وہ اولمپینز جنہوں نے ‘ناممکن’ کو ممکن کر دکھایا
رواں اولمپکس گیمز میں جب نیدرلینڈ کی ایتھلیٹ سیفان حسن 1500 میٹرز کی ہیٹس کے آغاز میں گریں تو شائقین کو ایسا لگا جیسے ان کی جیت اب ناممکن ہے لیکن پھر انہوں نے ریس جیت کر سب کو حیران کردیا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جب کسی ایتھلیٹ کو پرفارمنس کے دوران دھچکا لگا ہو اور وہ اس کے باوجود کامیاب ہو گیا ہو۔
ایسے کئی ایتھلیٹس گزرے ہیں جنہوں نے انجری اور مشکل حالات میں بھی فتوحات اپنے نام کی ہیں۔ ایسے ہی چند کھلاڑیوں کا ذکر کرکے اولمپک گیمز کے اختتامی روز کو یاد گار بناتے ہیں۔
If you're feeling low today, watch how Sifan Hassan tripped during the Olympics & went on to win the race. If you ever fall down, stand up, get back in the race and march on. #Inspiration https://t.co/jxeZsCkCrY
— Harsh Mariwala (@hcmariwala) August 5, 2021
ناممکن کو ممکن کرنے والے ایتھلیٹس
سال 1928 کے اولمپکس میں پہلی بار خواتین کی 100 میٹر ریس متعارف کی گئی، امریکی ٹریک اسٹار بیہٹی رابنسن نے اس ایونٹ میں نہ صرف گولڈ میڈل جیتا بلکہ وہ اس ریلے ریس کا بھی حصہ تھیں جس میں انہوں نے سلور میڈل جیتا۔
البتہ 1931 میں وہ ایک طیارہ حادثے میں شدید زخمی ہو گئی تھیں، جس فرد نے بیہٹی کو جائے حادثہ پر پایا۔ وہ سمجھا کہ وہ مر چکی ہیں اور انہیں ڈاکٹر کے بجائے انڈر ٹیکر (دفنانے والے) کے پاس لے گیا۔ لیکن قسمت کو شاید کچھ اور ہی منظور تھا۔
Ray Ewry (BSME 1897) overcame polio to become a record-breaking #Olympics athlete, winning 8 gold medals by 1908. His combination of athletics and engineering inspired the Ray Ewry Sports Engineering Center at Purdue: https://t.co/y459mlRV8M pic.twitter.com/Rft9bbDmhg
— Purdue Mechanical Engineering (@PurdueME) July 23, 2021
امریکہ کی جانب سے تین اولمپکس میں آٹھ گولڈ میڈل جیتنے والے رے یوری کو بہت لوگ جانتے ہیں، لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ ایک وقت تھا جب وہ پولیو کی وجہ سے ویل چیئر استعمال کرتے تھے۔
Throw, throw, throw in discus throw. #OlympicGames
Join us to cheer Kamalpreet Kaur in her today’s final game! pic.twitter.com/cepPCxoEvs
— Doordarshan Sports (@ddsportschannel) August 2, 2021
سن 1956 کے اولمپک گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے والے امریکی ڈسکس تھرور ایل اورٹر کامیابی کے ایک سال بعد ہی ایک کار حادثے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ لیکن انہوں نے پھر بھی چیمپئن بننے کی جستجو نہیں چھوڑی اور اگلے تین اولمپکس میں طلائی تمغے جیتے۔
Throw, throw, throw in discus throw. #OlympicGames
Join us to cheer Kamalpreet Kaur in her today’s final game! pic.twitter.com/cepPCxoEvs
— Doordarshan Sports (@ddsportschannel) August 2, 2021
لیکن ولما نے ہمت نہیں ہاری انہوں نے اپنے گھر والوں اور ڈاکٹروں کی مدد سے پہلے چلنا سیکھا اور پھر دوڑنا جس کے بعد وہ ایسا دوڑیں کہ 1960 کے اولمپک گیمز میں 100 میٹر، 200 میٹر اور ریلے ریس میں گولڈ میڈل جیتا۔
Wilma Rudolph– the first American woman to win 3 gold medals in the #Olympics— met JFK in the Oval Office in April 1961. #ArchivesAthletes pic.twitter.com/Lh6NqqG6dk
— JFK Library Foundation (@JFKLibraryFdn) August 6, 2021
انہوں نے اس بیماری کا علاج تو کرایا لیکن اس کے بعد انہیں بھاگنے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ گیل نے ہمت نہیں ہاری اور 1992 کے اولمپک گیمز میں 100 میٹر ریس میں سونے کا تمغہ جیتا۔ ان کی قریب ترین حریف ان سے صرف 0 اعشاریہ پانچ سیکنڈز دور رہیں جس کے بعد فاتح کا فیصلہ ری پلے دیکھ کر کیا گیا۔
زخمی ہونے کے باوجود فاتحانہ پرفارمنس دینے والے کھلاڑی
1976 کے اولمپک گیمز میں جہاں کئی ایتھلیٹس نے میڈلز جیتے وہاں جاپان کے شون فُوجی موٹو کا کارنامہ اب بھی کئی لوگوں کو یاد ہے۔
آرٹسٹک جمانسٹک ٹیم ایونٹ کے دوران وہ گھٹنے کی انجری کا شکار ہوگئے تھے لیکن فُوجی موٹو نے اس درد اور تکلیف کے باوجود پہلے پومل ہارس ایونٹ میں نو اعشاریہ پانچ پوائنٹس اسکور کیے اور پھر رنگز ایونٹ میں نو اعشاریہ سات کی بہترین کارکردگی دکھاکر سب کو حیران کردیا۔ ان کی اس کوشش کے باعث ان کی ٹیم کو ایونٹ میں گولڈ میڈل ملا۔
"I must try to forget the pain", Shun Fujimoto. @gymnastics pic.twitter.com/5awJKGPEE9
— The Olympic Games (@Olympics) April 18, 2017
مقابلے کے دوران پہلی ہی باری میں ان کا ٹخنہ زخمی ہوگیا جس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی دوسری باری مکمل کرنی تھی تاکہ امریکی ٹیم کو طلائی تمغہ مل سکے۔ انہوں نے زخمی ٹخنے کے ساتھ ہی باری مکمل کی اور نو اعشاریہ 712 اسکور کیا اور ٹیم کو کامیابی دلائی۔
انہیں لینڈنگ پلیٹ فارم سے میڈل پوڈیم تک ان کے کوچ گود میں اٹھا کر لے گئے۔
Kerri Strug fought through the pain of an ankle injury to compete at the 1996 Olympic Games, but was it necessary? https://t.co/myV97KL9JT
— snopes.com (@snopes) August 1, 2021
البتہ اس سب کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری اور پہلے ٹرائلز جیت کر اولمپک گیمز میں جگہ بنائی پھر پانچ ماہ آرام کرنے کے بعد انہوں نے اولمپکس میں حصہ لیا۔
25 years ago, WWE legend Kurt Angle won Olympic gold with a BROKEN NECK 👏 pic.twitter.com/QKPvQFGp8e
— SportsCenter (@SportsCenter) July 31, 2021
کوئی گیم چھوڑ کر واپس آیا تو کسی کو دوسرا موقع ملا
امریکی ایتھلیٹ جارج آئیزر نے جب 1904 کے اولمپک گیمز میں شرکت کی تو ان کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کوئی میڈل جیتیں گے، کیوں کہ وہ دیگر ایتھلیٹس سے مختلف تھے۔
ان کی بائیں ٹانگ ایک ٹرین حادثے میں ضائع ہو گئی تھی اور وہ لکڑی کی ٹانگ کے بل پر چلتے پھرتے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے ایونٹ میں تین گولڈ سمیت چھ میڈلز جیتے جو کہ ایک ریکارڈ تھا۔
The incredible story of George Eyser. #TBT @gymnastics @TeamUSA pic.twitter.com/IBnBtYzs0J
— The Olympic Games (@Olympics) June 27, 2019
انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے 100 میٹر ریس، 80 میٹر ہرڈلز، 200 میٹر ریس اور ریلے ریس چاروں میں گولڈ میڈل جیتا۔
https://twitter.com/mathijsbouman/status/1301483752993050625
سن 1963 میں وہ ایک خوفناک کار حادثے کا شکار ہو گئی، اس واقعے میں ان کی والدہ ہلاک اور بہن زخمی ہو گئی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اولمپک میں حصہ لیا اور ایک ہی ایونٹ میں مسلسل تین میڈلز جیتنے والی پہلی سوئمر بنیں۔
Dawn Fraser arrived in Tokyo for the 1964 Games a lost 27-year-old dealing with severe pain and tragedy. Weeks later she left Japan as a record-breaker and, perhaps more importantly, with a renewed faith in humanity.#StrongerTogether
— The Olympic Games (@Olympics) October 24, 2020
اپنے کریئر کے دوران 12 میڈلز جیتنے والی اس سوئمر نے پہلے 2000 اولمپکس میں 33 سال کی عمر میں حصہ لیا اور پھر 41 برس کی عمر میں 2008 اولمپک گیمز میں امریکہ کی نمائندگی کی۔
سن 1984 کے اولمپک گیمز میں انہوں نے فری اسٹائل ریلے میں اپنا پہلا گولڈ میڈل جیتا، چار سال بعد انہوں نے ایک سلور اور ایک برانز میڈل اپنے نام کیا جب کہ 1992 میں فری اسٹائل ریلے میں ایک اور گولڈ جیت کر کھیل سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
#tbt. What’s an athlete without a habit or superstition? Mine was rubbing my hands and forearms on the sandpaper like starting blocks b4 my races. What’s your superstition? (doesn’t have to be athletic related) pic.twitter.com/kvG3KpSo1M
— Dara Torres (@DaraTorres) June 4, 2021
علاوہ ازیں 1992 کے اولمپکس میں روس کی یونی فائیڈ ٹیم کے پرچم تلے چھ طلائی تمغے جیتنے والے جمناسٹ وٹالی شربو نے چار سال بعد بیلاروس کی جانب سے اولمپکس میں شرکت کی ٹھانی۔ لیکن اولمپکس سے چند ماہ قبل ان کی اہلیہ کار حادثے میں شدید زخمی ہوکر کوما میں چلی گئیں۔
https://twitter.com/UEGymnastics/status/1216681306962251776
اپنی اہلیہ کی صحت یابی کے انتظار میں انہوں نے اولمپکس کے لیے پریکٹس کرنا چھوڑ دی جس کے باعث ان کا وزن 15 پاؤنڈ بڑھ گیا۔ بعد ازاں ایک ماہ بعد ان کی اہلیہ کوما سے باہر آئی اور شربو نے بغیر پریکٹس کے اولمپکس میں حصہ لیا۔
انہوں نے کھیلوں کے اس مقابلے اٹلانٹا اولمپکس مین چار کانسی کے تمغے اپنے نام کیے۔


