دعوت اسلامی اور شجرکاری
دعوت اسلامی دین متین کی خدمت کے حوالے سے منفرد شہرت کی حامل ایک عالمگیر تنظیم رہی ہے۔ جس نے دینی حوالے سے کئی شعبہ جات میں خدمات سرانجام دی ہیں۔ دعوت اسلامی کی دینی خدمات سے انکار یوں ہی ہے جیسے کوئی افق پر ابھرتے سورج سے انکار کردے۔ دعوت اسلامی کے انقلابی اقدامات سے انکار ناممکن ہے۔ دعوت اسلامی دین کی تبلیغ اور ترویج و اشاعت میں بے پناہ خدمات سرانجام دیتی رہی ہے اور نہ صرف وطن عزیز پاکستان بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں دعوت اسلامی کا منظم نیٹ ورک موجود ہے اگر یوں کہا جائے کہ دعوت اسلامی منظم ترین نیٹ ورک کی حامل ملک پاکستان کی واحد مذہبی جماعت ہے جو دنیا بھر میں نیک نامی اور پرخلوص دینی خدمات کے سبب جانی و پہچانی جاتی ہے تو یقیناً غلط نہ ہوگا اور انکار اس بات سے بھی نہیں کیا جاسکتا کہ جس وقت اسلامک فوبیا کے سبب دنیا کے کئی ممالک کے لوگ مسلمانوں سے ناپسندیدگی حتی کہ نفرت تک کے جذبات کا اظہار کرتے تھے دعوت اسلامی دنیاء اسلام کی واحد دینی جماعت تھی جس کے کارکنان دنیا بھر میں اسلام کے سفیر بن کر حقیقی اسلامی تشخص کی بحالی میں کردار ادا کرتے دکھائی دیے۔
باخبر لوگ جانتے ہیں کہ ایک وقت تھا جب دنیا کے چند ممالک میں مسلمانوں کے لیے رہنا دشوار اور باہر سے داخلہ تقریباً ناممکن تھا اس وقت دعوت اسلامی کے کارکنان (اسلامی بھائی) تبلیغ کی نیت سے دنیا بھر میں (مدنی قافلہ) سفر کرتے دکھائی دیتے رہے اور جب مذہبی انتہاپسندی اپنے عروج پر پہنچی طالبانائزیشن اور دہشت گردی کے خطرات دنیا پر چھائے تو یہ واحد تبلیغی جماعت تھی جسے غیر سیاسی اور غیر متشدد قرار دیا گیا۔ یہ اپنے منشور یعنی مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے کہ تحت دنیا میں دین کا پیغام پہنچاتی رہی۔
دعوت اسلامی کی دینی خدمات کا تعارف اور ستائش ایک کالم میں کرنا تقریباً ناممکن ہے یہ جماعت دنیا کے ہر شعبہ میں جدت کے ساتھ موجود ہے اور دنیا کی تمام تر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے دین کے پیغام کو پہنچاتی اور دین متین کی خدمت کرتے دکھائی دے رہی ہے۔ پرنٹ میڈیا کی بات کی جائے تو اس تنظیم کا باقاعدہ ایک شعبہ ہے جو کہ کتب و رسائل کا اجراء کرتا اور مختلف مذہبی معاملات پر لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان میں رسائل کے حوالے سے مختلف جاسوسی ناول، کہانیاں اور رسائل پڑھنے کا شوق عروج پر تھا نوجوان کتب و رسائل سے گہرا شغف رکھتے تھے اس وقت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری کی کتب کے نام بھی منفرد اور پرکشش ہوا کرتے تھے جیسا کہ کفن چور کی واپسی، خاموش شہزادہ ابلق گھوڑا سوار، وضو اور سائنس، وغیرہ وغیرہ ان ہی کتب و رسائل نے ان گنت نوجوانوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیے اور پھر جب جدید میڈیا کے اثرات پاکستان پر پڑے اور پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی دوڑ شروع ہو گئی تو پاکستان میں ڈرامہ، اور تفریح کا واحد ذریعہ میڈیا ہی قرار پایا تو بانی دعوت اسلامی نے الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے اپنے باقاعدہ سیٹلائٹ چینل کا اعلان کر دیا اور آج دعوت اسلامی مدنی چینل کے ذریعے تبلیغی اور دینی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔
سوشل میڈیا کا دور آیا تو بھی یہ کسی سے پیچھے نہیں رہے دعوت اسلامی کا سوشل میڈیا ونگ (شعبہ) بھی فعال اور بہترین خدمات سرانجام دے رہا ہے یہ اور بات ہے کہ ناقدین کو ان کا صرف کھیرا کاٹنے اور کیلا رکھنے کے انداز ہی دکھائی دیتا ہے اور وہ اس جدید ترین تنظیم کو بھی جدت سے دور قرار دیتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ شاید یہ لوگ بھی پہلے لاوڈ اسپیکر کے مخالف تھے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تحریک ایک جدید اور منظم ترین نیٹ ورک کی حامل جماعت ہے جس کا ثبوت ان کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال دیکھ کر کیا جاسکتا ہے آپ دنیا میں کہیں بھی موجود ہوں ان کی اینڈرائیڈ و کمپیوٹر ایپلیکیشنز کے ذریعے قبلہ کی سمت نماز، سحر و افطار کے اوقات و دیگر کئی فوائد باآسانی حاصل کر سکتے ہیں ناصرف یہ بلکہ قرآن پاک پڑھنا یا سیکھنا ہو قرآن کا ترجمہ درکار ہو یا کوئی دینی مسئلہ درپیش ہو اور آپ اس کا حل جاننا چاہتے ہوں یا مفتیان کرام سے رابطہ درکار ہو یا کوئی مطالعہ کرنا چاہتا ہو اس تنظیم کی متعارف کردہ ایپلیکیشنز آپ کے لیے موجود ہیں لیکن بجز اس کے کھیرا کاٹنا اور کیلا سیدھا رکھنا ناقدین کے لیے موضوع ضرور ہیں۔
دین کی تبلیغ کے بعد بانی دعوت اسلامی کا حقوق العباد کے معاملہ میں احتیاط، احترام مسلم اور جذبہ خیر خواہی بھی خوب ہے۔ دعوت اسلامی اپنے طور پر فلاحی خدمات بھی کرتی ہی تھی مگر گزشتہ برس جب دنیا ایک عالمی وبائی مرض کرونا کا شکار ہوئی اور دنیا نے ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کر دیے مختلف ممالک لاک ڈاؤن کا شکار ہو گئے تو پاکستان میں بھی حالات کی سنگینی کے سبب لاک ڈاؤن لگایا گیا جس میں سب سے زیادہ متاثر مزدور اور دیہاڑی دار سفید پوش ہوا تو کئی سماجی اور مذہبی جماعتوں نے راشن اور خوراک کی فراہمی کا آغاز کیا جن میں دعوت اسلامی نے بھی بھرپور حصہ لیا لیکن ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس پر کسی کی توجہ نہ تھی اور وہ تھا تھیلیسیمیا کا شکار بچے جن کے لیے لاک ڈاؤن کے سبب خون کی اشد کمی دیکھنے کو ملی خون عطیہ کرنے والے افراد کرونا کے خوف اور لاک ڈاؤن کے سبب گھر سے نہ نکل سکے اور عطیات کی فراہمی تقریباً ختم ہو گئی یہ حساس اور سنگین مسئلہ جب بانی دعوت اسلامی تک پہنچا تو انہوں نے اپنے محبین، متعلقین اور مریدین کو فوراً خون کے عطیات دینے کا حکم کیا اور چشم فلق نے دیکھا کہ بلڈز بینک کو اعلان کرنا پڑا کہ مزید عطیات وصول نہیں کیے جا سکتے۔
تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے خون کے عطیات کی کمی کو تو پورا کر لیا گیا مگر اس تنظیم کی مجلس شوری نے یہ سوچنا شروع کر دیا کہ آخر یہ مرض ہوتا کیوں ہے اور اس کا سدباب کیسے ممکن ہے اور تمام تر تحقیق اور میڈیکل ایکسپرٹس کے مشورہ کے بعد اب اطلاعات یہ ہیں کہ نہ صرف دعوت اسلامی تھیلیسیمیا کے ٹیسٹ کرانے اور تھیلیسیمیا میجر اور مائینر کے شکار افراد کے اعداد و شمار مرتب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ یہ ڈیٹا حکومت پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے تاکہ پاکستان کو تھیلیسیمیا فری کیا جاسکے اور آج تک کی دعوت اسلامی کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت اسلامی نے جو ارادہ کیا اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی دم لیا یعنی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو تھیلیسیمیا فری کرنے کا سہرا بھی دعوت اسلامی کے سر جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
پھر اچانک دنیا میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب موسمیاتی تغیرات رونما ہونے لگے جس کے اثرات پاکستان پر بھی دکھائی دیے ہر شخص گرمی سے پریشان ہوا اور ہر ذی شعور اس گرمی کا سبب ماحولیاتی آلودگی اور درختوں کی کمی کو قرار دینے لگا حکومتی، سماجی اور شخصی سطح پر پچھلے چند سالوں سے پودے لگانے کا آغاز ہوا۔ ہر سال ماہ اگست میں بھرپور جوش و جذبہ کے ساتھ پودے لگائے جانے لگے مگر پودے درخت نہ بن سکے جس کا شاید سبب غیر منظم ہونا اور وقتی جذبہ کے بعد جوش و خروش کا ماند پڑ جانا تھا لیکن اس سال خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب دعوت اسلامی نے ایک خوبصورت سلوگن پیش کیا پودا لگانا ہے درخت بنانا ہے۔
اس ضمن میں دعوت اسلامی کے کارکنان نے ملک بھر میں پودے لگائے ہیں اور ان پودوں کو درخت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور دعوت اسلامی کی تاریخ تو گواہ ہی ہے کہ یہ جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں اس حوالے سے انہوں نے باقاعدہ طور پر پودے لگانے کے لیے جگہوں کا انتخاب اور ان پودوں کی بہتر دیکھ بھال کے لیے لوگوں کو منتخب کیا ہے اور کراچی میں باقاعدہ طور پر واٹر ٹینکر تیار کروائے ہیں جو ان پودوں کو پانی لگائیں گے ان واٹر ٹینکرز نے باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ دعوت اسلامی شہر کراچی میں جدید ترین میاں واکی (Miyawaki) ٹیکنالوجی کے ذریعے درخت لگانے جا رہی ہے یہ ٹیکنالوجی دنیا میں پہلی بار جاپان میں استعمال کی گئی تھی اس ٹیکنالوجی کے ساتھ لگائے گئے درخت بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائڈ کو جذب اور آکسیجن کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دعوت اسلامی کئی سو جگہوں پر میاں واکی یعنی کہ (Miyawaki Forest) لگانے جا رہی ہے جس سے امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آلودگی کے خاتمے میں مدد ملے گی اور دعوت اسلامی کے ان تمام مذہبی و فلاحی کاموں کو دیکھتے ہوئے دل سے بس دعا یہ ہی نکلتی ہے کہ
اللہ کرم تجھ پہ ایسا کرے جہاں میں
اے دعوت اسلامی تیری دھوم مچی ہو


