ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم کی متاثر کن کارکردگی بھی پاکستان کو میڈل نہ دلا سکی
💔💔
but take a bow #ArshadNadeemYou effort teach us that ww have talent in other Sports too
Apko Puri Qaum Ka Salam pic.twitter.com/RgXzTAeKfm
— Abdul Ghaffar 🇵🇰 (@GhaffarDawnNews) August 7, 2021
اس سے قبل 2008 میں ابھیناو بندرا نے شوٹنگ میں بھارت کو طلائی تمغہ دلایا تھا۔
پاکستان کے ارشد ندیم نے دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کا مقابلہ تو خوب کیا۔ البتہ ان کی تھرو سے بہتر چار اور کھلاڑیوں کی تھرو تھی۔ یوں ویٹ لفٹر طلحہٰ طالب کی طرح وہ بھی ٹاپ فائیو میں جگہ بنانے میں تو کامیاب ہوئے البتہ پاکستان کو میڈل نہ جتوا سکے۔
The whole nation is proud of Arshad Nadeem. He finished in top 5 but his determination will motivate and inspire Millions of Pakistanis.
Punjab Govt will IA ensure more and better sporting facilities for our youth to follow in the footsteps of #TalhaTalib and #ArshadNadeem. 🇵🇰 pic.twitter.com/7xl94idRFZ
— Usman Buzdar (@UsmanAKBuzdar) August 7, 2021
گولڈ میڈل جیتنے والے نیرج چوپڑا نے اگر 87 عشاریہ 58 کی لانگ تھرو پھینکی تو ارشد ندیم کی بہترین تھرو 84 عشاریہ 62 تھی۔
ایونٹ میں چاندی اور کانسی کا تمغہ دونوں ہی چیک ری پبلک کے کھلاڑیوں کے نام رہا۔ جیکب ویلڈیجچ 86 عشاریہ 67 اور ویٹیزسلاو یزلی 85 عشاریہ 44 کی لانگ تھرو کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔
ارشد ندیم اور کانسی کے تمغے کے بیچ میں جہاں ایک میٹر سے بھی کم کا فرق تھا، وہیں درمیان میں جرمنی کے جولین ویبر بھی تھے جنہوں نے اپنی سیزن بیسٹ کارکردگی دکھا کر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔
جرمن ایتھلیٹ نے فائنل میں 85 عشاریہ 30 میٹر دور تھرو پھینکی۔ وہ ٹاپ فائیو میں واحد کھلاڑی تھے جنہوں نے چھ باریوں میں سے ایک بھی فاؤل نہیں کیا۔ باقی تمام کھلاڑیوں، جس میں بھارتی نیرج چوپڑا بھی شامل تھے، دو دو مرتبہ لائن ریفری کو سرخ جھنڈا اٹھانے پر مجبور کیا۔
ارشد ندیم کا فائنل پاکستان بھر میں دیکھا گیا۔ جب کہ بعض مقامات پر اس کے لیے بڑی اسکرینیں بھی نصب کی گئیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لوگوں نے ان کی کارکردگی کی خوب تعریف کی اور 24 سالہ ایتھلیٹ کو مستقبل کا ستارہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ارشد ندیم کی تعریف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا کہ ان کی وجہ سے اولمپک گیمز میں پاکستان اتنا آگے آنے میں کامیاب ہوا۔
#ArshadNadeem, thank you for giving us hope and taking us this far. Pakistan is proud of you. #Olympics
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 7, 2021
You tried your best @ArshadJavelin !! Welldone. A true champion is a true champion. They go fight and win or lose, give it their all. You have already made the entire nation proud of you. Better luck next time! #ArshadNadeem#PakistanZindabad
— Faisal Javed Khan (@FaisalJavedKhan) August 7, 2021
Its not about winning or losing. It's about getting out there and putting up a fight. That is what makes you a winner! We are all super proud of you champ! ♥️🇵🇰#ArshadNadeem pic.twitter.com/gakkjHy2Fy
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) August 7, 2021
https://twitter.com/76Shadabkhan/status/1423980451782397961
انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کے معصوم والد کو اب بھی ان سے میڈل کی توقع ہے۔
Arshad Iqbal couldn’t win a medal but despite huge odds he reached the finals… his father is so innocent that long after the results he was still hoping his son will bring a medal
— Shahid Hashmi (@hashmi_shahid) August 7, 2021
#ArshadNadeem you WIN… you defied all the odds stacked against you. Absence of facilities, coaching, organization…you were driven with the passion to make your country proud. You did it in your OWN…YOU WIN… #PakistanZindabad
— Fakhr-e-Alam S.I & S.E (@falamb3) August 7, 2021
ریحان الحق نامی صارف نے ارشد ندیم اور اولمپک گولڈ میڈیلسٹ نیرج چوپڑا کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑی نے یورپ میں ٹریننگ کی جب کہ ارشد ندیم کو ملک ہی میں سہولیات میسر نہیں۔
Compare this to @NatashaRaheel’s story of #ArshadNadeem: https://t.co/ncYHOGeOrt pic.twitter.com/cLo5sBJ3En
— Rehan Ulhaq (@Rehan_ulhaq) August 7, 2021
ایک اور صارف وسیم اقبال نے پاکستانیوں کا دل جیتنے پر ارشد اقبال کا شکریہ ادا کیا۔
Thanks Arshad Nadeem for winning hearts of whole Pakistan. ❤️🇵🇰 #ArshadNadeem pic.twitter.com/1i8cl9wcdG
— Wasih (@WaseemACA) August 7, 2021


