سپین بولدک: طالبان نے پاک افغان سرحد ’ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دی‘، لشکرگاہ پر قبضے کی کوشش کرنے والے طالبان کو روکنے کے لیے فوجی آپریشن جاری


افغانستان میں طالبان نے جمعے سے پاکستان، افغانستان کی سرحد کو سپین بولدک کے مقام پر ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے بند کر دیا ہے۔

طالبان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ جب تک پاکستان ایسے افغان پناہ گزینوں کو آنے جانے کی اجازت نہیں دیتا جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، تب تک یہ سرحد بند رہے گی۔

اس حوالے سے افغان طالبان کے قندھار کے کمشنر حاجی وفا کی جانب سے ایک پمفلٹ جاری کیا گیا ہے جس میں سرحد کی بندش کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس پمفلٹ میں کہا گیا ہے کہ آج جمعے کے روز سے سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد پاکستان اور افغانستان آنے جانے والے تمام افراد کے لیے بند کی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی کے ساتھ ملاقات میں کہا ہے کہ ایران افغانستان میں امن کے لیے پرعزم ہے۔

دریں اثنا افغان ملٹری کا کہنا ہے کہ جنوبی صوبے ہلمند کے دارالخلافہ لشکرگاہ میں ایک سینیئر طالبان کمانڈر اور درجنوں جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبان نے اس کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ افغان مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی آج ہونے جا رہا ہے جس کی صدارت انڈیا کرے گا۔

طالبان کے بیان میں مزید کیا کہا گیا ہے؟

سرحدی بندش کے حوالے سے طالبان کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب تک پاکستان ان افغان پناہ گزینوں کے لیے سرحد نہیں کھول دیتا جن کے پاس مہاجر کارڈ یا تذکرہ (سفری اجازت نامہ) موجود ہو۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صبح سے شام تک بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین سرحد پر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ کب پاکستان کی جانب جانے والا راستہ کھولا جاتا ہے تاکہ وہ پاکستان جا سکیں۔‘

پاک افغان سرحد کچھ عرصے سے لوگوں کے آمدو رفت کے لیے بند ہے صرف تجارتی سامان کی اجازت ہے اور ایسی اطلاعات ہیں کہ چمن اور سپین بولدک کے دمریان سرحد چند گھنٹوں کے لیے عام لوگوں کی آمدو رفت کے لیے کھولی جاتی ہے۔

سپین

Abdul Basit

افغان طالبان نے اب اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپین بولدک میں ویش کے مقام پر سرحد آمد و رفت کے علاوہ تمام چھوٹی بڑی گاڑیوں اور تجاری سامان کے لیے بھی بند رہے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے اس بارے میں افغان طالبان کے افغانستان میں ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطہ کیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرحد بند ہے اور اس کے لیے انھوں نے کوشش کی کہ پاکستان کی جانب سے سرحد کھول دی جائے کیونکہ ’پاکستان کی جانب سے صرف تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے اور اس کے لیے بڑی تعداد میں لوگ انتظار کرتے رہتے ہیں جن میں خواتین، بزرگ اور بچے شامل ہوتے ہیں اور اکثر علاج کی غرض سے پاکستان جانا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جب تین گھنٹوں کے لیے سرحد کھولی جاتی ہے تو اس میں اکثر لوگوں کو واپس کر دیا جاتا ہے کہ کارڈ صحیح نہیں ہے اور کاغذات مکمل نہیں ہیں اس لیے مجبوراً سرحد بند کر دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

سپین بولدک میں جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جب بھی پاکستان کی جانب سے سرحد مکمل طور پر کھول دی جائے گی تو اس کے بعد افغان طالبان کے کمشنر کی جانب سے سرحد کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔

ویش منڈی کی کیا اہمیت ہے؟

بلوچستان کے مقامی صحافی شہزادہ ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان سے افغانستان کے جنوب مغربی صوبوں اور وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان ویش منڈی طورخم کی طرح ایک اہم گزرگاہ ہے۔

طورخم کی طرح یہاں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان روزانہ لوگوں اور گاڑیوں کی بڑی تعداد کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت کراچی سے افغانستان کے لیے گاڑیاں اور دوسرے غیر ملکی اشیا آتی ہیں، ان کو بارڈر کراس کروانے کے بعد ویش منڈی میں رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منڈی کے باعث بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے روزانہ سینکڑوں پاکستانی تاجر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی بھی آمد و رفت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان افغانستان سرحد: ’پیچھے ہو جاؤ، خبردار جو ہماری تصویر لی!‘

