اسلام میں صوفی عورتیں

جی ہاں یہ عورت کوئی اور نہیں بلکہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم و اعلیٰ مقام رکھنے والی حضرت رابعہ بصری تھیں۔ لفظ صوفی یا تصوف کے وجود میں آنے یا استعمال میں لانے کے کئی سال پہلے بھی کئی مرد و خواتین ایسے گزرے ہیں جن کے کردار بالکل صوفی کی صنف پہ پورا اترتے ہے۔ جن میں حضرت حسن بصری رح اور حضرت رابعہ رح بھی شامل ہیں۔
لیکن لفظ صوفی کا استعمال 10 صدی میں اس گروہ کے لیے استعمال ہونے لگا جو حضرت جنید بغدادی رح کی صحبت میں بیٹھتا تھا اور ان کو سنتا تھا۔ اس گروہ میں مرد و خواتین دونوں شامل ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے بھی کئی لوگ مشکوک نگاہوں سے دیکھا کرتا تھا اور اس بیٹھک میں موسیقی بھی ہو کرتی تھی۔ تو لفظ صوفی کے وجود میں آنے سے پہلے ہی کئی لوگ صوفی ہوا کرتے تھے۔
حضرت رابعہ بصری رح سن 717 میں پیدا ہوئی اور سن 801 میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ حضرت رابعہ بصری شہر بصرہ کی رہنے والی تھی جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ آپ بصرہ میں آنے سے پہلے مصر میں قیدی تھی رہائی کے بعد آپ نے دن رات مشقت کر کے خدا کا قرب حاصل کرنا چاہا۔ آپ رات رات بھر جاگ کر عبادتیں کرتیں تھی، ذکر و اذکار کرتی تھیں، مراقبے بھی کرتی تھی اور کئی مشکل روزے بھی رکھے۔ اپنے اسی تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنیاد پر آپ اپنے زمانے میں بھی کافی شہرت رکھتی تھیں۔ حضرت رابعہ بصری کو سننے کے لیے کئی لوگ آتے تھے اور ان کے ہاں بیٹھتے تھے۔
حضرت رابعہ بصری کو کئی لوگوں نے شادی کی پیش کش کی جن میں حضرت حسن بصری بھی شامل ہیں۔ لیکن حضرت رابعہ نے ہر مرد کو یہ کہہ کر انکار کر دیا، ’میرا محبوب خدا ہے اور میں اکیلی اپنے خدا کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔
حضرت حسن بصری رح فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ عقیدت و حقیقت پہ گفتگو کرتے ہوئے میں نے ان کے ہاں ایک رات اور ایک دن گزار دیا اور ہم دونوں گفتگو میں اتنا محو ہو گئے کہ نا مجھے کچھ خبر ہوئی کہ میں ایک مرد ہوں اور نا انہیں کوئی خبر رہی کہ حضرت حسن بھی ایک مرد ہیں ”اور فرماتے ہیں کہ“ محو گفتگو جب میں نے نظر اٹھا کر حضرت رابعہ کو دیکھا تو روحانی اور ایمانی طور خود کو کمزور اور خطرے میں پایا اور حضرت رابعہ کو خود سے زیادہ حقیقت کے قریب پایا۔ ”
حضرت رابعہ بصری صوفی شاعرہ بھی تھیں۔ ان کی شاعری کہی جاتی تھی لکھی نہیں جاتی تھی۔ آپ کے دور میں الجاحظ ایک مشہور سائنسدان اور مذہبی فلسفی گزر چکے ہیں جو آپ کی مخالفت کرتے تھے۔ ان کے بعد حضرت فریدالدین عطار نے اپنی کتاب تذکرۃ اولیاء جس میں انہوں نے کئی اولیاء کرام کی سوانح حیات بیان کی ہے ان میں حضرت رابعہ بصری کی بھی سوانح حیات لکھی ہے۔
حضرت رابعہ بصری کی شاعری میں جو چیز نمایاں نظر آتی ہے اور جس کی بات پہلے کسی نے نہیں کی وہ ہے ’حب‘ ’محبت‘ ۔ خدا اور بندے کی درمیان کی محبت پہ بات کرتی ہے۔ صوفی شاعری کی اگر ایک نمایاں صنف بتائیں تو وہ یہ ہے کہ اس میں خدا کو محبوب تصور کر کے مخاطب ہوا جاتا ہے، شکایتیں کی جاتی ہی، محبت جتائی جاتی اور لاڈ کیا جاتا ہے۔
محبت میری نظر میں،
اک بے کنارہ ساگر ہے،
تم بھی ہو محب کے چنے ہوئے،
تو کود پڑو اس میں۔
اسلامی مذہب میں وحدت وجود کا پرچار کرنے والے ابن عربی کہتے ہیں کہ میرے جو روحانی اساتذہ تھے وہ دو عورتیں تھی اور میری مرشدہ ہیں ان میں سے ایک کو الشمس المرچینہ اور دوسری کو فاطمہ ابن المثنیٰ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
اسلام میں صوفی عورتوں کا کردار وقت، جگہ اور سماج کے حوالہ سے ہر دفعہ الگ الگ رہا ہے۔ جیسے کے بات کی جائے قدیم ہندوستان کے مغلیہ دور کی تو وہاں جہان آرا بیگم جو اورنگزیب کی بہن اور شاہجہان کی بیٹی تھیں یہ سلسلہ قادریہ سے منسلک تھی۔ خود بہت بڑی شاعرہ اور مصنفہ تھیں اور کتاب تخلیق کیے۔ جن میں ان کی شہکار کتاب خواجہ حضرت معین الدین چشتی رح کی لکھی گئی سوانح حیات پر ہے۔ ان کے بعد اورنگزیب کی بیٹی زیب النساء بھی ہندوستان کی بہت بڑی صوفیہ گزر چکی ہیں۔
ان سب سے بڑھ کر ایک اور متاثر کن شخصیت ہے حضرت عائشہ بن یوسف الباعونیہ۔ جن کا تعلق دمشق سے تھا اور آپ بارہویں یا تیرہویں صدی میں پیدا ہوئی۔ آپ کا گھرانا علماء، منصفوں اور قاضیوں کا گھرانا تھا لیکن آپ نے تصوف کا راستہ اپنایا۔ آپ نے حضرت رابعہ کے برعکس شادی بھی کی تھی اور بال بچے بھی تھے لیکن آپ کی خدا سے محبت حضرت رابعہ کی محبت کے مدمقابل تھی۔
آپ رض کہتی تھیں کہ خدا کو پانے کے لیے یہ چار چیزیں بندے میں ہونا ضروری ہیں۔ توبہ، اخلاص، ذکر اور حب۔ چوتھی چیز حضرت رابعہ کی شاعری میں بے حد پائی جاتی ہے۔
الاشرف قانصوہ الغوری نے جب سلطنت عثمانیہ پہ حملہ کیا اور دمشق کے قریب ڈیرہ جمایا تو اس خانہ جنگی میں بھی غوری نے وقت نکال حضرت عائشہ الباعونیہ کی خدمت حاضر ہوا، دعا کی درخواست کی اور آپ کی شاعری بھی سنی۔ چونکہ قانصوہ الغوری شعر و شاعری کے بہت بڑے مداح تھے۔
”جب خالق خلق سے اور خلق خالق سے بے انتہا محبت کرتی ہے تو تخلیق کا مقصد پورا ہوتا ہے۔“ ۔ عائشہ بن یوسف الباعونیہ۔

