موٹاپا، حکمت اور دور بے ہنراں
فی زمانہ موٹاپے سے بڑی کیا بیماری ہوگی۔ اب آپ یہ نہ بتائیے گا کہ گرین ٹی، گرین کافی، سونف، کلونجی، سرکہ، آلو بخارا، گرم پانی، شہد، زیرے کا قہوہ، میتھی دانہ، لاکھ دانہ، دار چینی، امرود، سیب اور تو اور آم بھی لوگوں کا وزن کم کرتا ہے۔ ہم موٹاپے کے دائمی شکار ان میں زیادہ تر چیزیں آزما بھی چکے ہیں۔ پھر پاکستان بھر میں عبقری کے حکیم صاحب سے لے کر ہر کونے میں ایسا حاذق طبیب موجود ہے جو چند ہفتوں میں آپ کا جسم سڈول بنا سکتا ہے اور آپ موٹاپے سے ”باآسانی“ نجات حاصل کر سکتے ہیں، قسم کے نسخے بھی استعمال کرچکے ہیں۔
غور کریں تو طبیعت میں تجسس اور حق الیقین تک پہنچنے کا مادہ ہونے کی وجہ سے زندگی میں مسائل اور سوالات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ کسی بھی بات کو صرف سن کر ماننا مشکل رہا ہے خواہ وہ مذہبی روایات ہوں یا معاشرتی معاملات۔ فوری طور پر کسی دعوے یا معجزے کا انکار تو نہیں لیکن اس کی حقیقت جان لینے کا تجسس ساتھ رہتا ہے۔ ان لوگوں پر پیار بھی آتا ہے جو آنکھیں بند کر کے معاملات پر یقین کر لیتے ہیں۔ اور ہم جیسے کہ دبدھا میں دونوں گئے مایا ملی نہ رام۔
حکما کے محیرالعقول کارناموں کے بارے میں بھی بچپن سے سن پڑھ رکھا ہے۔ نبض دیکھ کر بیماری بتا دینے والے، چہرہ پڑھ لینے والے، اتفاقیہ مرے سانپ کے اوپر اگنے والے گنے سے دمے کا علاج کرنے والے، مردے کے سرہانے لیموں کٹوا کر اسے زندہ کردینے والے، ہفتہ پہلے کھائی ہوئی خوراک بتا دینے والے، دھاگہ باندھ کر نبض دیکھنے والے اور یہ بتا دینے والے کہ بلی کو بھوک لگی ہے، زمین پر ریت بچھا کر اس میں تیز دار آلہ چھپا کر پاؤں کی کوئی رگ کاٹ کر ملکہ کی چھاتی کے ورم کا علاج کرنے جیسے سینکڑوں واقعات آپ کی طرح ہم نے بھی پڑھ سن رکھے ہیں۔
ہمارے خاندان میں حکیم لیاقت علی کا ذکر ہوتا ہے جو ہمارے پردادا کے دوست تھے، تعلق ہارون آباد سے تھا۔ روایات کے مطابق انتہائی حاذق تھے اور ساتھ مغرور بھی کہ ایک دفعہ نواب بہاولپور نے علاج کے لئے سواری بھجوائی کہ علاج کے لئے محل تشریف لائیں، صاف انکار کر دیا کہ نواب ہوگا تو گھر میں، علاج کرانا ہے تو مطب آئیں۔ پردادا جی کے کہنے پر ہمارے گاؤں آئے اور ان کی بھتیجی (ہماری نانی اماں ) جو بچپن میں کسی بیماری کی وجہ سے قریب المرگ تھیں ان کا کامیاب علاج کیا۔ پھر ہمارے ایک اور عزیز کا علاج کیا اور عرصہ علاج میں چنے کھانے سے منع کیا ساتھ ہی دوبارہ دکھانے کے لئے مطب آنے کا کہا۔ وہ جانے سے دو دن پہلے دانستہ چنے کھا کر چلے گئے۔ نبض دیکھتے ہی بگڑ گئے کہ تم نے دو دن پہلے چنے کیوں کھائے۔ جاو میں علاج نہیں کروں گا۔
کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے معروف اطبا حکیم اجمل خان، حکیم نورالدین بھیروی، حکیم نابینا، حکیم محمد سعید وغیرہ نے طب کے میدان میں بہت شہرت حاصل کی اور طب کی خدمت بھی کی اور اپنے نسخے ساتھ لے کر نہیں گئے بلکہ کسی نہ کسی رنگ میں ابھی تک ان کے نسخے زیر استعمال ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض اوقات لگتا ہے کہ مذہبی معجزوں کی طرح طبی معجزے بھی بلاوجہ و ضرورت حکما کی طرف منسوب کر دیے گئے ہیں۔ اس بات کو ماننے میں کوئی عار نہیں کہ ایسے حکما اور اطبا اب بھی موجود ہوں گے لیکن باوجود تلاش کے کوئی ایسا حاذق حکیم اس دور میں کم از کم ہمیں میسر نہ آ سکا۔ ایک مثال ہے کہ اچھا ڈاکٹر ہزاروں میں ایک ملتا ہے اور اچھا حکیم لاکھوں میں۔ اب نہ جانے ہمارے لاکھوں کب پورے ہوں۔
ایک ایسے ہی حاذق حکیم سے ملنے کے لئے دور دراز کا سفر اختیار کیا۔ ان کی شہرت استاذ الاساتذہ قسم کی تھی۔ حکیم صاحب سب سے پہلے تو ہم مہمانوں کے سامنے باقاعدہ بے ہودہ طریقے سے لیٹ گئے۔ طبیعت اور مکدر اس وقت ہوئی جب حکیم صاحب نے پینے کے لئے کولا مشروب پیش کیا۔ ساتھ گئے دوست نے دوا حاصل کی۔ صاحب موصوف موٹاپے کا بہت کامیاب علاج کرتے ہیں اور اپنا پیٹ قمیض کے بٹن پھاڑنے پر تلا تھا۔ خاکسار سے پوچھا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے، صاف کہہ دیا کہ مسئلہ تو آپ والا ہی ہے لیکن آپ اپنی دوا خود کیوں استعمال نہیں کرتے۔ موصوف نے جواباً سگریٹ سلگایا اور وہیں غم غلط کرنے لگے۔ پچھلے دنوں سنا کہ اسلام آباد کے ایک اسپتال میں دل اور شوگر کے علاج کے لئے داخل ہیں۔
یہ بات صرف حکیموں تک ہی محدود نہیں۔ اسلام آباد کے ایک پوش علاقے کے ایک بڑے میڈیکل ڈاکٹر کے کلینک میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم انہیں ٹی وی پر بھی دیکھتے رہتے ہیں۔ ایک دوست نے ان کی بڑی تعریف کی کہ بہترین فزیشن ہیں۔ گئے تو کسی اور کام سے تھے لیکن ان کے استقبالیہ پر وزن کم کرنے کے پیکج کی قیمت لکھی ہوئی دیکھی۔ انتظار گاہ میں بیٹھے تھے کہ موصوف کے دفتر سے ایک خاتون برآمد ہوئیں جن کے سر پر مہندی نما کوئی چیز لگی ہوئی تھی اور پھر خود ہاتھ دھونے کے لئے نکلے (موصوف کاسمیٹکس سپیشلسٹ بھی ہیں ) ۔ ٹی وی پر پہنا کوٹ غائب تھا جو ان کے موٹاپے کو چھپائے رکھتا ہے۔ ہم سے بھی دوگنا موصوف کا پیٹ وزن کم کرنے والے پیکج کے اشتہار پر نوحہ کناں تھا۔ ہم ریسیپشنسٹ کے بلانے کے باوجود پیٹ دبا کر بھاگے اور گاڑی میں آ کر پناہ لی اور جس مقصد کے لئے گئے تھے اس کے لئے بھی ملنے سے پرہیز کیا۔
اس طرح کے اطبا کے بعد یو ٹیوب نے ٹوٹکوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ان ٹوٹکوں میں بھی موٹاپے کا علاج سر فہرست ہے۔ لیکن ہر اس ٹوٹکے جس کے بارے میں دعوی ہو کہ چند ہفتوں میں آپ کا اتنا وزن کم کردے گا، استعمال کے بعد چند پاونڈز کا اضافہ ہی دیکھنے میں آیا۔ اب طرح طرح کی پھکیوں، شربتوں اور حکیموں، ہومیو پیتھ اور ڈاکٹروں سے ملنے کے بعد یہی سوچا ہے کہ کرامتوں اور معجزوں کا وقت شاید گزر چکا کیوں نہ کسی جم کو آزما لیا جائے ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔ اب آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ اگر کوئی طبیب ہوتے تھے تو اب نہیں ہوتے یا ہمارا موٹاپا اتنا ڈھیٹ ہے جس کا کوئی علاج نہیں۔


