ایک خاتون کو وزارت عظمیٰ کی نشست دلانے والی قوم


ہم ذاتی طور پر خواتین و حضرات کی برابری کے دل سے قائل ہیں ؛ لیکن ایک ایسا معاشرہ جس پر مرد مسلط و حاوی ہوں یا یوں کہیے کہ جس سماج میں مردوں کا راج ہو، یعنی حضرات تخت پر ہوں اور خواتین تاخت و تاراج۔ وہاں خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ہم ان کے لیے کسی بھی رعایت یا سہولت کے مطالبے اور فراہمی کو ہم غلط نہیں سمجھتے۔ ایسے سماج میں خواتین کے الگ درس گاہیں، کارگاہیں اور علاج گاہیں وغیرہ ان کا حق ہے۔

کئی حلقے خواتین کی برابری اور مساوات میں یقین اور ان کے لیے یکساں حقوق و سہولتوں کے حامی ہونے کے باعث ان کے لیے الگ اداروں کے خلاف بھی ہیں، اور اسے عدم مساوات اور صنفی امتیاز سمجھتے ہیں، لیکن جس معاشرے میں نکاح کے وقت بیوی کے نام کے اعلان کے باوجود جب اگلے دن لوگ دوست احباب یا دفاتر و اداروں میں اس کا نام لینے سے گریز کرتے ”تمھاری بھابی“ یا ”تمھاری بہن“ کہیں، یا کسی اچھی کارکن کو یہ فرما کر کام کا موقع فراہم کرنے سے انکار کر دیں کہ، ”ارے وہ تو عورت ہے۔“ تو ایسے معاشرے کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہاں خواتین کے لیے الگ انتظام کیا جائے۔ خواہ پھر کچھ لوگ صنفی برابری اور مساوات کے اس شدت سے ہی قائل کیوں نہ ہوں کہ ان سے خواتین و حضرات کے الگ ٹوائلٹس بھی برداشت نہ کیے جاتے ہوں۔

صنفی برابری اور مساوات اچھی بات سہی لیکن ہم کسی عورت کو سہیلی، سکھی یا ساتھی کہ دیں تو وہ ناراض بھی ہو سکتی ہے۔ یہ اچھی بات ہوگی کہ عورت اور مرد شانہ بشانہ چلیں لیکن کھوے سے کھوا چھلنے کا چلن اچھا نہیں! ہو سکتا ہے بہت سے لوگوں کے لیے اس قسم کی باتوں میں کوئی قباحت نہ ہو لیکن جہاں آپ یا آپ کی کزن آپ کو چائے کا کپ تھماتے ہوئے انگلیاں تک نہ ٹکرانے کا اہتمام کریں اور آپ بذات خود یا آپ کی ہم کار خاتون آپس میں معانقہ یا مصافحہ تو درکنار کوئی فائل وغیرہ پکڑاتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاتھ کے پوروں پر اپنے فنگر پرنٹس دینے تک سے کترائیں، تو ایسے معاشرے میں صنفی برابری بڑے احترام سے تھوڑے سے فاصلے کی بھی متقاضی ہے!

علاوہ ازیں حضرات کو چاہیے کہ خواتین کے مسائل حتی الامکان ان کو خود حل کرنے دیں، خواہ وہ خواتین ان کی والدہ ہوں یا بیگم۔ کیوں کہ اس سلسلے میں مرد کی غیرجانبداری ہمیشہ سے مشکوک رہی ہے۔ اگر وہ ماں کا ساتھ (غلط یا صحیح کی تخصیص کے بغیر) دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ابھی تک ماں کا پلو نہیں چھوڑا اور بیوی کی حمایت کرتا ہے تو زن مرید ٹھیرایا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے خیال سے ان دونوں باتوں میں کوئی بھی خرابی نہیں کہ کوئی بیک وقت ماں کا پلو بھی نہ چھوڑے اور مردانہ وار زن مریدی بھی اختیار کر لے۔ چاہے ساس بہو کی آپس میں نہ بھی بنتی ہو۔ مرد دونوں سے بنائے رکھے۔ یہ دو کشتیوں کی سواری نہیں دو ہستیوں کی محبت ہوگی۔

ایک موقعے کا لطیفہ یاد آ رہا ہے : ایک صاحب کی بیوی اور والدہ میں زبردست قسم کا جھگڑا جاری تھا، اور آں جناب دونوں خواتین کی بات چیت سنے جا رہے تھے، ہمہ تن گوش۔ اسی اثنا میں ان کے والد ماجد بھی موقعہ واردات پر آن پہنچے۔ فرمایا، ”میاں صاحبزادے تمہاری والدہ اور زوجہ اتنی شدت سے لڑ رہی ہیں اور تم خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہو؟“

بیٹے نے بے چارگی سے جواب دیا: ”ابا جی میں تو اماں اور بیوی کی طرف سے ایک دوسرے خلاف ہونے والے انکشافات کے باعث گنگ ہو گیا ہوں۔“ لہذا اس سے پہلے کہ بات اس قسم کے انکشافات تک پہنچے بہتر یہی ہے کہ میاں، بیوی کو الگ گھر نہیں تو کم از کم باورچی اور غسل خانہ ضرور دلا دے۔ اور یہ کہ زوجہ محترمہ بھی کل کو اتنا ظرف رکھتی ہوں کے زیادہ نہیں تو اس قسم کی کسی صورتحال میں بہو کے برتن الگ کر سکیں!

اگر عورت اپنی مرضی یا شوہر کی رضا یا باہمی رضامندی سے ملازمت یا کاروبار کرے تو میاں کا بھی اس کا ہاتھ بٹانا بنتا ہے۔ کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ جب وہ تھکے ہارے گھر لوٹیں تو بیوی تو بلا اجرت و معاوضہ بھنگن، دھوبن اور باورچن کی خدمات سرانجام دینے لگے اور آزاد منش شوہر ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول تھام کر سرفنگ میں ”مصروف“ ہو جائے! اور رات کو بیوی سب فرائض نمٹا کر فارغ ہو تو اس تھکی ہاری بیوی سے یہ امید بھی رکھی جائے کہ سالن گرم کرنے والی پہلو بھی گرم کرے۔ بیوی کو مہر ادا کر کے شوہر کو اتنا بے مہر بھی نہیں ہونا چاہیے!

اب جب کہ یورپ تک میں عورتوں کے لیے گلابی بسیں چلائی جا رہی ہوں تو پاکستانی جیسے پسماندہ اور درماندہ قوم کی خواتین کے لیے الگ کمپارٹمنٹ پر کسی کو اعتراض زیب نہیں دیتا۔ اگرچہ اب یہ عام مشاہدہ ہے کہ زنانہ سواریوں کی تعداد دن کی کچھ حصوں میں اس قدر زیادہ ہوتی ہے کہ بعض اوقات وہ حضرات کے حصہ میں بٹھائی جاتی ہیں، لیکن باقی اوقات ایسا نہیں ہوتا اور ان اوقات میں ٹرانسپورٹر صاحبان خواتین کے کمپارٹمنٹ میں بھی لڑکوں بالوں اور حضرات کو بٹھا دیتے ہیں یا پھر وہ اپنی مردانگی کا مظاہرہ کر کے خود ہی خواتین کی سیٹوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔

اور کئی بار جگہ نہ ہونے کی وجہ سے زنانہ سواریاں سٹاپ پر کھڑی رہ جاتی ہیں ؛ سو ایسے ٹرانسپورٹر اور سوار حضرات سے گزارش ہے کہ برادران عقل کے ناخن لیں۔ ان صاحبان کا سا کام نہ کریں کہ جنہوں نے ایک جگہ ”مستورات کے لیے“ لکھا دیکھا اور سمجھا کہ ”مستو! رات کے لیے“ لکھا ہوا ہے۔ لہذا آپ بھی لیڈیز کمپارٹمنٹ کو خواتین کا حصہ اور حق سمجھیں نا کہ اسے لیڈ۔ ایز کمپارٹمنٹ سمجھیں۔

کمپارٹمنٹ یعنی وہ کمپارٹمنٹ جہاں لیڈ (لڑکے بالے ) ایز (راحت) محسوس کریں یا اسے تفریح گاہ سمجھیں۔ Lad-Ease

اور یہ کتنی عجیب بات ہوگی کہ ایک خاتون کو وزارت عظمیٰ کی نشست دلانے والی قوم اسے سواری کی نشست سے محروم کرنے کی کوشش کرے!

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments