صدف کنول کا ”فیمنزم“ اور اس پر اٹھتا ہوا شور

پچھلے چند دنوں سے ٹی وی ایکٹر شہروز سبزواری کے اہلیہ صدف کنول کا ایک ٹی وی انٹرویو کا کلپ وائرل ہوا ہے۔ جس میں ٹی وی اینکر نے صدف کنول سے پوچھا ہے کہ ”عورت مارچ کے حق میں کچھ لوگ بات کرتے ہیں، کچھ تنقید کرتے ہیں، اسی طرح فیمنزم، مساوات کی بحث ہے، عورت کی مظلومیت کی بات ہوتی ہے، آپ اسے کیسے دیکھتی ہیں۔ صدف کنول نے سادگی سے جواب دیا ہے کہ

”میرے نزدیک عورت مظلوم یا بیچاری نہیں، وہ مضبوط ہے۔ میں بہت مضبوط ہوں، امید ہے آپ بھی ہوں گی۔ ہمارا کلچر یہ ہے کہ میرا میاں ہے، میں نے اس سے شادی کی ہے، مجھے اس کے جوتے بھی اٹھانے ہیں، میں اس کے کپڑے بھی استری کروں گی، جو کہ اگرچہ میں نہیں کرتی، کم کرتی ہوں، مگر مجھے پتہ ہوتا ہے کہ شہری (شہروز سبزواری) کے کپڑے کہاں پڑے ہیں، مجھے پتہ ہونا چاہیے کہ اس نے کیا کھانا، کب کھانا ہے۔ یہ مجھے پتہ ہونا چاہیے کیونکہ میں اس کی بیوی ہوں۔

میں ایک عورت ہوں۔ شہری کو میرا پتہ ہونا چاہیے مگر مجھے اس کا زیادہ پتہ ہونا چاہیے کیونکہ میں ایک عورت ہوں۔ اس لئے بھی کہ میں یہ سب دیکھتی ہوئی بڑی ہوئی ہوں۔ فیمنزم کی بات کرنے والے لبرل ہیں، آج کل ایسے بہت سے لبرل آ گئے ہیں۔ میرے نزدیک فیمنزم یہ ہے کہ اپنے میاں کا خیال رکھوں، اسے عزت دوں، جو مجھ سے ہو سکے وہ کروں، یہ مجھے سکھایا گیا ہے۔“

یہ ویڈیو وائرل ہوئی ہے اور حمایت و مخالفت میں باقاعدہ ٹرینڈ بن گئے ہیں اور مختلف آراء سامنے آتے رہے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اس اڑ میں ان کی ذات ہی کیا پورے خاندانی اقدار کو ہدف تنقید بلکہ طنز و مذاق بنا دیا گیا ہے۔

طعنہ یہ ہے کہ ”رجعت پسند خواتین تو بمثل لونڈیاں ہیں جس نے غلامی کا طوق اپنے گردنوں میں پہنا ہے“
”جاہل ہے وہ عورت جو خاوند کی ماتحت ہے اور اس زندگی پہ خوشی کا ناٹک کر رہی ہیں“
”یہ چودہ سالہ پرانا تصور ہے کہ خاوند عورت کا مجازی خدا ہے“ ۔
”عورت آزاد ہیں، خودمختار ہیں اور اپنی ہی مرضی کے مطابق زندگی جینے کا حق رکھتی ہیں“
”ان کا جسم ان ہی کی مرضی“
”عورت نوکرانی تھوڑی ہے کہ کھانا گرم کرنا بھی اس کی ذمہ داری ہے“
”عورت کو خاوند کی تابعداری کا سبق پڑھا کر گھر میں مقید کرنا جہالت ہے“

