ڈاکٹر روف پاریکھ کی کتاب: صحت زبان (الفاظ، محاورات اور، مرکبات کا درست استعمال)

مبصر: ڈاکٹر تہمینہ عباس

پبلشر: ادارہ فروغ زبان قومی زبان، اسلام آباد
قیمت: 400

ڈاکٹر روف پاریکھ علمائے لغت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی علمی خدمات میں انگریزی اور اردو میں دوسری لکھی گئی کتابوں میں، لسانی مباحث، لغوی مباحث، فرہنگیں اور لغات کے علاوہ بعض اہم لغات بالخصوص اردو لغت بورڈ کی ضخیم 22 جلدی لغت کی تین جلدیں بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر روف پاریکھ ”صحت زبان“ کے حوالے سے کافی عرصے سے مضامین لکھ رہے ہیں جو کسی بھی لفظ کے صحیح تلفظ اور املا کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے ”صحت زبان“ کے حوالے سے لکھے گئے اپنے تمام مضامین کو یکجا کر دیا ہے۔

یہ کتاب قارئین، اساتذہ و طلبہ کے لیے بے شمار ابہامات کو دور کرنے اور درست زبان بولنے اور لکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے ابتدائیہ میں ڈاکٹر روف پاریکھ نے ایک واقعہ قلم بند کیا ہے کہ ”ایک صاحب نے اپنے بے روزگار لخت جگر کی ملازمت کے سلسلے میں مولانا ماہر القادری سے سفارش کی درخواست کی۔ مولانا کی کوششوں سے موصوف کے صاحب زادے کہیں نوکر ہو گئے۔ تو ان صاحب کو خیال آیا کہ مولانا کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

چنانچہ انھوں نے اپنے خط میں مولانا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ“ میرے بیٹے کو ملازمت مل گئی ہے اور یہ سب آپ کی ریشہ دوانیوں کا نتیجہ ہے۔ اپنی دانست میں انھوں نے ادبی زبان لکھی تھی۔ اگر انھیں ریشہ دوانیوں کے صحیح معنی معلوم ہوتے (یعنی سازش) تو یوں کبھی نہ لکھتے۔ موجودہ دور میں اخبارات نے من مانا املا لکھنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ املا کی تبدیلی سے بسا اوقات لفظ ہی بدل جاتا ہی اور مفہوم کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ ”صحت زبان“ میں ڈاکٹر روف پاریکھ نے ان ہی اغلاط کی تصحیح کی ہے۔ اس کتاب میں درج مندرجہ ذیل الفاظ کی بابت ڈاکٹر روف پاریکھ نے مختلف سندوں سے ان کا درست املا اور تلفظ بتا یا ہے۔ ہر لفظ کی بابت مکمل تفصیل موجود ہے۔

1۔ اب بھی، اور، ابھی بھی۔ میں ”اب بھی“ کا استعمال درست ہے
2۔ اتائی اور عطائی (بمعنی نیم حکیم، بے استادا) کا املا ”اتائی“ درست ہے۔
3۔ ادائی یا ادائیگی میں، ادائی درست ہے۔
4۔ اسامی یا آسامی (عہدہ یا ملازمت کی جگہ) میں ”اسامی“ درست املا ہے۔
5۔ استفادہ حاصل کرنا اور استفادہ کرنا میں ”استفادہ کیا“ درست ہے۔
6۔ اسلام و علیکم، اور، السلام علیکم، میں درست املا ”السلام علیکم“ ہے۔
7۔ عش عش اور اش اش کر اٹھنا میں، ”اش اش“ کر اٹھنا درست ہے۔
8۔ الحاج سے مراد جس نے حج کیا ہو۔
9۔ اللہ حافظ اور خدا حافظ دونوں درست ہیں۔
10۔ املاک، اضلاع، اقساط کا صحیح تلفظ املاک، اضلاع، اقساط ہے۔
1ا۔ انکساری کے بجائے ”انکسار“ درست ہے۔ عاجزی و انکساری کے بجائے ”عاجزی و انکسار“ درست ہے۔

12۔ انگریزی کی جمع اردو میں، اردو جمع بنانے کے قاعدے سے بنائی جائے مثلا، ڈاکٹرز، نرسز، بورڈز، اسکولز، کی درست جمع ڈاکٹروں، نرسوں، بورڈوں، اسکولوں ہے۔

13۔ اہالیان کراچی غلط املا ہے۔ درست املا اہالیان کراچی، اہالیان محلہ ہے۔ واحد اگر لکھنا ہے تو اہل کراچی درست ہے۔ اہل محلہ درست ہے۔

14۔ اہالی موالی، اور، ہالی موالی کی ترکیب درست ہے۔
15۔ ایک سو چارواں کے بجائے ”ایک سو چوتھا“ درست ہے۔
16۔ آواز کسنا، اور، آوازہ کسنا، میں ”آوازہ کسنا“ درست ہے۔
17۔ لمحہ با لمحہ اور لمحہ بہ لمحہ میں ”لمحہ بہ لمحہ“ درست املا ہے۔
18۔ براہ مہربانی، اور، برائے مہربانی میں ”براہ مہربانی“ درست ہے۔
19۔ برخواست، اور، برخاست، میں ”برخاست“ درست املا ہے۔
20۔ پذیر، اور، پذیر، میں درست املا ”پذیر“ ہے۔
21۔ بصد ادب، اور بصد ادب، میں صحیح تلفظ ”بصد ادب“ ہے۔
22۔ بیدار یا بے دار، میں صحیح املا ”بیدار“ ہے۔
23۔ بے نیل و مرام اور بے نیل مرام میں درست املا ”بے نیل مرام“ ہے۔
24۔ لاپرواہی اور لاپروائی میں درست املا ”لاپروائی“ ہے۔

25۔ پس منظر اور پس منظر میں درست تلفظ ”پس منظر“ ہے۔ پیش لفظ اور پیش لفظ میں درست تلفظ ”پیش لفظ“ ہے۔

26۔ پیش گوئی اور پیشین گوئی دونوں درست ہیں۔ مگر مستقبل کے حالات کی خبر دینے کے حوالے سے ”پیشین گوئی“ کا استعمال بہتر ہے۔

27۔ پھولوں کا گلدستہ کہنا غلط ہے۔ گل کے معنی پھول ہیں اس لیے گلدستہ کہنا کافی ہے۔ آب زم زم کا پانی کہنا غلط ہے آب کے معنی پانی کے ہیں۔ اس لیے آب زم زم کہنا درست ہے۔

28۔ تابع اور تابع دار میں، تابع درست ہے۔ مثلاً ہم آپ کے تابع ہیں۔ میں آپ کا تابع ہوں۔
29۔ توتا یا طوطا میں، توتا درست املا ہے۔

30۔ طوطی یا توتی ایک قسم کی چڑیا کا نام ہے۔ لیکن اردو میں اسے مذکر ہی بولا جاتا ہے۔ اسی لیے درست محاورہ یہ ہوگا۔ طوطی یا توتی بولتا ہے۔

31۔ اردو میں جن کی جمع ”اجنہ“ رائج ہے۔ جو غلط العام ہے۔ لیکن اب اردو میں جن کی جمع کے طور پر ”اجنہ“ کو درست تسلیم کر لیا گیا ہے۔

32۔ چشم زدن اور چشم زدن میں ”چشم زدن“ درست ہے۔
33۔ چیخ پکار اور چیخ و پکار میں ”چیخ پکار“ درست ہے۔
34۔ حامی بمعنی حمایت کرنے والا، ہامی بمعنی ہاں کہنے کا عمل، ہامی بھر لینا درست املا ہے۔
35۔ خواتین و حضرات بھی درست ہے۔ مگر ایسی جگہ صرف حضرات کہہ دینا کافی ہے۔
36۔ حیرانی یا حیرانی میں ”حیرانی“ درست ہے۔

37۔ خاصہ اور خاصہ معنی کے اعتبار سے دو علیحدہ لفظ ہیں۔ خاصا بمعنی مناسب، ضرورت کے مطابق، خاصہ بمعنی خصوصیت، خصلت، عادت مثلاً۔ ”بعض کالم نگاروں کا خاصہ ہے۔“

38۔ خاطر خواہ کے معنی ہیں مطلوبہ خواہش کے مطابق۔ اگر کوئی اخبار یہ لکھ دے کہ کرونا کے مریضوں میں خاطرخواہ اضافہ۔ تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ کرونا کے مریضوں میں خواہش کے مطابق اضافہ ہو گیا۔ اگر کوئی یہ لکھے کہ اس کی دولت میں خاطر خواہ کمی ہو گئی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی دولت میں اس کی خواہش کے مطابق کمی ہو گئی۔

39۔ خود کش اور خود کش میں ”خود کش“ درست ہے۔ خود کش کا مطلب خود کو مارنے والا، اپنی جان لینے والا، جراثیم کش کا مطلب جراثیم کا مارنے والا۔

40۔ درستی اور درستگی میں ”درستی“ درست ہے۔
41۔ فریق کے معنی دو افراد کے ہیں اس لیے دونوں فریقین کہنا غلط ہے۔ فریقین کہنا درست ہے۔
42۔ خط و کتابت غلط ترکیب ہے۔ خط کتابت درست ہے۔
43۔ دست کاری اور دس تکاری میں دست کاری درست ہے۔
44۔ دست گیر اور دستگیر میں ”دست گیر“ درست ہے۔
45۔ روح و رواں یا روح رواں میں درست ترکیب روح و رواں ہے۔
46۔ دوا یا دوائی میں صحیح لفظ ”دوا“ ہے جو درست ہے۔
47۔ فریقین کا مطلب ہے دو فریق، اس لیے فریقین کہنا درست ہے۔ دونوں فریقین کہنا غلط ہے۔
48۔ دیہات یا دیہاتوں میں ”دیہات“ درست ہے۔ کیونکہ دیہات خود جمع ہے۔
49۔ سیاحت یا سیاحت میں درست تلفظ ”سیاحت“ ہے۔
50۔ طلبہ اور طلباء دونوں درست ہیں۔ دونوں میں لام پر زبر پڑھنا ضروری ہے۔
51۔ ضبطی یا ضبطگی میں صحیح لفظ ”ضبطی“ ہے۔

52۔ ضیاع: ضائع ہونے کا عمل۔ ضیا بمعنی روشنی، اجالا۔ زیاں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی نقصان، گھاٹے کے ہیں۔

53۔ عوام:اردو کی تمام لغات کے مطابق عوام جمع ہے اور مذکر ہے عوام سوچ رہے ہیں یا عوام کہہ رہے ہیں لکھنا درست ہے۔

54۔ غیظ اور غیض میں درست املا ”غیظ“ ہے۔
55۔ فیس کی جمع اردو میں فیسوں ہوگی یا فیسیں ہوگی۔ فیسسز کہنا غلط ہے۔
56۔ قسائی یا قصائی میں اردو کے ماہرین اور لغت نویس قسائی کو درست املا تسلیم کرتے ہیں۔
57۔ کارروائی میں دو ”رے“ ہیں اور کارواں میں ایک ”رے“ ہے۔
58۔ کان کن اور کان کان کن میں درست تلفظ کان کن ہے۔
59۔ کس مپرسی یا کسم پرسی میں ”کس مپرسی“ درست ہے۔

60۔ برگزیدہ یا بر گزیدہ میں درست تلفظ بر گزیدہ ہے، بر گزیدہ بمعنی چنا ہوا۔ منتخب کیا ہوا۔ وہ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں۔

61۔ سگ گزیدہ یا سگ گزیدہ میں ”سگ گزیدہ“ کی ترکیب درست ہے۔
62۔ پنا گزیں ور پناہ گزیں میں پناہ گزین درست تلفظ ہے۔

63۔ ماخذ یا مآخذ دونوں درست ہیں لیکن مفہوم میں تھوڑا سا فرق ہے۔ ماخذ (یعنی خے پر زبر کے ساتھ) واحد ہے اور مآخذ (یعنی الف ممدودہ اور خے پر زیر کے ساتھ) اس کی جمع ہے۔

64۔ مترجم، مترجم، مترجم: مترجم بالکل غلط تلفظ ہے، جبکہ ”مترجم ’سے مراد جو ترجمہ کرے، ترجمہ کرنے والا۔

65۔ مترجم سے مراد جس کا ترجمہ کیا گیا ہو۔ ترجمہ کیا ہوا، ترجمہ شدہ۔
66۔ مترجمہ: وہ خاتون جنھوں نے ترجمہ کیا۔
67۔ مترجمہ۔ وہ کتاب جس کا ترجمہ کیا گیا ہو۔
68۔ گزیدہ، چننا
69۔ گزیدن۔ ڈنک مارنا
70۔ مجاز یا مجاز: دونوں درست ہیں لیکن دونوں کا مفہوم اور استعمال الگ ہے۔

71۔ مجاز (میم پر زبر کے ساتھ) کا مفہوم ہے وہ جس کا وجود حقیقت نہ ہو۔ مجازی: جو اصلی نہ ہو، جو حقیقی نہ ہو۔

72۔ مجاز (میم پر پیش کے ساتھ) کے معنی ہیں جس کو اجازت دی گئی ہو۔ مثلاً افسر مجاز۔
73۔ مجھے جانا ہے اور میں نے جانا ہے میں درست ”مجھے جانا ہے“ ہے۔
74۔ مرض یا مرض میں درست تلفظ مرض ہے۔
75۔ مصالحہ اور مسالہ میں درست تلفظ اور املا مسالہ ہے۔
76۔ مصور یا مصور، مصور: تصویر بنانے والا۔ مصور: جس کی تصویر بنائی جائے۔
77۔ بمعہ اہل و عیال، مع اہل و عیال میں مع اہل و عیال لکھنا درست ہے۔

78۔ معرکہ آرا یا معرکۃ الآرا: معرکہ آرا درست ہے، جس کے معنی زبردست کے ہیں، فلاں صاحب نے معرکہ آرا مضمون لکھا۔

79۔ معنون کا صحیح تلفظ ہے (معن ون) یعنی کسی کتاب کو کسی کے نام معنون کرنے کا مطلب ہے کہ اس کا انتساب اس کے نام کرنا۔

80۔ مکاتب اور مکاتیب اردو میں دو علیحدہ لفظ ہیں۔
81۔ مکتب کی جمع ہے مکاتب، مکتب فکر کی جمع مکاتب فکر ہوگی۔
82۔ مکتوب ی جمع مکاتیب یعنی خط۔ مکاتیب شبلی۔
83۔ مکتب فکر یا مکتبۂ فکر میں درست مکتب فکر ہے۔

84۔ ملتوی یا منسوخ: جو چیز وقتی طور پر ٹل جائے اور اس کے بعد میں ہونے کا امکان ہو تو اسے ملتوی کہتے ہیں جب کہ کسی کام کے ہونے کا بالکل ہی امکان نہ ہو تو اسے منسوخ کہا جاتا ہے۔

85۔ منت یا منت: دونوں ہی درست ہیں۔ لیکن دونوں کا مفہوم الگ ہے۔ منت (میم پر زبر کے ساتھ) اس کا مطلب ہے، عہد، قسم، وعدہ، نذر یا نیاز یا بھینٹ۔ منت ماننا: کسی خواہش کی تکمیل کے لیے منت مانی جاتی ہے۔

منت (میم کے نیچے زیر) التجا، التماس، عاجزانہ درخواست، خوشامد۔
86۔ منتخب یا منتخب:
منتخب (خے پر زبر) کے معنی ہیں جس کا انتخاب کیا جائے۔

منتخب (خے کے نیچے زیر) جو انتخاب کرے، جس نے انتخاب کیا ہو۔ یعنی عوام اور ووٹ دینے والے منتخب ہوتے ہیں اور جیت کر آنے والے منتخب ہیں۔

87۔ منتظر یا منتظر:منتظر (ظ کے نیچے زیر) کے معنی انتظار کرنے والا۔ منتظر (ظ کے اوپر زبر) جس کا انتظار کیا جائے۔

87۔ مہذب یا مہذب: مہذب (ذال پر زبر، تشدید کے ساتھ) ، مہذب (ذال کے نیچے زیر، تشدید کے ساتھ) دونوں درست ہیں۔ مگر دونوں کے معنی مختلف ہیں۔ مہذب کا مطلب تہذیب سکھانے والا، شائستگی سکھانے والا، مہذب کا مطلب تہذیب یافتہ، آداب و شائستگی کا خیال رکھنے والا۔

88۔ مین میخ یا مین میکھ میں درست مین میکھ ہے۔

89۔ نا یا نہ میں ”نا“ تو ایک سابقہ ہے جو نفی کے لیے آتا ہے جیسے نا اہل، نا تجربے کار، نادان ناگوار، ناشائستہ وغیرہ

”نہ“ حرف نفی ہے اور نہیں کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ کئی کالم نگار اب ”نہ صرف“ کو ”نا صرف“ کہتے ہیں۔ درست ”نہ صرف“ ہے۔

90۔ نقطہ یا نکتہ:
نکتہ: رمز کی بات، گہری بات یا عقل کی بات
نقطہ۔ وہ باریک نشان جو قلم کاغذ پر رکھنے سے بنتا ہے۔
91۔ نکتۂ نگاہ اور نقطۂ نگاہ میں ”نقطۂ نگاہ“ درست ہے۔
92۔ نکتہ نظر اور نقطۂ نظر میں ”نقطۂ نظر“ درست ہے۔
93۔ ہراسانی اور ہراسانی میں درست لفظ ہراسانی ہے۔
100۔ اژدہام اور ازدہام دونوں املا غلط ہیں صحیح املا ازدحام ہے۔

مندرجہ بالا الفاظ کے علاوہ بھی کچھ ایسے الفاظ موجود ہیں جن کے درست تلفظ اور املا کے حوالے سے اس کتاب میں مباحث موجود ہیں۔ لسانی نقطۂ نظر سیایک عمدہ کتاب ہے۔ جو ہماری املا کی اغلاط اور درست تلفظ کی سمت رہنمائی کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words