طالبان بدل گئے ہیں

طالبان کبھی شرق و غرب پر اسلامی جھنڈا لہرانے کے دعویدار تھے۔ فلپائن سے بوسنیا تک اور مشرقی ترکستان سے مراکش تک اسلامی نظام اور امہ کا درد اپنے سینے میں رکھتے تھے۔ مغرب میں تاجکستان میں اسلامی نظام تو مشرق میں کشمیر کی آزادی کے لئے کوششوں میں مصروف تھے۔ افغانستان میں روٹی نہیں مل رہی تھی لیکن امیر المومنین کی حکومت کی برکات ساری دنیا تک پہنچانے کے لئے پروگرام بن رہے تھے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جس کا باشندہ طالبان کے افغانستان میں ان کا مہمان نہ بنا ہو، یہ اور بات ہے کہ خود افغان جان و مال کی ڈر کے مارے پاکستان ایران اور دوسرے ممالک میں مہاجر بن رہ رہے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ طالبان کے دور میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے افغانستان میں جگہ تھی ماسوائے افغانوں کی۔ البتہ جو افغان وہاں رہ رہے تھے وہ افغان شہریت کی وجہ سے نہیں بلکہ طالبان کی فکری ہم خیالی یا مجبوری کی بنا پر رہائش پذیر تھے۔

کچھ حلقوں کا یہ بھی خیال تھا کہ روس افغان جنگ کے دوران دنیا بھر کے جو ’مجاہدین‘ پاکستان اور امریکہ نے تیار کیے تھے، جو جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ’مقصد‘ کی خاطر دنیا میں پھیل گئے تھے، اور جن سے مغربی معاشروں کو خطرہ اور خدشہ تھا، ان کو واپس افغانستان بلوانے اور ٹھکانے لگانے کی خاطر، سی آئی اے نے اپنے دوستوں کی مدد سے طالبان کی گڑ لگا کر طالبان کی حکومت میں اکٹھے کیے، وہاں پر بلوا کر ان کی پروفائلنگ کی گئی، کچھ کو جنگ میں مارا گیا، باقیوں کو پکڑوا کر گوانتاناموبے اور دوسری بلیک سائٹس پر ان کی تواضع کی گئی۔ اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان صرف سلطنتوں کی نہیں نظریات کی بھی قبرستان ہے۔ پہلے یہاں کمیونسٹ نظریہ کو شکست دی گئی پھر خلافت یا عالمی اسلامی نظام اور اب سرمایہ دار دنیا کی رخصتی ہو رہی ہے۔ ممکن ہے آگے نیم کمیونسٹ نیم سرمایہ دار چین بھی یہاں پر اپنی سلطنت اور نظریہ کو امتحان میں ڈال دے۔

وہ طالبان جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان نہیں سمجھتے تھے وہ ایران جیسے ’غیر مسلموں‘ سے پناہ مانگنے لگیں، جو روس جیسے ’ملحد‘ ملک میں اسلامی انقلاب کے داعی تھے وہاں سے اسلحہ سمیت سفارتی اور مالی مدد مانگنے گئے، جس انڈیا سے کشمیر آزاد کرا کے وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا ارادہ رکھتے تھے اس کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں شامل ہوتے رہیں۔ روس کی طرح ’سرخ کمیونسٹ کافر‘ چین سے سفارتی امداد اور اسلحہ مانگتے رہیں۔

طالبان نے امریکہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے اس میں القاعدہ، داعش اور اس قبیل کے دوسرے بین الاقوامی سیاست کا ایجنڈا رکھنے والے گروہوں کے خلاف طالبان نے، امریکی انٹیلی جنس اور لاجسٹک سپورٹ مدد سے لڑنا، ایسے گروہوں کو افغانستان سے نکالنا اور افغان سرزمین کو استعمال کرنے کی اجازت ان کو نہ دینا شامل ہے۔ جب کہ طالبان کے امیر المومنین نے موجودہ طالبان کے بالکل برعکس القاعدہ کے رہبر اسامہ بن لادن کی خاطر پورے افغانستان کو امریکہ اور ناٹو کی چراگاہ بنا ڈالا لیکن القاعدہ سے ہاتھ اٹھایا نہ اسامہ کو امریکہ کے حوالے کیا تھا۔

ساری دنیا کے مسلمانوں اور دنیا بھر میں اسلام کی سربلندی کے دعویدار طالبان نے چینی ترکستان (سنکیانگ) کے لاکھوں مقید مسلمانوں کی صورتحال سے دستبرداری کا معاہدہ کر کے افغانستان کے اندر ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے پناہ گیروں کو، حکومت ملنے کی صورت میں، افغانستان سے نکالنے پر چین سے معاہدہ کر کے ثابت کیا کہ آج کے طالبان رومان پسند نہیں حقیقت پسند طالبان ہیں۔

