”بوریت“ ایک عالمی مسئلہ
دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ ایک ملک اب دوسرے ملک میں ہونے والے حالات و واقعات سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو تقریباً بارڈر لیس ”بنا دیا ہے۔ دنیا میں بیشتر ایسے مسائل ہیں کہ جن کا حل اب کسی اکیلے ملک کے پاس نہیں۔ ساری دنیا چاہے تو ہی وہ حل ہو سکتے ہیں۔ ان مسائل پر جب بھی بات ہوتی ہے تو ماحولیاتی آلودگی، اسمگلنگ، دہشت گردی اور پانی کے مسائل وغیرہ کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مگر“ بوریت ”بھی ایک عالمی مسئلہ ہے جسے اب تک باقاعدہ تسلیم نہیں کیا گیا۔
پاکستان کی بات کریں تو سیاستدانوں کی ایک بڑی کھیپ ”بوریت“ کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ کاروبار ہے، پیسہ ہے، شہرت چاہیے، چلو سیاست کرتے ہیں۔
بہت سارے جرائم بوریت دور کرنے کے چکر میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ ہاسٹلز میں رہنے والے نوجوان شرطیں لگا کر رات کو لوگوں کے موبائل، پرس چھین لاتے تھے۔ ہاسٹلز میں رہنے والی کچھ لڑکیاں بھی بوریت دور کرتے کرتے اتنی دور نکل جاتی ہیں کہ پھر پنکھوں پر جھولنے کی نوبت بھی آ جاتی ہے۔ لاہور میں نائٹ ڈیوٹی کے بعد رات دو بجے گھر واپس آیا۔ ہمارے ہمسائے میں سڑک کے پار گرلز ہاسٹل تھا۔ دروازے پر گاڑی سے اترا تو ہاتھ میں کتابیں تھیں۔ اتنے میں ایک لڑکی نے جملہ کسا ”پروفیسر صاب کدروں آ رے او ادی راتیں“ میں نے اوپر دیکھا تو گرلز ہاسٹل کی چھت پر پانچ چھ لڑکیاں قہقہے لگا رہی تھیں۔ اس فعل سے یقیناً وہ اپنی بوریت دور کرنا چاہ رہی تھیں۔
بی۔ اے انگریزی کے سلیبس میں ایک ”پلے“ تھا شاید اب بھی ہے ”Something to talk about“ ۔ اس ڈرامے میں ایک ایسی برطانوی فیملی کا ذکر ہے جو بوریت کے ہاتھوں اتنی تنگ تھی کہ جب برطانیہ کا بدنام زمانہ ڈکیت ان کے گھر چوری کرنے آیا تو ان کی خوشی کی انتہا نا رہی۔ ساری فیملی نے چیزیں چوری کرنے میں اس کی مدد کی اور پھر اسے اداسی سے خدا حافظ کہا۔ وہ مطمئن تھے کہ واردات تو چلو ہو گئی لیکن اگلے کچھ دن باتیں کرنے کے لئے موضوع تو مل گیا۔ ہماری ایک دور پار کی عزیزہ اپنی بوریت دور کرنے کے لئے خاندان میں جھگڑا کروا دیا کرتی تھیں۔ بوریت دور کرنے کا ایک واقعہ جو دلچسپ کہانی میں بدل گیا ملاحظہ کیجئے۔
زمانہ قبل از ”اینڈرائڈ“ اور سوشل میڈیا لاہور سے گاؤں گیا تو کھیتوں کو پانی لگائے ایک دیہاتی لڑکا درخت کی چھاوں میں بیٹھا تھا۔ ٹائم پاس کے لئے موبائل سے کسی رانگ نمبر کے ساتھ ”چیٹنگ“ میں مصروف تھا۔ دقت یہ تھی کہ محترمہ انگریزی میں میسج لکھ دیتی تھیں تو موصوف کو وخت پڑ جاتا تھا۔ اس بد زبانی سے تنگ آ کر اس نے یہ قیمتی رانگ نمبر قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں لاہور میں پڑھتا تھا تو اس کے خیال میں پہلا حق میرا تھا کیونکہ بقول اس رانگ نمبر کے اس کا تعلق بھی لاہور سے تھا۔
میں نے وہ نمبر اپنے موبائل میں منتقل کیا اور بھول گیا۔ تقریباً ایک سال بعد گرمیوں کی چھٹیوں میں ہاسٹل کا روم میٹ دن رات سو سو کر اکتا گیا تو کہنے لگا یار بوریت ہو گئی ہے بہت۔ ڈپریشن ہونے لگا ہے۔ نجانے مجھے کیا سوجھی، میں نے وہ رانگ نمبر اسے ”ڈونیٹ“ کر دیا۔ کمیونیکیشن اچھی تھی۔ دوست نے بتایا کہ یار یہ تو اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔ میرے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی۔ کہاں بارڈر کے گاؤں میں کھیتوں کے کنارے بیٹھا وہ لڑکا۔ کہاں پنجاب یونیورسٹی۔ اگلے ہفتے میں لائبریری گیا تو جوڑا ”آشیرباد“ لینے خاص طور پر میرے پاس آیا۔ ان کا جوڑا آسمان پر نہیں بلکہ موبائل پر بن گیا۔ اس رشتے کی جڑ میں ”بوریت“ ہی تھی۔
کورونا کی ویکسین پر تو عدم اعتماد کیا جا رہا ہے مگر پوری قوم اس بات پر متفق ہے کہ بوریت دور کرنے کی ویکسین ”غیبت“ ہے۔ وقت گزاری کے لئے چغلی، لمبی کال چلانے کی خاطر فضول اور لایعنی گفتگو زندگیوں کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جس سے بعض اوقات بڑے بڑے مسلے بھی ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بوریت دور کرنے کے لئے منچلے مختلف مقامی و بین الاقوامی پیجز پر جا کر گالیاں لکھتے اور جگتیں کرتے پائے جاتے ہیں۔ کئی ایک تو فیس بک کے بانی کی آئی ڈی پر جاکر اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتے بھی دکھائی دیے۔ ٹک ٹاک ایسی ایپلیکیشنز کی مقبولیت سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بوریت کس قدر بڑا مسئلہ ہے۔
بوریت دور کرنے کا صدیوں سے آزمودہ، سب سے بہترین نسخہ کتاب دوستی ہے۔ مطالعہ کی عادت آپ کو راہ راست پر رکھتی ہے اور آپ گھٹیا قسم کی ذہنی عیاشی کے سامان سے بھی بچ رہتے ہیں۔


