گلی کا کتابی عشق اور شرمندگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دبلا پتلا سا جسم تھا لیکن نین نقش تیکھے تھے۔ رنگ سانولا تھا لیکن موٹی موٹی آنکھوں میں ہر وقت ایک چمک سی رہتی تھی۔ آنکھوں کے گرد حلقے تھے لیکن یہ تو ان کے سب گھر والوں کے ہی تھے۔

گھر کے چھوٹے موٹے سبھی کام وہ ہی نمٹاتی تھی۔ شاید دو یا تین اس کی بڑی بہنیں بھی تھیں لیکن گلی کی نکڑ پر کریانے کی دکان سے گھی، چینی یا بسکٹ وغیرہ لینے ہمیشہ وہ ہی آتی تھی۔ سبزی لینی ہو، بازار سے کچھ لانا ہو یا درزی کے پاس جانا ہو، یہ سبھی کام وہ ہی سرانجام دیتی تھی۔ سانولے رنگ اور دبلے پتلے جسم کی وجہ سے شاید ہی کسی لڑکے کو اسے مڑ کر دیکھنے کا خیال آتا ہو لیکن مجھے اس میں بہت نفاست نظر آتی تھی۔ بڑے سلیقے سے سر پر دوپٹہ لیا ہوتا تھا، بال ہمیشہ ترتیب میں ہوتے تھے، سلیقے سے مانگ نکلی ہوتی تھی اور وہ آہو چشم اردگرد کی دنیا سے بے خبر صرف اپنے راستے کی تلاش میں رہتی تھی۔

نکڑ والی دکان سے جب بھی وہ سودا لینے آتی تو ساتھ میں تلسی لازمی خریدتی تھی۔ میں اکثر محلے کے دوستوں طاہر اور منیر کے ساتھ وہاں بابے روشن کی کھڑی ریڑھی پر بیٹھا رہتا تھا۔ ہم نے اس کا نک نیم یا کوڈ نیم تلسی رکھا ہوا تھا۔

شاید وہ مجھے اس وجہ سے بھی اچھی لگتی تھی کہ اسے کتب بینی کا بہت شوق تھا۔ مجھے اکثر وہ راشد لائبریری سے کوئی ناول یا شاعری کی کوئی کتاب لے کر نکلتے دکھائی دیتی تھی۔

نوشہرہ ورکاں میں جو شخص بھی ادبی طبیعت کا مالک تھا تو راشد لائبریری اس کے لیے جنت تھی۔ یہ نوشہرہ ورکاں کی واحد لائبریری ہے اور آج تک کسی نہ کسی طرح چل رہی ہے۔ راشد بھائی بذات خود انتہائی نفیس انسان ہیں۔ اگر انہیں کتابوں کا عاشق کہا جائے تو اس میں ذرہ برابر بھی مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ کتابیں ہی ان کا کل سرمایہ ہیں اور وہ آج تک کسی نہ کسی طرح، مالی مشکلات کے باوجود اپنی لائبریری کو چلا رہے ہیں۔ آج بھی طلبہ و طالبات کی علمی تسکین کسی نہ کسی طریقے سے اسی چھوٹی سی لائبریری سے پوری ہو رہی ہے۔ میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر راشد بھائی کی لائبریری نہ ہوتی تو نوشہرہ ورکاں میں طلبہ و طالبات شاید زندگی بھر ناول، شاعری اور دیگر کتب پڑھنے کے لیے ترستے رہتے۔

راشد بھائی کی دکان سے کتابیں کرائے پر لینے والے اب دنیا کے کئی ممالک میں اچھے عہدوں پر بیٹھے ہیں لیکن وہ اب بھی لائبریری کے ایک کونے میں کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتے ملتے ہیں۔ گفتگو کرنے کا وہی انداز، وہی مسکراہٹ اور وہی بوسیدہ کتابوں کی خوشبو! بس ایک تبدیلی آئی ہے، راشد بھائی کے بالوں کی سفیدی دور سے دکھائی دیتی ہے۔

خیر مجھے اس بات کی خوشی تھی اور تجسس بھی کہ ہماری ساتھ والی گلی سے بھی کوئی لائبریری سے کتابیں لینے آتا ہے۔ اصل میں وہ چند ماہ پہلے ہی ساتھ والی گلی میں شفٹ ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کہاں رہتے تھے اور ہماری ساتھ والی گلی میں کب تک رہیں گے یہ کبھی پوچھنے کا خیال ہی نہیں آیا تھا۔