یہ سوچ اور بیانیہ دراصل تہذیب مغرب کا اثر اور مرعوبیت ہے۔ مغربی معاشروں میں نکاح جیسے مقدس اور مضبوط بندھن کی بجائے پارٹنرشپ کا تصور، چلن اور محض لذت پانے کی جستجو ہے جو حاصل کر کے وقتی خوشی کا اظہار ہوتا ہے اور جو تھوڑا سا ”پرانا“ ہوتا ہے اسے پھینک کر کچھ ”تازہ“ پانے کی تڑپ ہوتی ہے۔ اسی احساس اور سہولت نے عورت اور مرد دونوں کو اپنی ذمہ داریوں سے آزاد کر رکھا ہے اور ہر دو میں سے کوئی بھی کسی ”بوجھ“ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نکاح کیا ہے اور رشتے کیا بلا ہے، فرائض کیا ہیں اور برداشت کیا شے ہے، فضیلت کیا ہے اور تقدس کی کیا معنی ہے، بقا کیا ہے اور دوام کی کیا ضرورت ہے؟

یہ اور اس طرح کی کئی اصطلاحیں وہاں معقود ہو چکی ہیں جس کی سبب خاندانی نظام کمزور تر اور پورہ معاشرہ منتشر ہے اور دراصل انسانی نسل کا تسلسل اور بقا خطرے سے دوچار ہے اور نسلوں کے درمیان خلیج بڑھتا جا رہا ہے۔

اس کے برعکس اسلام کا تصور نکاح ایک منفرد تصور ہے جو دراصل نسل انسانیت کی بقا اور تہذیب کی حفاظت کا ضامن ہے۔

یہ بھی واضح ہو کہ بیوی کو لونڈی اور شوہر کو آقا بلکہ دیوتا کے طور پر پیش کرنا اور یا سمجھنا ہندوانہ تصور تو ہو سکتا ہے اسلام کا ہرگز بھی نہیں ہے۔

”قرآن مجید میں نکاح کو لفظ احصان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حصن قلعے کو کہتے ہیں اور احصان کے معنی قلعہ بندی کے ہیں۔ جو مرد نکاح کرتا ہے وہ“ محصن ”ہے۔ گویا وہ قلعہ تعمیر کرتا ہے اور جس عورت سے نکاح کیا جاتا ہے وہ“ محصنہ ”ہے یعنی اس قلعے کی حفاظت میں آ گئی ہے جو نکاح کی صورت میں اس کے نفس اور اس کے اخلاق کی حفاظت کے لئے تعمیر کیا گیا ہے۔

اسلام نے میاں بیوی کے حقوق و فرائض بالکل واضح کیے ہیں۔ ہر ایک کا اپنا اپنا دائرہ کار اور اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ مرد کی ایک درجہ میں فضیلت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ ”قوام“ یعنی سربراہ و صاحب امر ہے اور ایسا انتظامی طور پر ہے کیونکہ گھر اور خاندان باقاعدہ ایک ادارہ ہے جہاں ایک با اختیار اور ذمہ دار کا تعین لازمی ہے تاکہ معاملات کو اچھے طریقے سے چلایا جاسکے۔ امیر اور مامور کا مطلب کبھی بھی مالک اور نوکر کی معنی میں ہے ہی نہیں بلکہ اطاعت تو معروف کی دائرے میں باہمی مشاورت، اعتماد، محبت اور عزت و احترام کے ساتھ ہے۔ گھر میں روشنیاں بکھیرنے کے لئے دیے میں تیل ڈالنے کی ذمہ داری مرد کی ہے جو اپنا خون پسینہ بہا کر یہ انتظام کر لیا کرتا ہے اور دیے و روشنی کی حفاظت پورے وقار اور اعتماد کے ساتھ کرنا عورت کی ذمہ ہے۔

نکاح ایک مقدس رشتہ اور مضبوط بندھن ہے اور اسی میں نسل انسانی کا تسلسل، استحکام، بقا اور خاتون و مرد کی اخلاق، عفت و عصمت کا تحفظ ہے۔ اخلاق کو فحش اور تمدن کو فساد سے محفوظ رکھنا اس کا مقصود ہے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ

ھن لباسٌ لکم وانتم لباسٌ لہن ﴿بقرہ، 187﴾ ”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“ ”یعنی جس طرح لباس اور جسم ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہے اور لباس خارجی فضا کے مضمر اثرات سے حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے عین اسی طرح عورت و مرد کی باہم دل آور روحیں ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہوں، ایک دوسرے کی ستر پوشی کریں، اور ان اثرات سے ایک دوسرے کو بچائیں جو ان کی عزت اور اخلاق پر حرف لانے والے ہوں۔ ازدواج کا تعلق مودت و رحمت کی بنیاد پر ہو تاکہ مناکحت سے تمدن و تہذیب کے جو مقاصد متعلق ہیں ان کو وہ اپنے اشتراک عمل سے بدرجہ اتم پورا کرسکیں اور ان کو اپنی خانگی زندگی میں وہ راحت و مسرت اور سکون و ارام حاصل ہو سکے جس کا حصول انھیں تمدن کے بالاتر مقاصد پورے کرنے کی قوت بہم پہنچانے کے لئے ضروری ہے۔“

میاں، بیوی نوکر نوکرانی کیونکر؟ بیوی، شوہر کی باہمی محبت ہی دونوں کو ایک دوسرے کا معاون و مددگار بنا لیتی ہے۔ ‏مغرب کی مرد، عورت پارٹنر شپ تارعنکبوت کی طرح کمزور ہوتی ہے کہ قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ اسلام کا تصور نکاح مضبوط ترین رشتہ ہے کہ اس کی بنیاد اخلاقیات پر قائم ہے۔ حقوق و فرائض کے نام پر لکیریں کھینچ کر دلوں کے درمیان خلیج ہی کا پیدا کیا جانا ہوتا ہے جس کا انجام گھروں کی ویرانی اور بربادی ہوتی ہے۔ حقوق پانے کے لیے قانونی نہیں بلکہ محبت کی جنگ جیتنا ہی خوشحالی، فرحت اور سکون کی دولت عطاء کر لیتی ہے۔ گھروں میں خوشیاں قوانین سے نہیں بلکہ محبت، احسان، قربانی، ایثار اور اعتماد سے ہی آتی ہیں۔

”کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے“ ”کچھ سہ کر بہت سارا پایا جاتا ہے۔“ یہی دستور زندگی ہے۔

” صدف کنول نے اپنے خاوند کو عزت دینے، اس کے کپڑے استری کرنے، کھانے پینے کا خیال رکھنے کی بات علانیہ کی تو کچھ لوگوں کو عجیب لگ رہا ہے۔ کیا یہ ہم سب اپنے گھروں میں دیکھتے نہیں آئے؟ ہماری مائیں ایسا ہی کرتی رہی ہیں۔ ویسے ہم فخریہ کہتے ہیں کہ ہماری والدہ اور والد کی زندگی بڑی خوشگوار رہی، والد اپنی ازدواجی زندگی سے بہت خوش، مطمئن اور آسودہ رہے۔ اس کے پیچھے جو جادو پوشیدہ تھا، اسے دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

بطور مرد مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ بیوی میرے جوتے اٹھائے، اس میں میرے لئے کیا احساس برتری ہو سکتا ہے؟ میرے نزدیک یہ اہم ہے کہ وہ میری عزت کرے کیونکہ میں بھی اس کی عزت کرتا ہوں۔ میں ذاتی طور پر شہروز سبزواری کا ہم خیال ہوں کہ مرد اور عورت کا الگ الگ کردار ہے، کسی کا دوسرے سے غیر اہم نہیں، ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کے کنٹری بیوشن کو تسلیم کریں، سراہیں اور اپنی زندگی کو جنت بنائیں۔ ٹوٹتے رشتوں کو جوڑنے کا یہ آسان گر ہے“

درجہ ذیل کمنٹس بھی کسی مولوی کی نہیں بلکہ ایک ”لبرل“ خاتون کی ہے جو درحقیقت ایک بڑی حقیقت کی عکاس ہے۔ شمع جونیجو، ٹی وی اداکارہ، مشہور بلاگر کالم نگار، سوشل ایکٹوسٹ ہیں، لکھتی ہیں کہ

”بھائی،

میرا شوہر تو اپنے بنائے ہوئے کھانوں کی فیس بک پر پوسٹ لگا دیتا ہے۔ ہم سب مل کر کام کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر ”اٹھ اوئے“ کہ کر چلاتے بھی رہتے ہیں۔ مجھے چائے ہمیشہ میرا بیٹا بنا کر دیتا ہے لیکن اس پر چالیس بار چیخا جائے تو پھر۔

اور یہی گھر کی خوبصورتی ہوتی ہے۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words