امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے: عمران خان


فائل فوٹو

ویب ڈیسک — پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو صرف اس لیے کارآمد سمجھتا ہے کہ وہ افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں پیدا ہونے والی مشکل صورتِ حال سے نمٹنے میں مدد کرے۔​

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ میں بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ "میرا خیال ہے کہ امریکیوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اب بھارت ان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ اس لیے امریکہ کا پاکستان کے ساتھ رویہ مختلف ہو گیا ہے۔”​

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یہ واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پاکستان کے اندر کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں چاہتا۔

واضح رہے کہ امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگتا رہا ہے۔ تاہم پاکستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

کابل اور کئی مغربی حکومتوں کا کہنا ہے کہ طالبان کے لیے پاکستان کی حمایت نے اس گروپ کو جنگ کو طول دینے میں مدد دی ہے۔​

تاہم عمران خان کہتے ہیں پاکستان افغانستان میں کسی فریق کی حمایت نہیں کر رہا۔ ان کے بقول جب طالبان رہنماؤں نے پاکستان کا دورہ کیا تو انہوں نے طالبان کو امن معاہدے پر پہنچنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان رہنماؤں نے انہیں بتایا ہے کہ جب تک افغان صدر اشرف غنی حکومت میں ہیں وہ افغان حکومت سے مذاکرات نہیں کریں گے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار اور قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے تحت امریکہ کا جھکاؤ بھارت کی طرف بڑھتا گیا ہے۔ لیکن اس عرصے کے دوران امریکہ پاکستان کو افغانستان کی نظر سے ہی دیکھتا رہا ہے۔

ظفر جسپال کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے دنوں میں پاکستان امریکہ سے تعاون بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی بعض معاملات میں یہ تعاون جاری ہے لیکن پاکستان کی کچھ حدود ہیں اور شاید پاکستان اس حد تک خاص طور پر افغانستان میں امریکہ کے مقاصد کے حصول میں شاید آگے نہیں جارہا ہے جتنا امریکہ خواہش مند تھا۔

ان کے بقول افغانستان کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق پاکستان کے وزیرِ اعظم نے حقیقت پسندانہ بات کی ہے۔ امریکہ کو بھی بلیم گیم کو چھوڑ کر افغانستان سے متعلق غیر حقیقی توقعات اور مطالبات کو چھوڑنا ہوگا۔

تجزیہ کار ظفر جسپال نے مزید کہا کہ امریکہ اور بھارت کے اسٹرٹیجک تعلقات کوئی نئی بات نہیں۔ اگرچہ پاکستان پہلے سفارتی طور امریکہ اور بھارت کے تعلقات کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا لیکن اب عمران خان نے صاف صاف امریکہ اور بھارت کی قربت کا ذکر کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب امریکہ کو پاکستان کی ضرورت تھی تو دونوں ملک اسٹرٹیجک شراکت دار تھے۔ افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت کے وقت پاکستان کو بھی امریکہ کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے واشنگٹن اسلام اور دہلی کے ساتھ اپنے تعلقات میں توازن رکھتا۔ لیکن اب صورتِ حال تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکہ بھارت کو اسٹرٹیجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ جنوبی ایشیا اور بحرِ ہند میں بھارت کا ایک اہم کردار ہے۔

‘پاکستان کو خدشات ہیں کہ اسے امن عمل کی راہ میں درپیش ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھیرایا جائے گا’

بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار ہما بقائی کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں اور اب واشنگٹن ان تعلقات کو افغانستان کے پس منظر میں دیکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے پہلے افغانستان میں معاملات کو سلجھانے کے لیے مدد مانگی گئی لیکن اب اسلام آباد کے خدشات ہیں کہ پاکستان کو امن عمل کی راہ میں درپیش ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھیرایا جائے گا۔

ہما بقائی کے بقول جو بائیڈں انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی سمت پر استوار کرنے کا خواہش مند تھا لیکن اب تک اس حوالے سے کو قابلِ ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ اس لیے شاید عمران خان کو یہ کہنا تھا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات ہیں اور پاکستان کو بظاہر اسی لیے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ان کے خیال میں واشنگٹن کی طرف سے بظاہر سرد مہری کی وجہ سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔

اگرچہ امریکہ کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ پاکستان طالبان کو اپنی عسکری کارروائیاں روکنے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے لیکن ہما بقائی کے بقول شاید یہ اتنا آسان نہیں ہیں کیوں کہ پاکستان کا طالبان پر ماضی جیسا کنٹرول نہیں رہا۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa