بیانیے اور نواز شریف کی سیاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا، جیسا کہ شیخ رشید کی پیش گوئی ہے، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کی دراڑ نمودار ہوچکی جو پاکستان مسلم لیگ ن کو تقسیم کردے گی؟ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا اسٹبلشمنٹ اور تحریک انصاف ہمیشہ ایک صفحے پر رہیں گے؟ نہیں۔ ایسا نہیں ہے۔

شریف برادران کے درمیان حکمت عملی کی حد تک فرق البتہ موجود ہے کہ پارٹی میں کس بیانیے کو آگے بڑھایا جائے اور دوبارہ اقتدار کیسے حاصل کیا جائے؟ شہباز شریف کا خیال ہے کہ نواز شریف کی طاقتوراسٹبلشمنٹ سے ٹکراؤ اور مخالفت کی سیاست ن لیگ کی مشکلات کی وجہ ہے۔ چناں چہ وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کی جانشین مریم نواز اپنے بیانیے کی حدت کم رکھیں اور کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر رہیں تاکہ اس دوران وہ اسٹبلشمنٹ کو رام کرتے ہوئے اسے غیر جانبدار رکھ پائیں۔ لیکن نواز شریف کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے مسائل کا ایک حصہ ہے، ان کا حل نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے گزشتہ تین عشروں کے دوران تین مرتبہ حکومت کی قربانی دی۔ جیل اور جلاوطنی کاٹی۔ کیا صرف اس لیے کہ اب وہ ہار مان لیں تاکہ اُن کے بھائی شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان بننے کی بے سود کوشش کر دیکھیں؟

مسئلہ کافی پیچیدہ ہے۔ الجھن یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے انتخابی وزن رکھنے والے زیادہ تر راہ نما اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت چاہتے ہیں جب کہ اس کے ووٹروں کی اکثریت مریم اور نواز شریف کے مزاحمت کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہے۔ اور یہ مزاحمت اسی اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہے۔ گویا ”حقیقت پسندی“ اور ”آئین پسندی“ کی کشمکش اس وقت دونوں بھائیوں کے درمیان اختلا ف کی لکیر بنتی دکھائی دیتی ہے۔ اپنے مفاہمت کے بیانیے کی حمایت میں شہباز شریف کے حالیہ دنوں سامنے آنے والے بیانات بہت جلد ٹوئیٹر پر نواز شریف کے اسٹبلشمنٹ مخالف جذبات کی آندھی میں ہوا ہو گئے۔ نواز شریف نے وہ بحث ہی ختم کردی جس نے حالیہ دنوں مسلم لیگ ن میں ابہام اور مایوسی پھیلا رکھی تھی۔ بات واضح ہو چکی۔ اب شہباز شریف پر منحصر ہے کہ کیا وہ کھلی بغاوت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کو تقسیم کرتے ہیں یا اپنے لیڈر کے بیانیے کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں؟

اگر وہ بغاوت، یعنی مسلم لیگ کی تقسیم کی طرف جاتے ہیں تو اس میں بہت سی مشکلات ہیں۔ سب سے پہلی یہ کہ مقبول عام ووٹ نواز شریف اور مریم کے ساتھ ہے۔ انتخابی میدان کے پہلوان بھی اس حقیقت سے آشنا ہیں۔ اس لیے شہباز شریف کے نام کی مناسبت سے پاکستان مسلم لیگ ش کی کوئی اہمیت نہیں۔ دوسری بات یہ کہ اسٹبلشمنٹ شہباز شریف کے الگ ہوتے ہوئے دھڑے کو عمران خان کی دوبارہ ابھرتی ہوئی تحریک انصاف پر ترجیح نہیں دے گی کیوں کہ اس نے اب تک اسٹبلشمنٹ کی نگاہ میں کافی اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ درحقیقت پاکستان مسلم لیگ ن میں پڑنے والی دراڑ تحریک انصاف اور اسٹبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ کو تقویت پہنچائے گی۔ اس کا شہباز شریف کے بیانیے کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

نوازشریف کے بیانیے کے ساتھ بھی دو مسائل ہیں۔ اسٹبلشمنٹ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی اجازت دے کر نواز شریف کو اقتدار میں آنے کا موقع کیوں دے گی جب نواز شریف اعلانیہ طور پر اس کے پرکتر کراسے سیاسی میدان سے باہر کرنے کے لیے پرعزم ہیں؟ نیز کسی واضح اور ٹھوس حکمت عملی کی غیر موجودگی میں اسٹبلشمنٹ اور تحریک انصاف کا راستہ روکنے کی کوشش میں نواز شریف محض اندھیرے میں تیر تو نہیں چلارہے؟ بلاشبہ، اگر آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات کو ایک پیشگی وارننگ کے طور پر لیا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے گمنامی کی دھند میں کھوجانے کے امکانات واضح ہیں۔

