کیا بنو امیہ میں عمر بن عبدالعزیز پیدا ہونا ایک جرم ہے؟


بات ملک خدا داد کی ہو اور کنفیوژن نہ ہو ایسا ممکن نہیں ہے، یہی کنفیوژن مجھے اس مضمون کا عنوان چننے میں ہو رہی تھی، لیکن پھر ایک اصطلاح ذہن میں آ گئی سوچا قوم کو آسانی سے سمجھ آ جائے گی، اس ملک میں اگر آپ بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ صاف نہیں کر رہے تو آپ غلط ہیں، اس ملک میں آگر آپ سچ بول رہے ہیں، تو آپ کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، اس ملک میں اگر آپ کو سوال پوچھنے کا فن آتا ہے تو یہ فن ”حرام“ ہے اس ملک میں اگر آپ نے غلطی سے بھی اکثریت کے خلاف کوئی رائے قائم کر لی ہے یا کسی مذہبی گروہ کے خلاف رائے قائم کر لی ہے تو پھر آپ اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر چلنا سیکھ لیں، یہ اس لئے کیونکہ ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ”کارڈ“ ہے جس کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں اور ان میں سب سے موثر ترین کارڈ ”مذہب کارڈ“ ہے جس کے لئے آپ کا ذہنی نابالغ ہونا شرط ہے، جیسا کہ آج کے دور میں ایک جماعت یہ کارڈ بیچ رہی ہے اور لوگ خرید رہے ہیں، بات بات پر وہ حکمرانوں کے عقائد کا فیصلہ کرنے سڑکوں پر نکل آتے ہیں، انہیں روکنے کی کوشش کریں تو کہتے ہیں دیکھو یہ اسلام کے دشمن ہیں، بھلا آپ کا دین سے کیا تعلق؟ بدمعاشی اور غنڈہ گردی کو اسلام کے لباس میں چھپا کر ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔

جب سے یہ ملک وجود میں آیا ہے، سب کچھ ہی غلط ہو رہا ہے یا کم از کم اسی کی دہائی سے تو ضرور ہو رہا ہے، شریف خاندان نے نظام کی جڑیں ایسی زمین میں بوئیں جس کو پانی جاتی امراء سے دیا جاتا تھا، جس سے پوری ایک نسل ملک میں بھیڑوں کی طرح پھیل گئی جن کا رنگ کالا بتایا جاتا ہے، عرف عام میں الفاظ کو جوڑا جائے تو کالی بھیڑیں

کہتے ہیں، جن کو آج کی زبان میں پٹواری کہا جاتا ہے، جو تقلید میں آنکھوں سے نہیں ذہن سے اندھے ہیں، چوری اور کرپشن کا دفاع ایسے کرتے ہیں جسے وہ خود ملوث ہیں اور کیس کا دفاع کر رہے ہیں، سامنے نظر آتی کرپشن کو کہیں گے ثابت تو نہیں ہوئی؟

بی بی شہید اور ان کے والد صاحب نے بھی ایسی نسل کو جنم دیا، جس کو جنم دیتے ہوئے بانجھ بھی سو دفعہ سوچے گی، پر ایسا ہو چکا ہے، سیاسی رنگوں میں جاہل قوم کا ذہنی دباؤ ایک خاص حد سے اوپر جا کر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ یہ قوم سے ہجوم بننے میں وقت نہیں لگاتی، کیونکہ اسے جاہل رکھا گیا تھا، اسی میں ان کا فائدہ تھا۔

یہیں جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا، اسی وقت اس بنو شریف اور بنو بھٹو کے دور میں عمر بن عبدالعزیز نے جنم لیا، جس کو دنیا عمران خان کے نام سے یاد کرتی ہے۔

یہ انسان چونکہ اکثریت کے خلاف تھا اس لئے یہ شروع سے ہی غلط قرار پایا، یہ سچ بول رہا تھا اس لئے یہ جھوٹا ثابت شدہ تھا، یہ کرپٹ لوگوں اور نظام سے سوال پوچھ رہا تھا اس لئے یہ غلط تھا، کیونکہ یہ فن تو حرام ہے، نیک نیت اور خالص انسان تھا اس لئے جال بچھانے والوں کو بہت زیادہ مواقع ملے تاکہ اسے ناکام کیا جائے اور وہ ناکام ہوتا رہا، لیکن آخر کب تک؟ آخر گنگا میں بہتے بہت سے لوگوں نے اس مرد مجاہد کا ہاتھ پکڑنا شروع کر دیا، اور اسی لمحے بہتی گنگا میں سے اکثریت ان ہاتھ پکڑنے والوں کو یہودی کہ رہی تھی کیونکہ بقول ان کے عمران خان ایک یہودی تھا جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وقت گزرتا گیا وہ بہت سے لوگوں کو غلامی سے نکالتا گیا اور لوگ گنگا سے باہر نکلتے رہے، لیکن اکثریت پھر بھی اس کے عقیدے، دین ایمان اور نیت کا فیصلہ کرتی رہی جس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ مزید لوگ گنگا سے باہر نکلنے کے لئے عمران خان کا ہاتھ پکڑتے رہے اور گمراہی سے باہر آتے رہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تنقید کرنے والے بھی بڑھتے رہے، لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑا یہ آخری گیند تک کھیلنے والا کھلاڑی تھا لوگوں نے اسے سمجھنے میں غلطی کر دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اس کے بارے میں ایک غلط رائے قائم کر دی جس سے وہ آج تک پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

جب سے عمران خان حکومت میں آیا ہے ملک کا وفادار اس کے ساتھ کھڑا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ عمران ملک کے لئے تمام طاقتوں کے مقابلے میں ڈٹ کے کھڑا ہے، جس طرح ملک کو لوٹا گیا اس نے ایک ایک چیز عوام کو بتائی، کیونکہ سیاست کے میدان میں پہلی بار کپتان بنا تھا اس لئے غلطی کا امکان بھی موجود رہا، لوگ ہنستے تھے یہ چھ مہینے کے عرصے میں ہی آؤٹ ہو جائے گا، چند کے نزدیک تو تین ماہ کا الٹی میٹم دیا گیا، لیکن وہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاست کا مضبوط کھلاڑی بنتا رہا، معیشت میں استحکام آیا، سٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ترقی ہوئی، اصلاحات کا جال بچھا اور تو اور زمانے کے ڈاکوؤں کے خلاف مقدمات کیے وہ الگ بات ہے وہ قانون کو ہاتھ دکھا کر بھاگ گئے، لیکن اس نے تو اپنی پوری کوشش کی، ایک وزیر اعظم جو کر سکتا ہے وہ اس نے کیا، اسے ذلیل کیا گیا لیکن وہ ڈٹا رہا، آب وہ وقت ہے لوگ جھوٹ بول کر صرف اتنا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں کہ یہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ سب کہانیاں ہیں، دنیا میں ”ایک آدمی“ ہی تاریخ بناتا آیا ہے، ہجوم کا تصور تو اس قوم کو بعد میں پڑھایا گیا ہے۔

یہ قوم جاہل تھی اسے شعور ریا
یہ قوم کرپٹ تھی اسے علم دیا
یہ قوم بے مقصد تھی مقصد دیا
یہ قوم بے غیرت تھی غیرت دی
یہ قوم غلام تھی اسے آزادی دی

” لیکن آج یہ قوم اتنی سمجھدار ہو گئی ہے کہ سمجھداری دینے والے کو ہی گالیاں نکال رہی ہے“ حد تو یہ ہے کہ جنہوں نے ایک کرپٹ، چور اور ڈاکو کو تین دفعہ وزیر اعظم بنایا وہ بھی باتیں کر رہے ہیں، جب باتوں میں ہار جائیں گے، تو پھر ذاتیات پر کیچر کا انبار پھینکیں گے، وہاں بولتی بند ہو گئی، تو مذہبی طور پر دباؤ ڈالیں گے، کہ یہ اسلام دشمن ہے، کہیں بھی اپنی آنا کو تسکین نہ ملے تو کہیں گے عمران خان کرپٹ ہے وہاں بھی ثبوت نہیں ملیں گے تو پھر آخری حربہ ہو گا کہ اکیلا خان کچھ نہیں کر سکتا، بندہ پوچھے کہ کیا آب سچ کا پرچار کرنے کے لئے بھی ہجوم کی ضرورت پڑے گی؟ کیا آب بنو امیہ میں عمر بن عبدالعزیز پیدا ہی نہ ہو؟ کہ جس طرف گنگا بہ رہی ہے بہنے دو۔

یہ "یہودی ایجنٹ” بڑے بڑے مسلمانوں سے بہت اچھا ہے، کم از کم عزت سے سر اٹھا کر مقابلہ تو کر رہا ہے، ہار جائے گا، اسے بھی معلوم ہے لیکن آخری گیند تک مقابلہ کرنا ہے یہ بھی اسے معلوم ہے، ہار اس کا شیوا نہیں اور جیت سے کم پر وہ کبھی رکا نہیں۔

وہ کسی کا دوست نہیں اور کسی کا دشمن نہیں وہ ملک کا وفادار ہے اور اسلام کا ترجمان ہے، لوگوں کو تنقید کرنی ہے کریں لیکن دلیل سے، نفرت کرنی ہے پہلے بتا دیں ہمیں نفرت ہے، نوے کی دہائی اور تھی یہ اکیسویں صدی ہے، جہاں بنو امیہ میں عمر بن عبدالعزیز پیدا ہو چکا ہے، لیکن یہی تو اس کا جرم ہے۔

Facebook Comments HS