سانحہ بھونگ اور جہالت کا جن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ پنجاب بارڈر کا آخری پنجابی ضلع رحیم یارخان ہے۔ جس کی تحصیل صادق آباد کا سرحدی نواحی علاقہ بھونگ کہلاتا ہے۔ بھونگ تحصیل ہیڈ کواٹر سے 26 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ جس کی وجہ شہرت یہاں کی بین الاقوامی تاریخی مسجد رئیس غازی خان ہے۔ جو منفرد طرز تعمیر میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ مسجد کی تعمیر و مرمت ہمہ وقت جاری رہتی ہے۔

دراصل اس مسجد کی تعمیر کا آغاز یہاں کے مقامی زمیندار رئیسں غازی خان نے کیا۔ اسی وجہ سے یہ مسجد انہی کے نام سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ رئیس غازی کو خواب میں ان کے پیر نے آ کر کہا تھا کہ مسجد کی تعمیر جاری رکھنا بصورت دیگر تمہاری موت واقع ہو جائے گی۔ رئیس غازی تو خیر 1975 میں وفات پا گئے مگر اس مسجد کی تعمیر تاحال جاری ہے۔

اس مسجد کی نسبت سے رئیس غازی کی اولاد کو علاقے میں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2002 کے الیکشن میں مرحوم کے دونوں بیٹوں رئیس وزیر احمد کو مسلم لیگ (ق) جبکہ رئیس شبیر احمد کے بیٹے رئیس منیر احمد یعنی رئیس غازی خان کے پوتے کو پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے اسی حلقہ NA۔ 197 کا ٹکٹ دے دیا۔ رئیس منیر احمد سیٹ جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور بعد ازاں سیاحت و ثقافت اور اقلیتی امور کے وزیر مملکت بنے۔

میں نے تقریباً 6 سال قبل بھونگ مسجد کا وزٹ کیا تھا۔ مسجد اپنی طرز تعمیر میں واقعی شاندار ہے۔ مسجد سے ملحقہ مارکیٹ بھی وزٹ کرنے کا موقع ملا مارکیٹ میں ہندو اور مسلمان تاجروں کی مختلف دکانیں ہیں۔ ہندو تاجر زیورات، کپڑے، جوتے اور مختلف ثقافتی اشیاء کی فروخت کے کاروبار سے منسلک ہیں اور انتہائی با اخلاق ہیں۔ یا یوں کہہ لیں کہ شاید یہ ان کی کاروباری مجبوری ہے۔ بھونگ میں تقریباً 150 سے 200 مختلف ذات پات کے ہندو خاندان آباد ہیں۔

میگھواڑ ذات بھی انہی میں سے ایک نچلی ذات ہے۔ مبینہ طور پر 24 جولائی کو تقریباً 11 / 10 بجے دن گوردھن کمار میگھواڑ کا 8 سالہ بچہ بھاویش کمار کھیلتا ہوا مسجد سے ملحقہ مدرسے کی لائبریری کے باہر گراسی پلاٹ جا پہنچا۔ جسے مسجد کے مدرسہ میں زیر تعلیم درس نظامی کے طالبعلم حافظ محمد ابراہیم جو مسجد کا نائب امام ہونے کا بھی دعویدار ہے نے دیکھ لیا۔ اور دور سے غضبناک ہو کر لعن طعن کرتے ہوئے بچے کو پکڑنے کے لئے دوڑا۔ بچہ یہ ساری صورتحال دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا گھبراہٹ کے علم میں اس کا وہیں پہ پیشاب نکل گیا۔ وہ پیشاب میں لت پت موقع سے بھاگ گیا اور خوف کی وجہ سے خود کو چھپا لیا۔

اگلے روز حافظ محمد ابراہیم چند لوگوں کو لے کر تھانہ جا دھمکا اور بچے کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے پر اصرار کرنے لگا۔ مگر لڑکے کی عمر کم ہونے کی وجہ سے پولیس لیت و لعل کرنے لگی۔ لیکن لوگوں کی تعداد بڑھنے اور ان کے ممکنہ ردعمل کے پریشر کی وجہ سے پولیس نے حافظ کی مدعیت میں ایک کس نامعلوم کے خلاف تھانہ بھونگ میں ایف آئی آر No۔ 206 / 21 زیر دفعہ A/ 295 درج کر لی۔ مستغیث مقدمہ کے مزید اصرار پر پولیس نے ننھے ملزم کو گرفتار کر کے 4 اگست کو عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے کمسن ملزم کو فوری طور پر ضمانت پر رہا کر دیا۔

ملزم کی رہائی شرپسندوں کو ایک آنکھ نہ بھائی اور انہوں نے ردعمل میں موٹروے ایم 5 پر آ کر رکاوٹیں کھڑی کر کے گزرنے والی گاڑیوں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ اس ہلڑ بازی کے نتیجے میں موٹروے بند ہو گئی۔ جاہل ہجوم کا اس پر بھی دل نہ بھرا تو ان میں سے کچھ نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے لٹھ لے کر شری گنیش مندر پر چڑھ دوڑے۔ مندر میں موجود تمام مورتیوں کو توڑ ڈالا۔ ہندو برادری کی دیگر مقدسات کی بھی شدید توہین کی۔ جس کی وجہ سے حالات شدید کشیدہ ہو گئے۔

ہندو برادری میں نہ صرف خوف و ہراس پھیل گیا بلکہ جان کے لالے بھی پڑ گئے۔ اپنی جانوں کو غیر محفوظ تصور کرتے ہوئے اس اقلیتی برادری نے اپنی دکانوں اور گھروں پر تالے ڈال کر محفوظ مقام پر منتقل ہونے میں ہی غنیمت جانی۔ حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی پی او رحیم یار خان اور ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی۔ حالات کو بے قابو دیکھ کر پاک فوج سے مدد طلب کی گئی۔ پاک رینجرز نے موقع پر پہنچ کر کرفیو نافذ کر کے صورتحال کو سنبھال لیا۔

کرک سمادھی کے بعد یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ آج 5 اگست یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا جا رہا ہے ہم مقبوضہ کشمیر میں مودی کے مظالم کی داستانیں بیان کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف انڈین ٹی وی چینلز اس سانحے کو بار بار دکھا کر عالمی سطح پر پاکستان میں اقلیتوں کے استحصال کا ڈھول پیٹ رہے ہیں۔ ہم ابھی تک فیٹف میں بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم انسانی حقوق کی پامالی الزام سے بھی باہر نہیں آ سکے۔ ملک کے دارالحکومت میں نور مقدم، عثمان مرزا، افغان سفیر کی بیٹی جیسے واقعات عالمی سطح پر ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔

کم سن بچیوں کے ساتھ پے درپے ریپ کے واقعات نے ہماری سوسائٹی کو پچھاڑ دیا ہے۔ ہم ذاتی مفادات کے لئے اپنے مخالفین پر توہین مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ہم نے سلمان تاثیر سے لے کر شہزاد اکبر تک کو معاف نہیں کیا۔ ہماری درس گاہوں اور مدرسوں کے مفتی، ملا، اور پروفیسرز اپنے شاگردوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے ان کا جنسی استحصال کر کے پیغمبروں کے مقدس پیشے تک کو داغدار کر دیتے ہیں۔ ہم عالمی سطح پر غیر محفوظ اور غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہے ہیں۔

یہ تمام معاشرتی جرائم ہیں۔ معاشرتی جرائم کے آگے قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہائی بے بس ہو چکے ہیں۔ جس معاشرے میں مجرموں کو رہائی ملنے پر ڈھول کی تھاپ، پھولوں کی برسات اور ریلیوں کی شکل میں استقبال کر کے گھروں تک لایا جاتا ہو۔ جرم کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو۔ سزا کاٹنے پر انہیں دلیر اور بہادر کے القابات سے نوازا جاتا ہو۔ قاتل موت کے پھندے کو چوم کر لٹک جاتے ہوں تو پھر اس گلے سڑے، بدبودار اور ڈھیٹ معاشرے کو سزائیں ہرگز ہرگز نہیں سدھار سکتیں۔

جاہل معاشرے کا علاج صرف اور صرف تعلیم و تربیت سے ہی کیا جاسکتا ہے بد قسمتی سے ہمارے ہاں سماجی تعلیم و تربیت، اخلاقیات اور تعمیری سوچ کا شدید فقدان ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہر سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی (انٹر فیتھ ہار منی) کے اداروں کے قیام کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سننے، ایک دوسرے کے مقدسات کے احترام، بقائے باہمی و بقائے انسانیت، صبر و تحمل اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینے کا نصاب شامل کر جہالت کو دھکا دینے کی کوشش کا آغاز کر دینا چاہیے۔ بصورت دیگر جہالت کا یہ جن جلد ہماری ریاست کو نگل لے گا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments