اسلام میں صوفی عورتیں

آٹھویں صدی کی شروعات میں شہر بصرہ کی گلیوں میں ایک عورت ایک ہاتھ میں جلتی مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا مشکیزہ لے کر گھوما کرتی تھیں اور یہ کہا کرتی تھی، ’جنت کو میں آگ لگا دوں گی اور دوزخ کی آگ کو میں بجھا دوں گی۔‘

جی ہاں یہ عورت کوئی اور نہیں بلکہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم و اعلیٰ مقام رکھنے والی حضرت رابعہ بصری تھیں۔ لفظ صوفی یا تصوف کے وجود میں آنے یا استعمال میں لانے کے کئی سال پہلے بھی کئی مرد و خواتین ایسے گزرے ہیں جن کے کردار بالکل صوفی کی صنف پہ پورا اترتے ہے۔ جن میں حضرت حسن بصری رح اور حضرت رابعہ رح بھی شامل ہیں۔

Read more