موت کیا ہے؟


کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کے آپ کسی بھی گھڑی مر سکتے ہیں؟ ایک لمحہ میں زندگی کی ساری رنگین روشنیاں بجھ سکتیں ہیں؟

دنیا میں روزانہ سینکڑوں ہزاروں لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مرتے ہیں۔ سر پے جوں تک نہیں رینگتی مگر جیسے ہی کوئی اپنا رخصت ہو تو لگتا ہے غم کے سارے پہاڑ ہم پر ٹوٹ پڑے۔ ساری مصیبت ہم پر آ پڑی۔ اسے دیکھ خود اپنی موت بھی یاد آنے لگتی ہے۔ قبر کو دیکھ ایک بار جسم کانپ جاتا ہے۔ آپ خود کو قبر میں لیٹے، پتھر کی سیلوں اور منوں مٹی کے نیچے تصور کرنے لگتے ہیں۔

موت جو ہمیشہ سے ایک راز ایک بھید رہی ہے اچانک اپنی پوری تاب کے ساتھ دماغ میں گھومنے لگتی ہے۔ موت سے متعلق سارے قصے کہانیاں، سارے سوال، فلسفے، سارے خدشات چھبنے لگتے ہیں۔ موت اپنے تمام سوالوں کب، کیسے، کیوں، کہاں؟ کے ساتھ کچھ دیر کے لئے سر پر سوار ہو جاتی ہے۔

تو بھائی موت آخر ہے کیا؟

فرانسیس بیکن لکھتا ہے کے ”مرنا اتنا ہی فطری ہے جتنا کے پیدا ہونا“ مطلب موت اتنی بھی کوئی بڑی پہیلی نہیں۔ مزید وہ لکھتا ہے آدمی موت سے ایسے ڈرتے ہیں جیسے بچے اندھیرے میں جانے سے۔ حالانکہ کے بچوں میں اندھیرے کا ڈر قصے کہانیوں سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح آدمیوں میں موت کا ڈر بھی مذہبی کہانیوں کی پیداوار ہے۔ جیسے کے موت کے بعد سزا اور جزا کا تصور وغیرہ۔

مولانا رومی کہتے ہیں ”ہماری موت ابدیت سے ہمارا بیاہ ہے“ یعنی مرنے کے بعد ہم ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے والے ہیں۔ یہی تسلی مجھے میرا مذہب بھی دیتا ہے۔ مذہبی تعلیمات کے مطابق مرنا ایک طرح کا نفع ہے اور کسی بشارت سے کم نہیں۔

”اگر ہم جیتے ہیں تو خداوند کے واسطے جیتے ہیں اگر مرتے ہیں تو خداوند کے واسطے مرتے ہیں۔ پس ہم جئیں یا مریں خداوند ہی کے ہیں“ رومی 14 : 8

جان ڈن کی موت کے بارے میں بڑی ہی بہترین نظم ہے جس میں وہ کہتا ہے ”موت تم کیوں فخر کرتی ہو؟ گو کے کچھ لوگ تمہیں عظیم اور بھیانک کہتے ہیں پر تم نہیں ہو۔“ لکھتا ہے کے موت بھی نیند کی طرح ہی ہے یہ مختصر نیند کا دورانیہ ختم ہوگا اور پھر ہم ہمیشہ کے لئے جاگ جائیں گے۔ یہاں یہ تصور بھی خالص مذہبی لگتا ہے۔

کہیں پڑھا تھا کے ”نیند اور موت دونوں بہنیں ہیں“

لیکن سائنس کہتی ہے کے جب آپ کا سانس رکا، دل دھڑکنا بند ہوا تو دماغ تک خون نہیں پہنچ پائے گا تب آپ کی موت واقع۔ یہ چلتی ہوئی سانس ہی آپ کی روح ہے۔ روح جسم سے الگ کوئی وجود نہیں رکھتی۔ کچھ وقت تک دماغ کام کرے گا پھر سب قصہ تمام۔ نا کوئی اگلا جہان نا کوئی حساب نا ہی reward نا ہی کوئی سزا وغیرہ وغیرہ۔ مطلب کہانی ختم فل سٹاپ۔ آپ جس زمین سے آئے ہیں اسی کا ہی ایک حصہ بن جائیں گے۔

یہ تمام ادبی، شاعرانہ، سائنسی اور مذہبی وضاحتیں چاہیے وہ بھیانک ہیں یا خوشخبری سناتی ہیں کیا یہ وضاحتیں تشفی کے لئے کافی ہیں؟ کیا مذہبی، سائنسی تعلیمات اس بھید کو جاننے کے لئے کافی ہیں؟

دماغ میں اٹھنے والے ان سوالات کی بھرمار کا کیا؟ کیا ان کا جواب مل سکے گا؟

روح کیا ہے؟ کیا روح جسم سے الگ وجود رکھتی ہے؟ موت کے بعد کوئی زندگی ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہمیشہ کے لئے جاگ جائیں گے؟ مرنے کے بعد سزا؟ کیا مرنے کے بعد درد محسوس ہوگا؟

سوالات کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

Facebook Comments HS