کیا ہم نے قائداعظم کا جمہوری خواب پورا کیا؟


علامہ اقبال کا خواب تو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان بنا کر شرمندہ تعبیر کر دیا تھا کیا قائداعظم کا خواب ملک میں جمہوری نظام کا ہم پورا کر سکے ہیں۔ جب یہ سوال کیا جائے تو اس کا جواب ستر سال سے پاکستان میں رہنے والے پیدا ہونے والے لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ جمہوریت اس نظام کو کہتے ہیں جس میں محکوم اپنے حکمرانوں کو اور ووٹر اپنے نمائندوں کو کنٹرول کر سکیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقی جمہوریت کیا ہے؟

حقیقی جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں ووٹروں کا اختیار نمائندگان کے اوپر ہو۔ کیا ہمارے ملک میں محکوم عوام اپنے حکمرانوں اور نمائندوں پر کنٹرول رکھتی ہے؟ آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔ سو یہ نظام جمہوریت نہیں ہے۔ فقط انتخابات کا ڈھونگ رچانے کا نام جمہوریت نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں جمہوریت کی تعریف بدل چکی ہے۔ لوگوں کو اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔ اہل فکر و نظر اندھیرے سے نکلیں، اینکرز اور لکھنے والے غور کریں۔ کہا جاتا ہے کہ جمہوریت بدترین نظام حکومت ہے، لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں۔

یہ الفاظ سر ونسٹن چرچل کے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رہے۔ تب سے آج تک اس قول میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور جمہوریت کی اچھائیوں برائیوں کو پرکھنے کے بعد بھی دنیا میں سب سے مقبول نظام حکومت جمہوریت ہی ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سیاسی جماعت جمہوریت کے گن گاتی ہے، خود کو جمہوری نظام کا علمبردار کہتی ہے اور اس مقصد کے لیے دی جانے والی قربانیوں کا ذکر فخر سے کرتی ہے۔ آخری فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف تو اتنے جمہوریت نواز نکلے کہ انہوں نے سویلینز کی ’جعلی جمہوریت‘ کو اصل سے بدلنے کا بیڑا اٹھا لیا، اور اس کوشش میں سبھی جمہوری جماعتوں کے بہت سے رکن بھی ان کے ساتھ ہو گئے۔

کیا مشرف دور میں اصل جمہوریت آئی؟ کیا فروری 2008 کے انتخابات کے بعد کا زمانہ جمہوری کہلا سکتا ہے؟ یا پرویز مشرف جیسے ڈکٹیٹر کے جانے کے بعد 2018 کے الیکشن کو بھی صاف شفاف انتخابات کہا جاسکتا ہے کیا پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت رہی؟ اقوام متحدہ جمہوریت کی تعریف یوں کرتی ہے کہ یہ خود میں ایک منزل نہیں بلکہ مسلسل سفر کا نام ہے جو افراد اور اقوام کو معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر لے جاتا ہے، اور بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام سکھاتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں محض انتخابات کے انعقاد کو جمہوریت سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ اس ملک میں فوجی ڈکٹیٹر اپنے غیر آئینی اقتدار کو طول دینے کے لیے انتخابات کا سہارا لے چکے ہیں، سویلین حکمران انتخابی جیت کی طاقت پر ہر قسم کے غیر جمہوری اقدامات کرتے رہے ہیں، اور ماضی قریب میں سیاستدان ووٹ پاکستانی عوام سے مانگتے رہے اور اقتدار غیر ملکی قوتوں سے۔ آج بھی ملکی تاریخ کے کئی اہم فیصلے پاکستانی عوام سے مخفی ہیں اور ان پر مذاکرات دبئی، ریاض، لندن اور واشنگٹن میں ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں جس تسلسل سے سویلین اور فوجی حکومتوں نے عوام کو فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا ہے، اور جس شدت سے ذاتی یا گروہی مفادات کا پیچھا کیا ہے اس سے ملک میں صرف غیر جمہوری ہی نہیں بلکہ آمرانہ اقدار کو فروغ ملا ہے۔ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ 65 سال گزر گئے، ہم نے حقیقی جمہوریت کے لئے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ نہ تعلیم پر خرچ کیا ہے اور نہ صحت پر، نہ آزادی دی اور نہ شعور و آگہی ہوئی اور نہ قانون کی برابری لائے۔

ہمارے سارے طور طریقے انتہائی انفرادی جبر کے ہیں لیکن نام جمہوریت رکھ دیا ہے۔ موٹر کار میں ہوائی جہاز کا انجن فٹ کر دیا ہے اور اڑنے کی امید بھی رکھے ہوئے ہیں جارج برنارڈ شا نے کہا تھا جمہوریت ایک ایسا عمل ہے جس کے تحت ہمیں ویسے ہی حکمراں ملتے ہیں جس کے ہم لائق ہوتے ہیں۔ لہذا اگر تبدیلی آ سکتی ہے تو اس کا آغاز عوام سے ہی ہو سکتا ہے۔ جب لوگ اپنی انفرادی اور خاندانی زندگیوں میں جمہوریت کو مستقل جگہ دیں گے تو ان کے حکمرانوں کو بھی جمہوریت کا پاس کرنا پڑے گا ہم نے جمہوریت کو روندتے ہوئے کبھی ایوبی نظام لائے کبھی یحیی کا کبھی ضیاء نے اپنا ایک نظام متعارف کرایا کبھی پرویز مشرف روشنی خیالی لے کر آیا اور اب اب قمر جاوید باجوہ کا ہائبرڈ سسٹم ان سب نظاموں اور سسٹموں نے پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا پاکستان اسی وقت ترقی کر سکتا ہے جب پاکستان میں حقیقی جمہوریت ہو گی اور عوام کے ووٹوں سے اصلی اور حقیقی نمائندے ملک چلائیں گے جب تک اپنے مفادات کے لیے کٹھ پتلیوں کو وزیراعظم اور صدر جیسے اہم منصب پر بٹھایا جائے گا تو ملک کے حالات ایسے ہی ہوں گے جیسے آج ہمارے ہیں۔

Facebook Comments HS