افغان طالبان چمن، سپن بولدک بارڈر پر اضافی ٹیکس وصول کرنے لگے، ٹیرف لسٹ جاری

چمن کے بازاروں اور قبروں پر افغان طالبان کے جھنڈے کیوں لہرانے لگے؟

چمن بارڈر

سرحدی علاقے میں ماضی میں ہونے والی جھڑپیں

اس علاقے میں ماضی میں پاکستانی اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ویش منڈی اور اس سے متصل علاقوں میں روسی افواج کی موجودگی کے دور میں افغانستان میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی درمیان مستقل تناﺅ رہا اور بسا اوقات جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔

تاہم جب طالبان نے سنہ 1996 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تو اس کے بعد خاموشی ہو گئی۔ لیکن طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان تناﺅ کا سلسلہ پھر شروع ہوا۔

شہزادہ ذوالفقار نے بتایا کہ یہ تناﺅ ڈیورنڈ لائن پر پاکستان کی جانب سے باڑ لگانے پر ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک بڑی جھڑپ پاکستان میں گذشتہ مردم شماری کے موقع پر سرحد پر منقسم دو دیہاتوں کلی لقمان اور جہانگیر میں مردم شماری کے دوران ہوئی تھی۔

اس جھڑپ میں دونوں اطراف سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

ویش منڈی انتطامی لحاظ سے افغانستان کے صوبہ قندہار کا حصہ ہے۔ بلوچستان کے سات اضلاع کی افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں جن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن، نوشکی اور چاغی شامل ہیں۔

ان میں سے چار اضلاع پشین، قلعہ عبد اللہ، چمن اور نوشکی کی سرحدیں قندھار سے متصل ہیں۔ ان تمام اضلاع سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے لیکن سب سے بڑی گزرگاہ ضلع چمن سے متصل ویش منڈی ہے۔

یہ سرحدی شہر نہ صرف بلوچستان اور قندھار کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے بلکہ یہ ہرات کے راستے پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرتا ہے۔ اس روٹ سے نہ صرف افغان ٹرانزٹ کی گاڑیوں کی آمد و رفت ہوتی ہے بلکہ قندھار اور جنوب مغربی صوبوں میں تعینات نیٹو افواج کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی روٹ گزرتا تھا۔

افغانستان

افغانستان میں زمینی صورتحال کیا ہے؟

افغان فوج نے جنوبی صوبے ہلمند کے صدر مقام لشکرگاہ پر قبضے کی کوشش کرنے والے جنگجوؤں کو روکنے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جنھیں امریکی فضائی حملوں کی صورت میں پشت پناہی بھی حاصل ہے۔

لشکر گاہ اُن متعدد اضلاع میں سے ہے جہاں حکومتی فورسز طالبان جنگجوؤں کو شہروں پر قبضے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

بی بی سی کے ایڈیٹر برائے جنوبی ایشیا ایتھراجن امبراسن کے مطابق لشکرگاہ میں لڑائی کو اب نوواں روز ہو چلا ہے اور یہاں امریکی اور افغان فضائی حملے گذشتہ رات بھر جاری رہے ہیں۔

افغان فوج کے مطابق مولوی مبارک نامی طالبان کمانڈر درجنوں دیگر جنگجوؤں سمیت ہلاک ہو گئے ہیں۔

تاہم ایک طالبان ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو میں مولوی مبارک کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو پہنچنے والے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

افغان فوج اور طالبان دونوں ہی اس عسکری اہمیت کے حامل شہر پر قبضے کے لیے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے لیے کام کرنے والے لوگوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔

اشرف غنی اور ابراہیم رئیسی کی ملاقات

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے تہران میں ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی ہے۔

افغان صدارتی محل کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں ابراہیم رئیسی نے افغانستان کی ‘جائز حکومت’ سے تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ایران افغان عوام کی سلامتی، بہبود اور عزتِ نفس چاہتا ہے۔ مدد نہ رکی ہے اور نہ رکے گی۔

غنی جمعرات کو تہران کے ایک روزہ دورے پر ایران پہنچے تھے جہاں اُنھوں نے نومنتخب صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی۔

اُن کے ساتھ نائب صدر دوئم سرور دانش، وزیرِ خارجہ محمد حنیف اتمر اور چیف آف سٹاف عبدالمتین بیگ شامل تھے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp