کرپشن کے نتائج اور نقصانات


چند دن پہلے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع کی گئی کرپشن پرسیپشن انڈکس (سی پی آئی) میں 180 ممالک میں پاکستان 124 ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ گزشتہ سال پاکستان کا نمبر 120 تھا یعنی ہم مزید چار نمبر تنزلی کی جانب گئے ہیں، اور اس تاثر میں اضافہ ہوا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی شرح کی بڑھ گئی ہے۔

کرپشن قدیم تاریخ سے آج کے جدید دور تک تمام معاشروں میں میں ایک بہت بڑا مسئلہ یا جرم رہا ہے حتی کے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک بھی کرپشن کا مکمل تدارک نہیں کرسکے۔ یوں تو کرپشن کی کوئی ایک تعریف نہیں، ورلڈ بینک نے اسے نجی یا ذاتی فائدے کے لیے سرکاری عہدے کا غلط استعمال قرار دیا ہے جبکہ یو ایس ایڈ کے مطابق کسی بھی سپرد اتھارٹی کا غلط استعمال ہے، لیکن اگر ہم ایک وسیع تناظر میں دیکھیں تو نجی اور سرکاری دونوں شعبوں میں موجود کرپشن موجود رہی ہے۔

کسی بھی ملک، ادارے یہاں تک کہ کسی چھوٹے سے کاروبار کی تباہی میں بھی کرپشن کا بہت بڑا کردار ہے۔ اگر ہم کرپشن کے نتائج پر بات کریں تو یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے مثال کے طور آپ کو کسی عمارت کی تعمیر کے لئے 10 لکھ روپے دیے جائیں اور آپ ان میں سے 30 فیصد رقم کرپشن کر کے اپنے ذاتی مقاصد میں استعمال کریں باقی 70 فیصد سے ناقص مٹیریل استعمال کر کے کام پورا کرنے کو کوشش کریں تو یقیناً یہ عمارت کچھ کی عرصے بعد زمین بوس ہو جائے گی۔

اب اگر ہم اس 30 فیصد رقم جو کرپشن کے ذریعے کھائی گئی کے بعد ہونے والی تباہی کے نتائج پر غور کریں تو جو چند قابل ذکر چیزیں سامنے آتی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ عمارت کے گرنے سے انسانی جانوں کے ضیا کا اندیشہ، جو 70 فیصد رقم خرچ بھی کی گئی اس کا ضیاء، اس عمارت کے دوبارہ تعمیر کے لیے مزید فنڈز کا درکار ہونا، حکومت یا اداروں کی ساکھ متاثر ہونا اور شفافیت پر سوالات اٹھنا۔ اس چھوٹی سے مثال سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کے کرپشن کتنا سنگین جرم ہے اور اس کے کس قدر تباہ کن نتائج آسکتے ہیں۔

اگر ہم کرپشن کے نقصانات کی بات کریں تو کوئی شک نہیں کوئی بھی ادارہ ہو یا کوئی ملک جہاں جس قدر زیادہ کرپشن ہوگی وہاں وہاں ترقی اور آگے بڑھنے کا عمل اتنا ہی کم ہوگا۔ کیوں کے جب بھی کسی معاشرے میں کرپشن بڑھتی ہے وہاں میرٹ کم ہوجاتا ہے۔ دنیا میں ہمیشہ انہی ممالک نے ترقی کی ہے جنہوں نے کرپشن پر قاب و پایا اور میرٹ کو فروغ دیا۔ موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف جنگ اور کرپشن کا خاتمہ کرنے جیسے نعرے پر ہی برسر اقتدار آئی اور عوام نے بھی وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو کرپشن کہ خاتمے کہ لیے ووٹ دیا مگر بدقسمتی سے اب تک حکومت اس کرپشن کے تدارک کے لیے کوئی موثر قانون سازی کر سکی اور نہ ہی کرپشن کہ خاتمے کہ لیے موجود اداروں کی کارکردگی میں کوئی خاطر خواہ بہتری آئی۔ کرپشن میں کمی سسٹم کو آٹومیشن پر منتقل کرنے اور اداروں میں اصلاحات کی ذریعہ سے ہی ممکن ہے۔ نیوزی لینڈ، ڈنمارک اور فن لینڈ جیسے ممالک اس کی بہترین مثال ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کرپشن کہ خاتمے کہ لیے موثر قانون سازی کرے کیونکہ کرپشن پر قابو پائے بغیر ملک کو ترقی کہ راستے پر ڈالنا ناممکن ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد وسیم بوزدار کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments