ مقرر فرما دیتے تو یہ ایک نظیر بن جاتی اور پھر ہر خلیفہ اپنی زندگی میں کسی کو خلیفہ مقرر کرنا ضروری خیال کرتا۔ اب جبکہ خلیفہ یا امیر منتخب کرنے کا اختیار مسلمانوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے تو اس میں یہ آسانی ہے کہ مسلمان اپنے وقت، حالات اور علاقوں کی مناسبت سے جو طریقہ بھی مناسب اور بہتر سمجھیں اس طریقے پر خلیفہ یا امیر کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد ہیں۔
دوسری مثال خلیفہ ٔاول حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ہے، انہوں نے حضورﷺ کے برخلاف حضرت عمرؓ کو نامزد کر دیا، انہوں نے اس معاملے میں یہ احتیاط کی کہ اپنے صاحبزادوں اور خاندان کو خلافت سے دور رکھا۔ یاد رہے یہ وہی ابوبکرؓ ہیں جو جمع قرآن کے معاملے میں فرماتے تھے کہ جو کام رسول اللہﷺ نے نہیں کیا وہ میں کیسے کر سکتا ہوں، مگر خلیفہ منتخب کرنے کے معاملے میں انہوں نے یہ عذر نہیں رکھا۔ شاید خلیفہ نامزد کرنے کی ضرورت ان پر واضح ہو گئی تھی۔
تیسری مثال حضرت عمرؓ کی ہے انہوں نے 6 افراد کی ایک کمیٹی بنا دی اور تاکید کی کہ یہ لوگ باہم مشورے سے کسی کو ایک کو منتخب کر لیں۔ انہوں نے بھی یہی احتیاط روا رکھی کہ اپنے بیٹوں اور خاندان کو خلافت سے دور رکھا۔ بلکہ مزید آگے بڑھ کر انہوں نے تو صاف صاف فرما دیا کہ ان کے صاحبزادے عبداللہ ؓ خلیفہ کے انتخاب کی مشاورتوں میں شریک ضرور رہیں گے مگر وہ کسی کے حق میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال نہیں کرسکیں گے اور خلافت کے حقدار کے طور پر تو ان کا نام حضر عمرؓ نے پیش ہی نہیں کیا تھا۔
انہوں نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو خلافت کے لیے نامزد نہ کروں تو میرے سامنے رسول اللہ ﷺ کی مثال موجود ہے اور اگر کسی کو نامزد کروں تو ابوبکرؓ کی مثال موجود ہے۔ مگر انہوں نے ان دونوں طریقوں سے الگ ہٹ کر ایک تیسرا طریقہ اپنایا اور یہ اپنے آپ میں انوکھا اور جداگانہ طریقہ تھا۔ اس وقت سارے جزیرہ نما عرب اور آس پاس کے تمام ملکوں میں وہی قدیم موروثی طریقہ رائج تھا۔
چوتھی مثال حضرت عثمان ؓ کی ہے انہوں نے بھی کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا، شاید حالات نے اس کی اجازت ہی نہیں دی، ان کا آخری وقت ہنگاموں کی نذر ہو گیا اور انہیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنے کا موقع ہی نہیں مل سکا۔ یا پھر ان کے ذہن میں کسی کو بھی نامزد نہ کرنے کا رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل رہا ہوگا۔
پانچویں مثال حضرت علیؓ کی ہے انہوں نے بھی کسی کو نامزد نہیں کیا، نہ انہیں حضرت عثمانؓ کے ذریعے خلیفہ ٔ چہارم کے طور پر نامزد کیا گیا اور نہ خود انہوں نے کسی کو پانچویں خلیفہ کے طور پر نامزد کیا۔ غالباً انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے طرز عمل کو ترجیح دی اور خلیفہ کے انتخاب کی ذمہ داری اہل شوریٰ کے سپرد کر دی۔ البتہ انہوں نے ایک مختلف چیز یہ کی کہ اپنے صاحبزادے حسنؓ کو نامزد تو نہیں کیا مگر حضرت عمر ؓ کی طرح انہیں خلافت سے محروم بھی نہیں کیا۔ اس سے شاید ان کی منشا یہ رہی ہو گی کہ محض خلیفہ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ان کا حق خلافت متاثر نہ ہو، کیونکہ خاندانی نسبت حق خلافت کو مانع نہیں ہے۔ نہ ہی شریعت میں ایسی کوئی ممانعت ہے کہ خلیفہ کا بیٹا اپنے والد کی وفات کے بعد یا بعد میں کسی بھی وقت خلیفہ نہیں بن سکتا۔
