بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ
سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی برطانیہ میں ویزے کی مدت میں توسیع سے برطانوی حکومت کے انکار کی خبر کیا آنی تھی کہ نئے پاکستان کے وزراء کے وارے نیارے ہو گئے۔ خوشی اتنی کہ ان سے سنبھلنے ہی نہیں پا رہی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ حکومت باقی بچ جانے والے 2 سال سے بھی کم عرصہ میں ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کرے۔
ملکی مسائل کی وجہ اگر کسی انفرادی شخصیت کا ہو۔ تو ایسے بے سر و پا پالیسی کی جو پی ٹی آئی نے اختیار کی ہوئی ہے کی کوئی نہ کوئی منطق سمجھ میں آ جاتی ہے۔ لیکن یہاں تو تمام تر حکومتی مشینری منفی ایجنڈا سیٹنگ اور اداروں کی بے انتہا سپورٹ کے باوجود حکومتی کارکردگی کے مشین میں موجود پانی گدلا ہے۔ ایسے میں حکومتی وزرا کا نواز شریف کی ویزہ میں توسیع سے برطانوی حکومت کے انکار پر خوشی کے شادیانے بجانا، بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ والی صورتحال ہے۔
ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، اٹھ ہزار ارب روپے کا ٹیکس کولیکشن، 200 ارب بقول ان کے لوٹی ہوئی رقم کی واپسی، جیسے غباروں سے تو پہلے ہی ہوا نکل چکی ہے
افغانستان کی صورتحال کا بربادی کا پیغام، امریکی صدر بائیڈن کے فون کال کے لئے ترستے نئے پاکستان کے معمار، معیشت کی زبوں حالی، دہشت گردی کا دوبارہ سر اٹھانا، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات، سپورٹس کی تباہ حالی، بڑھتی ہوئی ہوشربا مہنگائی، بے ہنگم بیروزگاری اور غربت، آئی ایم ایف کی زنجیریں، روپے کی قدر میں کمی، پارلیمنٹ کی بے توقیری، جمہوریت کی تنزلی، کرپشن میں اضافہ، بد انتظامی، کرونا کی چوتھی لہر کی مچاتی ہوئی تباہی، ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار، یورپی یونین کی جی ایس پی سٹیٹس واپس لینے کی دھمکی، بھارت کا کشمیر کا بزور شمشیر انضمام اور امت مسلمہ کی خاموشی، بنیاد پرستی کی بڑھتی ہوئی لہر، صوبائیت کا بڑھتا ہوا وبا، پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے شدید تحفظات، سیاسی عدم استحکام اور انتقام، آزادی رائے پر پابندیاں، گالم گلوچ کا عروج، عدم مساوات، اقلیتوں کے بڑھتے ہوئے تحفظات، عورتوں اور بچوں پر تشدد اور ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات، دفاعی اور ترقیاتی بجٹ میں کمی، خارجہ پالیسی کا نہ کوئی سر ہے اور نہ پیر، اقتدار کے لیے پی ٹی آئی میں جاری کشمکش۔ کیا یہ سارے مسائل حل ہوئے جو نواز شریف کے ویزہ کے معاملے پر ڈھول بجائے جا رہے ہیں۔
ذاتی طور پر میں نہ کبھی نواز شریف کو ووٹ کیا ہے نہ ہی میں ان کا نمائندہ۔ نواز شریف جانے، برطانیہ جانے اور ان کا پاکستان آنا یا نہ آنا جانے۔ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ اصل مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا اب پی ٹی آئی کا وتیرہ بن چکا ہے۔ ؟ کیا پی ٹی آئی نے اس گلے سڑے نظام کو مزید بدبودار نہیں بنایا ہے؟ کیا اس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ہر محاذ پر ہم گہری کھائی میں نہیں گر رہے؟
اور کیا اس نااہل حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کے لئے خدانخواستہ کسی بڑی تباہی کا انتظار ہے؟
بھلائی اسی میں ہوگی کہ پارلیمنٹ کو طاقت کا سر چشمہ بنا کر، سیاسی استحکام کے لئے معنی خیز اقدام اٹھائے اور انفرادی شخصیات کی پگڑیاں اچھالنے کی بجائے پی ٹی آئی کی حکومت باقی کے بچے ہوئے مدت میں ملکی ترقی پر اپنی توانائیاں صرف کرے۔


