اسلامیہ یونیورسٹی کے بحران کا نوحہ


خورشید ندیم صاحب نے اپنے مضمون ”اسلامی یونیورسٹی کا بحران“ میں بڑی عمدہ بات کہی کہ ”علم کی تخلیق بند ماحول میں نہیں ہو سکتی۔ یہ خوف کی فضا میں بھی نہیں ہو سکتی۔ اس کے لئے آزادی رائے کا احترام پہلی شرط ہے۔“ جس وقت خؤرشید صاحب یہ بات لکھ رہے تھے کیا ان کے ذہن نے یہ سوال نہیں کیا کہ پاکستان کی کسی بھی یونیورسٹی کا آزادیٔ رائے سے کیا تعلق۔ آزادی رائے کا تصور تو جدیدیت کے فلسفے سے ماخوذ ہے جسے پاکستان میں الحاد سے تعبیر کیا جاتا اور پاکستان بطور ایک نظریاتی ریاست، پاکستانی تعلیمی ادارے بطور کسٹوڈین آف ریلیجن، آئیڈیالوجی اور مذہبی اساس۔ کس طرح اور کیونکر۔ رائے کے اظہار کی آزادی فراہم کر سکتے ہیں۔

خورشید صاحب نے اپنے مضمون میں بڑی عمدگی سے پاکستان کے اخلاقی مسائل اور آمرانہ رجحانات کی وجہ بیان کی۔ لکھتے ہیں کہ ”بند ماحول میں جہاں علم تخلیق نہیں ہو سکتا، وہاں بہت سے اخلاقی مسائل بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس سے ایک طرف آمرانہ رجحانات پیدا ہوتے ہیں اور دوسری طرف دوغلی شخصیات۔ آپ اصل خیالات کا اظہار کبھی نہیں کرتے کیونکہ نقصان کا احتمال رہتا۔ آپ وہ بات کہتے ہیں جو ارباب حل و عقد کے لئے قابل قبول ہو۔ کوئی اختلاف کی جسارت کر گزرے تو اس کے لئے عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا۔ یوں اعلی تعلیم کے ادارے بہتے دریا کی بجائے ایک جوہڑ میں تبدیل ہو جاتے۔“

بلاشبہ یہی ہمارے ملک اور سماج کی سچی اور کھری تصویر کشی ہے۔ یونیورسٹیاں چونکہ کسی بھی سماج کا سب سے اعلی اور شاہکار ادارہ ہوتیں جہاں سماج میں پائی جانے والی عمومی اخلاقیات اور تہذیب اپنی بہترین شکل میں موجود ہوتی ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کو بھی کوئی استثنا حاصل نہیں۔ اگر زیر بحث ڈاکٹر مشتاق کی برطرفی کو ہی دیکھا جائے تو وقار اور رکھ رکھاؤ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی نے بالکل کسی دوسری پبلک یا پرائیویٹ یونیورسٹی کی طرح کا رویہ اور طریقہ کار اختیار کیا جو ہمارے سماج کے عمومی کلچر کا عکاس ہے اور یہ عکاسی اپنے معیار کے اعتبار سے بہترین ہے۔ ورنہ بیشتر اداروں میں تو سابقہ ملازم کو کھڑے کھڑے نوکری سے نکالنے، انٹری کارڈ چھیننے اور ذاتی سامان کے لئے گارڈز کے کمرے سے رجوع کرنے کا رواج ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو تو پھر باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر کے عزت سے رخصت کیا گیا۔

ڈاکٹر مشتاق کی اپنی پریس کانفرنس ہو، یا خورشید ندیم صاحب کا مضمون، جن آدرشوں، اصولوں اور فلسفوں کی دہائی ان میں دی گئی وہ سارے کے سارے مغربی ہیں۔ انہی آدرشوں اور اصولوں کو جب ڈاکٹر ہود بھائی جیسے لوگ پیش کریں تو دشنام، کردارکشی اور بدگمانی کی ایک نئی تاریخ۔ ہر بار رقم ہوتی ہے۔ اس وقت جب یہ طوفان بدتمیزی اپنے عروج پر ہو ڈاکٹر مشتاق یا دیگر اہالیان علم خاموش رہتے ہیں چونکہ اس وقت ان کے لئے اصول نہیں شخصیت اہم ہوتی، حق بات نہیں، عصبیت اہم ہوتی ہے۔

اسلامیہ یونیورسٹی کے بحران کا مضمون ایک یاد دہانی ہے کہ تعلیم یا علم کے فروغ کو پاکستان کے مسائل کا حل ماننے والے انگریزی والی فولز پیراڈائیز میں رہتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو علم کو دینی اور دنیاوی دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی دینی علم کے دلدادہ صاحبان کے تخیل کی معراج ہے۔ اس یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹر مشتاق کے خلاف جو رویہ روا رکھ گیا۔ وہ دنیاوی تعلیمی اداروں کے رویوں سے بالکل بھی مختلف نہیں۔

انتظامی اعتبار سے یہ تو ضرور ہے کہ نظر بظاہر اسلامیہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کوئی ایسی تجربہ کار ثابت نہیں ہوئی چونکہ الزامات اس قدر بودے اور بے وزن ہیں کہ پہلی چند پیشیوں میں ہی ڈاکٹر صاحب کو عدالت واپس نوکری پر بحال کر دے گی۔ اسلامیہ کی جگہ کوئی دوسری یونیورسٹی ہوتی تو کام پکا کرتی، مگر ناتجربہ کاری یا نالائقی کا کوئی حل نہیں۔ البتہ رویے اور کلچر میں دونوں ایک سے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی کا بحران صرف اسلامیہ یونیورسٹی کا نہیں پاکستان کی ہر یونیورسٹی اور ادارے کا بحران ہے۔ اظہار رائے کی آزادی یا متنوع موضوعات، خیالات اور نظریات کو برداشت اور تعمیری نقطہ نظر سے پنپنے کا موقع فراہم کرنا سیکولر نظریے کی اساس ہے۔ ہم اپنے ناموں میں ہی نہیں کاموں میں بھی تضاد اور نظریاتی خلفشار کا شکار ہیں اور ڈاکٹر مشتاق کی برطرفی بس اسی حقیقت کی ایک یاد دہانی ہے۔ اور کچھ نہیں۔

Facebook Comments HS