چھٹی مثال حضرت امیر معاویہؓ کی ہے۔ انہوں نے ماقبل کے تمام خلفاء کے برخلاف اپنے صاحبزادے یزید کو نامزد کیا۔ اب تک کی اسلامی خلافت میں یہ طریقہ بھی بالکل نیا تھا، مگر آس پاس کی دنیا میں اور خلافت اسلامی سے پہلے کی دنیا میں بھی قدیم زمانے سے یہی طریقہ رائج تھا کہ والد کے بعد بڑا بیٹا بادشاہت کا حقدار قرار دیا جاتا تھا۔ حضرت امیر معاویہؓ کی منشا بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ حالات نے انہیں اس امر کے لیے مجبور کیا۔ اگر وہ اپنے بیٹے کو نامزد نہ کرتے تو خانہ جنگی کا خدشہ تھا۔ نیز بیٹے کو نامزد کرنا اسلام میں نیا طریقہ ضرور تھا مگر ناجائز تو بہر حال نہ تھا، البتہ کفار و مشرکین کی دنیا میں یہ طریقہ متداول تھا۔ اور جہاں تک نئے طریقے کی بات ہے تو باقی خلفاء نے بھی نئے طریقے اپنائے تھے۔
خلیفہ کے انتخاب کے پہلے طریقے یعنی رسول اللہﷺ کے طریقے کی اگر بات کریں تو اس کے جواز یا استحباب کا کسے انکار ہو سکتا ہے۔ البتہ باقی پانچوں طریقے بھی جائز تھے بلکہ صحیح معنی میں یہ کل چار ہی طریقے ہوئے، خلیفۂ ثالث نے نامزدگی کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار نہیں کیا تھا۔
البتہ سب خلفاء کے پیش نظر امت کی خیرخواہی اور بھلائی تھی۔ سبھی خلفاء اور صحابہ کرام کی رائے یہی رہی کہ خلیفہ کا انتخاب باہم مشاورت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں حضرت علیؓ کے فرمان بھی موجود ہیں اور حضرت عائشہؓ کے بھی۔ اور دیگر کے اقدامات بھی یہی ثابت کرتے ہیں۔ یہ سب خلیفہ کے انتخاب کا حق اہل شوریٰ کو دینے کے حق میں تھے۔ اور یہی بات قرآن کے حکم ”وامرہم شوریٰ بینہم“ کے زیادہ مطابق تھی۔ غالباً حالات کے تقاضوں اور ان میں سے ہر ایک کے ذاتی اجتہاد کی وجہ سے خلیفہ منتخب کرنے کے معاملے میں طریقے مختلف رہے، پھر یہ وجہ بھی رہی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس معاملے میں خاموشی ہی اختیار کی تھی، غالباً اس معاملے میں وسعت رکھنا مقصود رہا ہوگا۔
لیکن غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ سب سے زیادہ بہتر طریقہ حضرت عمرؓ کا طریقہ تھا، یہی طریقہ جمہوری طرز انتخاب کے بھی زیادہ قریب تھا۔ یہ اپنے آپ میں انوکھا طریقہ تھا۔ ایک تو انہوں نے اپنی صوابدید پر کوئی ایک نام منتخب کرنے کے بجائے 6 لوگوں کی کمیٹی بنا دی اور دوسرے اپنے بیٹے کو نہ صرف خلافت کے لیے امیدوار بننے سے روک دیا بلکہ خلیفہ کے انتخاب میں حق رائے دہی استعمال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی۔ حالانکہ شرعی طور پر تینوں باتوں کی اجازت تھی، وہ حضرت عبداللہؓ کو نامزد بھی کر سکتے تھے، یا پھر انہیں خلافت کے لیے اہل قرار دے کر 6 لوگوں کی کمیٹی میں بھی شامل فرما سکتے تھے یا کم از کم خلیفہ کے انتخاب میں حق رائے دہی کی اجازت ہی مرحمت فرما دیتے۔
مگر انہوں نے حضرت عبداللہؓ کے حق میں انہیں نامزد کرنے کا نہ اپنا حق استعمال کیا اور نہ ہی خود ان کے لیے کوئی آپشن چھوڑا کہ وہ خود سے اپنا حق حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہوجائیں۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس طریقے میں رسول اللہﷺ اور خلیفۂ اول دونوں کے طریقے جمع ہو گئے ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ رسول اللہ ﷺ نے بہر حال کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی تھی۔ اور خلیفہ ٔ اول نے انہیں نامزد کیا تھا۔
علامہ شبلی نے ’الفاروق‘ میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کی خلافت جمہوری خلافت تھی۔ اور انہوں نے بنا کسی نمونے اور مثال کے جمہوری حکومت کی طرح ڈالی۔ وہ لکھتے ہیں :
”حضرت عمرؓ کے گرد و پیش جو سلطنتیں تھیں، وہ بھی جمہوری نہ تھیں، ایران میں تو سرے سے کبھی یہ مذاق ہی نہیں پیدا ہوا، روم، البتہ اس شرف سے ممتاز تھا، لیکن حضرت عمرؓ کے زمانے سے پہلے، وہاں شخصی حکومت قائم ہو چکی تھی اور حضرت عمرؓ کے زمانے میں تو وہ بالکل ایک جابرانہ خود مختار سلطنت رہ گئی تھی۔ غرض، حضرت عمرؓ نے بغیر کسی مثال اور نمونے کے جمہوری حکومت کی بنیاد ڈالی اور اگر چہ وقت کے اقتضا سے اس کے تمام اصول و فروع مرتب نہ ہو سکے، تاہم جو چیزیں حکومت جمہوری کی روح ہیں، سب وجود میں آ گئیں۔“ (الفاروق صفحہ: 170 )
اگر خلیفہ کے انتخاب کے معاملے میں ان چاروں ابوبکر و عمر اور علی و معاویہ (رضی اللہ عنہم اجمعین ) کے طریقۂ انتخاب کے مابین موازنہ کیا جائے تو سب سے افضل اور بہتر طریقہ حضرت عمرؓ کا اور سب سے فروتر اور مفضول طریقہ حضرت امیر معاویہؓ کا قرار پاتا ہے۔ کیونکہ آخر الذکر نے اپنے بیٹے یزید کو نامزد کیا۔ ان سے پہلے کسی بھی خلیفہ نے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ ان میں سے ہر ایک نے اپنے خاندان کو جانتے بوجھتے اور تاکیداً خلافت سے دور رکھا تھا۔ اب بھلے ہی حضرت امیر معاویہؓ نے صاحبزادے کو ولی عہد بنانے کا عمل وقت اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کیا ہو، مگر یہ سب سے فروتر طریقہ تھا۔
مگر کمال کی بات یہ ہے کہ امت نے اپنی ہزار سالہ تاریخ میں اسی فروتر طریقے کو اپنائے رکھا۔ اور مسلمانوں سے وابستہ ہر جگہ اور ہر فیلڈ میں ’موروثیت‘ کسی موذی وبا کی طرح پھیل گئی۔ اور ظاہر ہے کہ جس طریقے میں بیٹوں اور خاندان کی بھلائی اور خیر ہوگی ترجیح اسی کو حاصل ہوگی۔ آخر کس میں اتنا حوصلہ ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح اپنے جگر گوشوں اور اہل خانہ کو محروم کر کے خیر و تقویٰ کی اعلی ترین مثال پیش کرسکے۔
اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ پاک و ہند میں مغلوں اور مڈل ایسٹ میں عثمانیوں کے خاتمے تک مشرق و مغرب میں جہاں جہاں بھی مسلم حکومتیں رہیں، جن میں بعض حکومتیں پانچ پانچ سو سال تک بھی متحرک اور فعال رہیں مگر ان تمام حکومتوں کے تمام حکمراں پہلے دن سے لے کر آخری دن تک بیٹوں، پوتوں اور خاندان کے دوسرے افراد کو نوازنے اور ولی عہد مقرر کرنے کی اسی فروتر مثال پر قائم رہے جو مثال حضرت امیر معاویہؓ نے یزید کو اپنا ولی عہد بنا کر قائم کی تھی۔
نیز اس ہزار سالہ طویل تاریخ میں عادل و متقی اور زیرک و فرزانہ کسی بھی حکمراں کے دل میں یہ خیال ہی نہیں گزرا کہ وہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح برتر مثال پیش کرنے کی کوشش کرے اور اپنا جانشین ایسے شخص کو بنائے جو خود اس سے زیادہ بہتر، متقی اور لائق و فائق ہو، خواہ وہ اس کی اپنی پشت سے نہ ہو اور خواہ اس کا تعلق اس کے اپنے خاندان سے نہ ہو۔ ان میں سے کسی نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسا نہ کیا کہ دو مسلمانوں کی درمیان دین و ایمان کی نسبت، اللہ و رسول ﷺ کی محبت و اطاعت کی نسبت خون اور جسم و پوست کی نسبت سے بہت بڑی ہے۔
تو پھر خونی نسبتوں کو ترجیح دینے کی آخر کیا وجہ ہے اور خاص کر ان اداروں میں جو ذاتی ملکیت نہیں بلکہ پبلک پراپرٹی ہیں؟


