زوان، اوریا مقبول جان اور طالبان

خدا اوریا مقبول جان کو عمر خضر عطا کرے۔ قوم کو آج کل جذبہ جہاد پر خوب ابھار رہے ہیں۔ مولانا وحید الدین خان اگر زندہ ہوتے تو اس جذبے کو ”جذبہ فساد“ کہتے، مگر کم علمی بلکہ جہالت کی بنا پر درویش ایسا کچھ بھی کہنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ حضرت اوریا مقبول کا بس نہیں چل رہا وگرنہ تو کل ہی غزوہ ہند برپا ہو جائے۔ ویسے غزوہ ہند کا بھی عجب قصہ ہے۔ حدیث کی پہلے درجے کی جو کتب ہیں، موطا امام مالک، صحیفہ ہمام بن منبع، صحیح بخاری و مسلم میں سرے سے غزوہ ہند کا ذکر ہی نہیں۔
جو دوسرے درجے کی کتب ہیں جیسا کہ نسائی و مسند احمد، ان میں بھی جو احادیث آئی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ غزوہ ہند کا معرکہ برپا ہو چکا ہے۔ غزوہ ہند کے متعلق جتنی بھی احادیث ہیں وہ تیسرے اور چوتھے درجے کی کتب میں ہیں۔ اور ان کی صحت پر اس قدر سوالات ہیں کہ بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے، مگر لوگوں کا قلم بے دریغ ایسی ضعیف احادیث کو پھیلاتا ہی جاتا ہے۔ اب جو لوگ صبح شام غزہ ہند کے انتظار میں مچل کر بے چین ہوئے جاتے ہیں، ان کے سکون کا بھی کچھ سامان کرتے ہیں۔
”لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے (بخاری: 2966 ) ۔
لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ صحیح احادیث کو چھوڑ کر بے سند باتوں کو امام بنا رہے ہیں۔ رسالت مآبﷺ کے الفاظ پر غور کیجیئے کہ جنگ کی خواہش بھی نہیں رکھنی۔ لیکن لوگوں کو جنگ کے انتظار میں نیند بھی نہیں آتی۔ کچھ تو خیال کیا جائے کہ جن کا نام لے کر جنگ کی آمد کا طبل بجایا جا رہا ہے، وہ تو امن و عافیت کا درس دے رہے ہیں۔ ستم ساتھ یہ بھی ہے کہ غزوہ ہند کی سپہ سالاری طالبان فرمائیں گے، بار بار بات یہ حضرت اوریا دہرا رہے ہیں۔
معلوم نہیں آپ کو خواب میں اس بات کی بشارت دی گئی ہے یا آپ کی فراست کا یہ نتیجہ ہے۔ اگر تو یہ خواب کی بشارت کا معاملہ ہے تو اگلی دفعہ جب یہ بشارت ملے تو ہماری درخواست ہو گی کہ حضرت اوریا ”اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ ضرور پڑھیں۔ کافی مدت سے حضرت اوریا اس بات کو دہرا رہے ہیں کہ طالبان انسان نہیں ہیں بلکہ فرشتے ہیں جن کا ظہور فقط اس لیے ہوا ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں۔ آپ مزید فرماتے ہیں کہ طالبان کے دور حکومت میں پاکستان سے لوگ جھگڑوں کا فیصلہ کروانے افغانستان جایا کرتے تھے۔
بات یہ دوسری ہے کہ فرشتوں کے دور حکومت میں عورتوں کو بازاروں میں کوڑے لگائے جاتے تھے۔ یہ فرشتے اس قدر سخت گیر تھے کہ مخالف نقطہ نظر رکھنے والوں کے قتل کو بھی جائز سمجھتے تھے۔ استاذم غامدی بتا رہے تھے کہ ان کی کتاب کا ترجمہ کرنے والا بھی قتل کر دیا گیا۔ کتنے مقتولوں کا ذکر کریں کہ لوگوں کہ کلیجے ٹھنڈے ہوں۔ انگلش ناولوں کی بہت کم قرات کی ہے۔ لیکن ایک ناول ہے کہ جس کے نقوش مٹنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ خالد حسینی نے A Thousand Splendid Suns کیسے درد کے ساتھ لکھا ہے۔
فرشتوں کے دور حکومت کا بہت تفصیل کے ساتھ نقشہ کھینچا ہے۔ وہ ذرا اگر پڑھ لیا جائے تو امید ہے کہ افاقہ محسوس ہو گا۔ ویسے یہ فرشتے وہی ہیں نا جنہوں نے پچھلے دنوں خاشہ زوان کو قتل کیا ہے۔ کیا خاشہ زوان قاتل تھا جو قتل کیا گیا؟ کیا خاشہ زوان مرتد تھا جو ارتداد کی سزا دی گئی؟ کیا خاشہ زوان فساد فی الارض کا مرتکب تھا جو عالم بالا پہنچا دیا گیا؟
حضرت اوریا اگر خاشہ زوان کے قتل کی کوئی تاویل بیان کر دیں تو ہمارے سینے میں سلگتی ہوئی آگ بجھ جائے گی۔ کیا خوب کہ پہلے فرشتوں نے جھوٹ بولا کہ ہم نے قتل نہیں کیا اور جب دیکھا کہ اب مانے بنا چارا ہی نہیں تو یہ کہہ دیا کہ قاتلوں کو سزا دی جائے گی۔ اس جھوٹ کی تاویل سے بھی اجتناب مت فرمائیے گا۔ ابھی خاشہ زوان کے خون سے زمیں خشک نہ ہوئی تھی کہ خبر نے دل چیرا کہ عبداللہ عاطفی کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔ اب پتہ نہیں اس عدل و انصاف والے دور حکومت میں کس کس کو جان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اب جس کو عدل و انصاف والے ملک میں جانا ہے وہ ابھی سے افغانستان کے گرین کارڈ کے حصول کی کوششیں شروع کر دیں۔ یاسر پیرزادہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ افغانی گرین کارڈ کی مانگ بڑھ جائے گی اور آپ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔
ہم نے گوگل پر ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ کہیں سے غزوہ ہند کے متعلق تمام احادیث مل جائیں اور ساتھ یہ تحقیق بھی ہو کہ وہ احادیث ضعیف ہیں یا صحیح، مگر ایسی کوئی تحریر نہیں ملی جس میں دونوں باتیں شامل ہوتیں۔ وقت کی قلت کے باعث ہم بھی تمام احادیث کو ایک ساتھ بیان نہیں کر سکے۔ اگر کسی نے تحقیق کر رکھی ہو تو وہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر شیئر کر دے، اگر کسی نے تحقیق نہیں کی ہوئی تو کچھ دنوں بعد وقت ملا تو تمام احادیث کو بیان کر کے ساتھ تحقیق بھی لگا دیں گے کہ کیسے یہ احادیث اصول محدثین پر پوری نہیں اترتیں۔