روس کے ساتھ معاہدے کے تحت افغانستان میں حکومت ملنے کے بعد، طالبان دریائے آمو کے پار حملہ آور کی حیثیت سے جائیں گے نہ ازبکستان مومنٹ کے لڑاکوں کو آگے جانے دیں گے۔

پاکستان کے ساتھ بھی ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں پر سمجھوتا ہے اگرچہ نور ولی محسود قبائلی اضلاع میں ’آزاد اسلامی ریاست‘ کا برا خواب دیکھنے میں مصروف ہے۔ کشمیر سے پاکستان دستبرداری کا پروگرام رکھتا ہے تو افغان طالبان کیا کہہ سکتے ہیں۔

ساری اسلامی تحریکوں، کسی بھی ملک میں مسلمانوں کی اچھی بری حالت، کسی بھی مسلم غیر مسلم ملک اور حکومت کے خلاف لڑنے والے انقلابیوں ’مجاہدین‘ اور اسلامی شدت پسندوں سے قطع تعلق کرنے کے بعد، طالبان صرف ’افغان اقتدار پسند‘ بچ جاتے ہیں وہ خود کو طالبان کہیں، خود کو اسلامی نظام کے علمبردار اور نفاذ شریعت
کے سپہ سالار کہیں یا کچھ اور، درحقیقت اب وہ مولانا فضل الرحمان صاحب کی طرح ایک جمہوریت پسند گروپ ہے، جو اسلامی نظام کے نعرے کی آڑ میں کابل میں اقتدار پر قبضہ کرنے کا واحد مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جو اکثریت میں نہ ہونے وجہ سے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں نہ خود کو جمہوریت پسند کہہ کر پھر اپنے نیم خواندہ ’مجاہدین‘ کو قابو کر سکتے ہیں۔

مجاہدین اور مظلومین سے، ساری دنیا سے، مشرق و مغرب سے، سرمایہ دار اور کمیونسٹ سے، مشرک و لادین سے معاہدے کر کے طالبان افغانستان میں کون سا اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں جس کی خاطر پر وہ کابل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں؟ میں تو پاکستان کے اسلامسٹوں کو کنفیوز سمجھتا تھا، جو پاکستان میں جمہوریت انڈیا میں سیکولرازم افغانستان میں اسلامی نظام اور چین کے مسلمانوں کے لئے کمیونزم عین اسلامی نظام سمجھتے ہیں لیکن طالبان ان سے بھی ایک قدم آگے ثابت ہوئے، کیونکہ وہ ماضی کے برعکس سارے اسلامی تنظیموں اور تحریکوں سے دستبردار ہو کر اور ساری دنیا کے ساتھ صلح کر کے صرف افغان حکومت کے خلاف لڑنا جائز سمجھتے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں مولانا صاحب اسمبلی میں نہ ہو تو اسلام خطرے میں ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہود کی سازش ہوتی ہے اور وہ اسلام آباد میں ہو تو اسلام محفوظ ہوتا ہے اسی طرح طالبان بھی کابل قبضہ کر کے یہود و ہنود کی سازش ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ طالبان بدل گئے ہیں، کیونکہ وہ ساری دنیا سے صلح اور کابل میں اقتدار کے خاطر ہر قسم کے سمجھوتے کرنا سیکھ گئے ہیں۔

ایک بات کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ طالبان کے پاس روس چین ایران پاکستان اور انڈیا کے ساتھ کیش کرنے کے لئے کافی چپس موجود ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ کیا کابل میں اقتدار ملنے کے بعد وہ ان چپس کو کیش کراتے ہیں یا کسی برے وقت کے لئے سنبھال کر رکھتے ہیں کیونکہ طالبان نے حال ہی میں افغانستان کے جتنے علاقے قبضہ کیے ہیں وہ ٹی ٹی پی ازبک چینی اور دوسرے غیرملکی لڑاکوں کی بھرپور مدد سے قبضہ کیے ہیں اور یہی مدد ان کو کابل پر قبضہ کرنے کے لئے اور بعد میں اپنی حکومت کی مضبوطی کے لئے مطلوب بھی ہوگی۔

افغان تاریخ گواہ ہے کہ افغان کو ایک دفعہ جس کی مدد سے بھی افغانستان کی حکومت ملی یے، وہ بعد میں افغانستان کا ہو گیا ہے۔ جس کی مثالیں ماضی میں حکمت یار اور ملا عمر ییں، جنہوں نے پاکستان کی بے پناہ امداد کے باوجود افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد پاکستان کے ساتھ بارڈر کا مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں کیا اور حال میں کرزئی اور اشرف غنی ہیں جنہوں نے امریکی مدد سے حکومت حاصل کرنے باوجود امریکی مرضی سے طالبان کے ساتھ یک طرفہ معاہدے کرنے سے انکار کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words