تاہم کچھ ابھرنے والے عوامل ایسے حقیقت پسندانہ اعدادوشمار کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اوپر اسٹبلشمنٹ کے اہم کھلاڑیوں کے ذاتی عزائم کی کشمکش ہے۔ ان میں سے صرف ایک کے عزائم اگلے سال پورے ہوسکتے ہیں، او ر اس کی قسمت یا مقدر کا فیصلہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والی کوئی بھی کشمکش حزب مخالف کے لیے پاؤں رکھنے کی جگہ پیدا کردے گی۔ اس کے سامنے بھی ایک یا دو آپشن ابھر آئیں گے۔ دوسرا عامل ریاست اور معاشرے میں بحران کے گہرے ہوتے ہوئے بادل ہیں۔ جب یہ صورت حال کنٹرول سے باہر ہوئی تو دھماکہ خیز نتائج کی صورت اختیار کرلے گی۔

موجودہ بحران غیر معمولی بھی ہے اور کثیر پہلو بھی۔ ماضی میں معیشت یا داخلی سیاست میں اٹھنے والے بحرانوں پرقابو پانے کے لیے یا تو اسٹبلشمنٹ امریکی امداد سے معیشت کی سانسیں بحال کرادیتی تھی۔ اس کے عوض غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنا پڑتا تھا۔ یا پھر یہ اپنی طرف جھکاؤ رکھنے والے کسی اور سولین دھڑے کو اقتدار میں لے آتی تھی۔ لیکن اب ایسے امکانات کا دروازہ بند ہوچکا۔ تزویراتی معاملات پر اسٹبلشمنٹ کے امریکا کے ساتھ سنگین مسائل ہیں۔ جس کے منفی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ نیز اس سے پہلے اسٹبلشمنٹ کو کبھی مشرقی اور مغربی سرحدوں سے بیک وقت اتنے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا جتنا آج۔ لیکن اس کی معیشت کے عالمی سرمایہ دارانہ نظام (تجارت، امداد، نجی سرمایہ کاری، بیرونی ممالک سے آنے والی رقوم، قرضوں کی ادائیگی، زرمبادلہ کے نرخ اور پابندیاں)سے جڑے ہونے کی وجہ سے چین کا آپشن کام نہیں دے گا۔ عمران خان پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو بیک وقت ختم کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ اس صورت میں اسٹبلشمنٹ کے پاس بھی کوئی متبادل مقبول جماعت موجود نہیں۔ بدترین بات یہ ہے اسٹبلشمنٹ کو سیاسی چالبازیوں کی وجہ سے اپنے ”ہوم ٹاؤن“ پنجاب سے جس قدر تنقید کانشانہ بنایا جارہا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ جلد ہی یہ تناؤ اور الجھنیں اس کی ساکھ اور صلاحیت کو گھائل کردیں گی۔ اس کے لیے اندرونی اور بیرونی طور پر موجودہ سیاسی سمت برقرار رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

نوازشریف کا کہنا ہے کہ طاقت ور صرف طاقت کی زبان ہی سمجھتا ہے، اس لیے اسٹبلشمنٹ مخالف جارحانہ بیانیہ ہی آخر میں کامیاب ہوگا۔ بظاہر پیپلز پارٹی کی راہیں الگ کراتے ہوئے اسٹبلشمنٹ کا کامیابی سے پی ڈی ایم کو توڑنا ویسا ہی تھا جیسا اب شہباز شریف کو چکما دے کر پاکستان مسلم لیگ ن کی صفوں میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرنا۔

اب جب کہ برطانوی حکومت نے نواز شریف کی قیام بڑھانے کی درخواست مسترد کردی ہے، تحریک انصاف کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ لیکن اس دھماکہ خیز پیش رفت سے کئی ایک سوالات اٹھتے ہیں۔ برطانوی حکومت کو اس کیس کا فیصلہ کرنے میں دو سال کیوں لگے؟ اگر وہ برطانوی فیصلے کے سامنے مزاحمت کرتے ہیں تو کیا اندرون ملک اُن کی مقبولیت کو زک پہنچے گی؟

پاکستان میں نوازشریف پر تین سالوں کے دوران کون سا ہتھیار ہے جو نہیں آزمایا گیا لیکن اُن کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس لیے برطانوی حکومت سے اپیل کرنا اُن کے حامیوں کو مایوس نہیں کرے گا۔ یقینا وہ جانتے تھے کہ حالات کا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ اگروہ خائف ہوتے تو ابھی دو دن پہلے اسٹبلشمنٹ پر اس قدر شدید تنقید نہ کرتے۔ اُنہوں نے یقینا اپنے وکلا اور سیاسی مشیروں کے ساتھ مل کر کوئی حکمت عملی طے کر رکھی ہو گی۔ کیا اُن کے خیال میں عدالت اُنہیں عالمی پلیٹ فورم پر طویل موقع دے گی کہ وہ پاکستان میں اسٹبلشمنٹ، حکومت او ر عدلیہ کے ہاتھوں انتقامی کارروائی اور ناانصافی کا نشانہ بننے کا کیس پیش کر سکیں، خاص طور پر جس وقت خطے میں طوفان کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں؟

نوازشریف یقینا ایک روز پاکستان واپس آ جائیں گے۔ لیکن کن شرائط پر؟ اس کا سب سے اچھا موقع اگلے انتخابات سے قبل رضاکارانہ طور پر واپس آ کر عدالت کے حکم کی تعمیل کرنا ہو گا۔

بشکریہ: فرائیڈے ٹائمز


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments