کشمیر پریمیئر لیگ اور مقبوضہ کشمیر میں سخت آرڈر

پاکستان پریمیئر لیگ جو کہ ایک انٹرنیشنل برانڈ ہے اس کے سیزن کے ساتھ ہی آزاد کشمیر پریمیئر لیگ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا اس لیگ کا پہلا سیزن اپریل 2021 کو کھیلا جانا تھا۔ تاہم شائقین کرکٹ کے لیے توجہ اور دلچسپی کا باعث بننے والا یہ عظیم الشان ایونٹ کورونا کی نذر ہو گیا۔ امید کی جا رہی ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ سے ایک نیا ٹیلنٹ ابھرے گا۔ دہشتگردی کے بعد ٹورازم کے باب کھلیں گے۔ دیگر سرگرمیوں میں خوش آئند اضافہ ہوگا۔

کشمیر پریمیئر لیگ عالمی سطح پر ایک پیغام ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ پی سی بی کے مطابق کشمیر پریمیئر لیگ 6 اگست سے 16 اگست تک مظفرآباد میں کھیلی جائے گی لیکن روایتی حریف بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کو ناکام بنانے کی سر توڑ سعی کر رہا ہے۔ بھارت نے انگلش کرکٹ بورڈ اور افریقی کرکٹ بورڈ کے حکام سے رابطہ کر کے ان پر دباؤ ڈالا ہے کہ جو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لے گا اور کشمیر جائے گا تو نتیجتاً بھارتی کرکٹ کے دروازے ان پر بند کر دیے جائیں گے۔

بھارت کی اس سازش کے تحت دونوں بورڈز نے تا حکم ثانی اپنے کھلاڑیوں کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک دیا ہے۔ دوسری جانب دنیائے کرکٹ کے ستارے ہرشل گبز نے بھارت کی دھمکیوں کو انٹرنیشنل لیول پر بے نقاب کر دیا ہے ہرشل گبز کا کہنا ہے کہ بھارتی بورڈ سیاسی ایجنڈا بیچ میں لا رہا ہے مجھے نہ کھیلنے پر پابند کیا جانا مضحکہ خیز بات ہے۔ لنکن ٹائیگر دلشان نے بھارتی گیڈر بھبکیوں کو حاضر میں نہ لاتے ہوئے کشمیر لیگ کھیلنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مزید کہا کہ بھارت کون ہوتا ہے مجھے کسی دوسرے ملک کے ایونٹ سے روکنے والا۔

کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر پریمیئر لیگ کی کامیابی سے خائف ہے کیونکہ کشمیر پریمیئر لیگ 27 ممالک میں نشر ہوگی۔ ظاہری بات ہے جب کشمیر پریمیئر لیگ ہوگی تو کشمیر کا معاملہ اٹھے گا۔ پی سی بی نے بھارتی بورڈ کے اقدام پر برہمی کا اظہار کیا ہے کہ یہ آئی سی سی ارکان کے ذاتی امور میں مداخلت ہے۔ ترجمان دفترخارجہ زاہد حفیظ نے ٹویٹر بیان جاری کیا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو ڈریسنگ روم میں بڑے ناموں کے ساتھ بیٹھنے سے محروم کرنا افسوسناک ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں بورڈز کے فیصلے کے بعد کشمیر پریمیئر لیگ نے دیگر غیر ملکی کرکٹرز سے خود معذرت کر لی ہے جبکہ لیگ میں اب غیر ملکی کھلاڑیوں کی جگہ مقامی کرکٹرز کو موقع دیا جائے گا۔

بھارت کو اپنے اس اقدام پر دنیا بھر سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر چپ ہی سہی مگر اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک شدید کرفیو نافذ ہے، وہاں انٹرنیٹ سروس معطل ہے تاکہ بھارت کی کارستانیاں دنیا کے سامنے نہ آ سکیں۔ کرفیو کو طوالت دینے کا مقصد ہے کہ ریفرنڈم سے قبل سوچی سمجھی منصوبہ بندی سے قبل کشمیریوں کا خاتمہ کر دیا جائے۔ 6 اگست 2020 سے غیر مقامی افراد کو شہریت کی اسناد کا اجراء کیا گیا اور مبینہ طور پر بڑی تعداد بھارتی ریٹائرڈ فوجی افسران کی ہے۔ ان میں سے کوئی بھی مسلم نہیں ہے۔ اس دوران کشمیری اضطرابی کیفیت سے دو چار ہیں تھے اور خدشہ ظاہر کر رہے تھے کہ بھارت کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ وہی دہرانا چاہتا ہے جو اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر کے کیا۔

اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کشمیر پریمیئر لیگ بھارت کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا ہے مودی سرکار کے نزدیک اگر یہ ہوتا رہا تو دنیا کی نظریں مقبوضہ کشمیر کے حالات سے متعلق دلچسپی اور آگاہی پر لگیں گی لہٰذا اسی ضمن میں گھناؤنے آرڈر کا اجراء 1 اگست کو جموں کشمیر کریمینل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے کیا کہ پتھر بازوں یعنی نہتے کشمیریوں کے خلاف بڑا ایکشن وفاق کو سمری کی صورت میں پہنچا دیا کہ نہ ان کو پاسپورٹ ملے گا اور نہ ہی سرکاری نوکری۔

یہاں ایک نکتہ توجہ طلب ہے کہ مودی نے کیا کشمیریوں کو ضروریات زندگی کی تمام اشیاء و ادویات، مہیا کی ہوئی ہیں؟ پاسپورٹ تو دور کی بات مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس ہی بحال کر دی جائے۔ یقیناً یہ قبیح پابندیاں بھارت کشمیر پریمیئر لیگ سے طیش کھانے والے انتہا پسند ہندؤں کو خوش کرنے کے لیے کر رہا ہے۔ مزید برآں بھارتی سرکار کا یہ کہنا ہے کہ وہ پتھر بازوں کو سیکیورٹی نہیں دیں گے۔

مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ بھارتی سیکیورٹی کی کیا حیثیت ہے؟ آئے روز یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں اتنے آتنگ وادیوں کو مار دیا گیا۔ اگر سیکیورٹی اس لیول کی ہوتی تو دہشت گرد کشمیر میں دندناتے نہ پھرتے۔ تف ہے عالمی امن کی تنظمیوں پر وہ بھارت کی ناقص رپورٹ اور بے بنیاد خبروں پر کوئی عقلی رویہ اختیار کیوں نہیں کرتیں۔ اسی اثنا میں بہت ہی خطرناک خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیکیورٹی نہ دینے سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بھارت نے سرکاری آرڈر کے تحت سیکیورٹی فراہم نہیں کی اور یہ پتھر باز کسی بڑی کارروائی میں مارے جا چکے ہیں۔ بھارت کا ناپاک ارادہ ہے کہ کشمیریوں کی آبادی اتنی کم کر دی جائے کہ وہ اپنے حقوق کی آواز بلند نہ کر سکیں اور جب استصواب رائے کا وقت آئے تو کشمیر کا بھارت سے الحاق کر دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
تابندہ خالد کی دیگر تحریریں