افغانستان میں جاری فساد اور اے این پی


افغانستان میں جاری فساد کو اس وقت کئی اطراف سے ہوا دینے کی کوششیں جاری ہیں اور ان کوششوں میں ہمیشہ کی طرح فساد اور فسادیوں کے حمایت یافتہ مولانا فضل الرحمان بھی پیش پیش ہے کیونکہ مولانا کی پوری جماعت طالبان کو نہ صرف عوام کے نمائندے بلکہ افغانستان میں برسوں سے جاری فساد کو اسلام اور کفر کی جنگ سمجھتی ہے۔

مولانا کی جماعت کے دو چار پڑھے لکھے کارکنان مولانا سے سوال کر سکتے ہیں کہ اگر یہ فساد واقعی میں کفر اور اسلام کی جنگ ہے تو پھر کیسے امریکن ڈالرز سے جہاد کے لئے مدرسے بن رہے تھے؟ پھر کیسے محمد بن سلمان نے اقرار کیا کہ ہاں ہم نے امریکہ کی مدد سے پاکستان میں جہاد کے لئے مدرسے بنوائے؟ اور موجودہ دور میں طالبان کا سکول، روڈ، ڈیم یا باقی ملکی املاک کو نقصان پہنچانا کہاں کا اسلام ہے؟ اور اپنے لئے جمہوریت اور دوسروں کے لئے بندوقی حکومت منافقانہ رائے نہیں؟ لیکن نہیں مولانا کے کارکنان سیاسی طور پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور وہ کبھی ایسے سوالات نہیں پوچھ سکتے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سوات میں ہونے والے جلسے میں موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے اپنی جماعت کی طالبان کے لئے چندے، غریب خواتین سے اسلام کے نام پر زیورات لوٹنا، مدرسوں کو فساد کے لئے استعمال کرنا اور دوسروں کے بچوں کو فسادی آگ میں دھکیلنے کی تاریخ کو دہراتے ہوئے افغانستان میں جاری وحشت کو فتوحات کا نام دیا لیکن میرے خیال میں مولانا کی جماعت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس طرز کے بیانات کا آنا عام سی بات ہے کیونکہ جب بڑے مرحوم بزرگ کی پختونخوا میں حکومت تھی تب بھی پختونخوا میں میوزک کی دکانیں وغیرہ کو زبردستی جلانے کے قصے عام تھے۔

لیکن افسوس صرف اس بات پہ ہے کہ ہمارے جمہوری سیاستدان مولانا کے اس بیان کے بعد بھی ان کے آس پاس کھڑے نظر آتے ہیں اور کسی نے اس بیان پر وضاحت مانگنے کی جرت نہیں کی بلکہ محمود خان نے تو الٹا اپنے کارکنان کو خبردار کرتے ہوئے حکم صادر فرمایا کہ کوئی بھی مولانا اور ان کی طالبانی رائے پر تنقید نہ کریں اور ایک بھری محفل میں اپنی جماعت کے سینئر رہنما بابت لالا کی سرزنش بھی کی۔

اس وقت سیاسی جماعتوں میں صرف عوامی نیشنل پارٹی ہے جو دہشتگردی اور فساد کے حوالے سے اپنے تاریخی اور واضح موقف کو اپناتے ہوئے عوام کے درمیان کھڑی ہے۔ ہزاروں کارکنان قربان کر کے آج بھی اے این پی کے رہنماؤں ایمل ولی خان، میاں افتخار، سردار حسین بابک وغیرہ کو اپنے موقف کی وجہ سے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن اے این پی نہ صرف اپنے موقف پہ کھڑی ہے بلکہ عوام کو سچ بتانے اور اس وحشت کی آگ سے باخبر رکھنے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی شروع دن سے اس فساد کے خلاف ہے اور جماعت کے بڑوں کا موقف بھی واضح تھا باقی سیاسی جماعتوں کی طرح طالبان کے لئے چندے کیے اور نہ ہی طالبانی حکومت کو تسلیم کیا ہے۔ ولی خان نے اس فساد کو دو ہاتھیوں (کیپٹلسٹ امریکہ اور کمیونسٹ روس) کی لڑائی کا نام دے کر عوام کو ہاتھیوں کے درمیان نہ آنے کی تلقین کی تھی اور لڑائی کے کرداروں کو خبردار کیا تھا کہ دوسروں کے گھر آگ نہ لگانا ورنہ یہ آگ کسی دن سرحد پار کر تمہارے گھر بھی آ سکتی ہے۔

Facebook Comments HS