راستے میں آتے جاتے کبھی کبھار میری اس سے مختصر سی بات بھی ہو جاتی تھی لیکن سب کی نظروں سے بچ کر ہونے والی یہ گفتگو انتہائی مختصر ہوتی تھی۔ کون سی کتاب لی ہے یا کون سا ناول پڑھ رہی ہو۔ ایسی ہی مختصر اور بے معنی سی گفتگو۔ خوف بھی ہوتا تھا کہ کوئی بات کرتے دیکھ نہ لے، کہیں محلے والوں کو سرگوشیاں کرنے کے لیے کوئی نیا موضوع نہ مل جائے، محلے کا کوئی بڑا یا کوئی چاچی بات کرتے دیکھ کر ڈانٹ نہ دے۔ کسی نے ابا جی کو شکایت لگا دی تو کیا بنے گا؟ ایسے ہی ہزاروں خدشات تھے۔ آتے جاتے نظروں کا چار ہو جانا ہی کافی تھا۔ گاؤں دیہات میں یا محلوں میں صرف دیکھ کر مسکرانے کا سلسلہ سال سال چلتا رہتا ہے۔ اب شاید موبائل کی وجہ سے ایسا نہ ہوتا ہو۔ لیکن اس وقت ہماری ساری کی ساری کہانی بس یہی آتے جاتے ایک دوسرے کو ٹیڑھی سی آنکھیں کر کے دیکھنا یا پھر ہلکی سی مسکراہٹ ہی تھی۔

ہمارے گھر ٹیلی فون چند ماہ پہلے ہی لگا تھا۔ سبز رنگ کا ڈائل کرنے والا ٹیلی فون تھا۔ ٹرررر ٹرررر ٹررررر کرتی گھنٹی کی آواز اتنی اونچی ہوتی تھی کہ ہمسایوں کو بھی علم ہو جاتا تھا کہ کسی کا فون آیا ہے۔ اسی طرح ایک رات تقریباً نو بجے بیل بجنے کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ کوئی گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ چلتا رہا۔ ابو جی بار بار کہتے پتا نہیں کس کا فون آتا ہے۔ بڑے بھائی بھی تھے اور سب ہی ایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھتے تھے کہ اب پتا نہیں کس کے لیے فون آتا ہے؟ ایک بیل ہوتی تھی اور فون بند ہو جاتا تھا۔ یا جب جلدی سے ریسیور اٹھایا جاتا تو دوسری طرف یا تو مکمل خاموشی ہوتی یا پھر ایک دبی دبی ہنسی کی آواز آنا شروع ہو جاتی تھی۔ یہ سلسلہ چند دن چلتا رہا۔ پھر کچھ دن بعد کریانے کی دکان کے پاس ہی اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے آپ لوگوں کو ہر رات کوئی بیل بجا کر تنگ کرتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے اس کی مسکراہٹ معنی خیز تھی اور میں یہی سوچتا رہا کہ اسے کیسے پتا چلا ہے؟

بعد میں کچھ اندازہ ہوا کہ یہ ٹیلی فون ڈرامہ اس کی طرف سے ہو رہا ہے۔ میں نے دل ہی میں سوچا کہ اس کا بدلہ ضرور لیا جائے گا لیکن کیسے لیا جائے گا یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ایک دو دن بعد شام کو وہ اپنی چھت پر کھڑی ایریل گھما رہی تھی تاکہ انڈیا کا اسٹیشن صاف آ سکے اور وہ سبھی رات کو لگنے والی فلم دیکھ سکیں۔ میں اپنی چھت پر کھڑا یہ دیکھتا رہا کہ فلم دیکھنے کے لیے کتنا اہتمام ہو رہا ہے۔ ان کی اور ہماری چھت کے درمیان ایک گلی آتی تھی۔ رات نو بجے کے قریب میں ان کی چھت پر گیا اور قینچی سے ان کے ایریل کی تار کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے ساتھ لے آیا۔

دوسرے دن گلی میں چلتے چلتے ہی میں نے اس سے کہا کہ سنا ہے کہ کوئی رات کو آپ کے ایریل کی تار کاٹ کر ساتھ لے گیا ہے۔ میری اس حرکت کے بعد ٹیلی فون پر بار بار بیل بجنے کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔

ایک دن میں لائبریری میں ہی کھڑا تھا کہ اوپر سے وہ آ گئی۔ وہی اردو بولنے کا نفیس سا انداز، آنکھوں کے گرد حلقے تھے لیکن یہ پرکشش تھے۔ پورے محلے میں شاید ان کا واحد گھر تھا، جہاں سبھی گھر والے شوق سے ناول پڑھتے تھے۔ رکھ رکھاو تھا، تمیز تھی اور گھر پر شاید وہ سبھی زیادہ تر اردو بولتے تھے۔ ہم جیسے پنجابی بولنے والوں کے لیے یہ بھی ایک کشش تھی۔

اس کو ایک کتاب چاہیے تھی جو ان دنوں راشد لائبریری میں نہیں تھی۔ موقع غنیمت جان کر میں نے اس سے کہا کہ میرے ایک دوست کے پاس ہے، میں تمہیں لا دوں گا۔ اس نے تفتیشی سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا ٹھیک ہے آپ لا دیجیے گا۔

اگلے ہی دن تقریباً ایک بجے دوپہر کے قریب میں اس کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ سخت گرمیوں کے دن تھے، میں نے دائیں بائیں دیکھا پوری گلی خالی تھی۔ ایک طرف سے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اس نے دیکھا کہ میں کھڑا ہوں۔ وہ دروازے کے پٹ کے پیچھے چھپی کھڑی رہی، صرف چہرہ نظر آ رہا تھا۔

میں نے شلوار کے اوپر شرٹ پہن رکھی تھی، ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ ان دنوں میں کچھ پڑھا لکھا لگنے کے لیے شلوار کے اوپر شرٹ پہن لیا کرتا تھا، میرے لیے یہی فیشن تھا۔ آپ نے آج بھی دیکھا ہو گا کہ گاؤں دیہات کے کرکٹ کھیلنے والے لڑکوں نے بعض اوقات شلوار کے اوپر کوئی ٹی شرٹ وغیرہ پہنی ہوتی ہے۔ تو ہماری دوڑ یہاں تک ہی تھی۔ میں بھی اپنی طرف سے ماڈرن سا لڑکا بن کر اس کے سامنے گیا تھا۔

دروازے سے ایک ہاتھ باہر نکالتے ہوئے اس نے کتاب پکڑی اور ساتھ ہی مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔

جواباً اچانک منہ سے نکلا کہ شکریے کی کیا بات ہے، آپ حکم کریں! آپ کے لیے دس کتابیں حاضر ہیں۔ وہ مسکرائی اور دروازہ بند ہو گیا۔

شام کو مغرب کے وقت چھت پر چڑھا تو میری کزن بھی اپنی چھت پر رکھی چارپائی پر بیٹھے کچھ کھا رہی تھی۔ ان دنوں سارے محلے کی چھتیں تقریباً ایک برابر ہوا کرتی تھیں۔ آپ چلتے چلتے تیسری چوتھی چھت پر پہنچ جاتے تھے۔

تو کزن نے بڑی بے نیازی سے چٹیا سائیڈ پر پھینکتے ہوئے مجھے آواز دی کہ ادھر آو۔ میں خراماں خراماں قریب گیا تو کہنے لگی کہ ایک کتاب کہوں تو لا دو گے؟

میں نے برا سا منہ بنا کر کہا کہ دیکھوں گا اور اگر ممکن ہو سکا تو لا دوں گا۔
یہ سن کر اس نے زور سے قہقہہ لگایا اور بولی، اب نہیں کہا کہ آپ حکم کریں! دس کتابیں لا دوں گا۔

میں کچھ شرمندہ سا ہوا لیکن کزن کے قہقہے رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ میں حیران تھا کہ اتنی احتیاط کے باوجود چار گھنٹے کے اندر اندر اس گلی کی بات اس گلی تک کیسے پہنچ گئی؟

اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد میں لاہور چلا گیا۔ پھر ایک دن اچانک پتا چلا کہ تلسی کے گھر والے کسی دوسرے شہر منتقل ہو گئے ہیں۔

مجھے یہ واقعہ چند ہفتے پہلے ایسے ہی یاد آ گیا۔ میرے ایک دوست نے ساتھ والی لڑکی کو سگریٹ پیش کیا تو اس نے سگریٹ پکڑتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ دوست کے منہ سے بھی اچانک نکلا کہ شکریے کی کیا بات ہے، آپ حکم کریں، آپ کے لیے دس ڈبیاں حاضر ہیں۔

اب میں انتظار میں ہوں کہ کسی دن یہ ڈائیلاگ اپنے دوست کو مار سکوں، ہمیں تو نہیں کہتے، آپ حکم کریں! دس ڈبیاں حاضر ہیں!

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments