علامہ اقبالؒ مصور پاکستان یا معمار پاکستان!


ہمارے تعلیم یافتہ طبقے میں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے کہ شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ نے اسلامیان ہند کے لیے آزاد وطن کا ”صرف تصور“ پیش کیا اور باقی کا کام دوسروں کے لیے چھوڑ دیا اور خود شعر و شاعری میں مگن رہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کے خیال میں علامہ اقبال ؒ نے پاکستان کا خواب دیکھا اور پھر کروٹ بدل کر سو گئے۔ یہ تاثر عام پاکستانی سے لے کر اہل علم و دانش تک کے قلب و ذہن میں نسل در نسل غلط فہمی پھیلا رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نصاب اور دیگر ذرائع ابلاغ میں یہی لکھا جا رہا ہے۔ ہمارے ارباب نشرو اشاعت ہر سال ماہ اپریل اور ماہ نومبر میں پچھلے برسوں کے اقبالؒ پر لکھے مضامین نقل کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان میں اکثر کے پاس وہ عقل بھی نہیں ہے جو نقل کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ اسی طرح اقبال پر مضامین لکھنے والے بھی اکثر کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا جوڑ کر مضامین تخلیق کر رہے ہیں۔ تحقیق کا جذبہ ہے نہ سیکھنے کی جستجو، لہذا گھسے پٹے اور بار بار کے دہرائے موضوعات اور کلمات سے باہر نہیں نکل سکتے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ نے ذکر اقبال کو اپریل اور نومبر کی حد تک پابند کر دیا ہے بقیہ پورا سال ان کے پاس دیگر زیادہ اہم موضوعات ہوتے ہیں۔ ابھی چند ہفتے قبل میں نے اقبالؒ پر ایک مضمون ایک ”مشہور جریدے“ کو ارسال کیا تو ایڈیٹر کی جوابی ای میل آئی ”آپ کا مضمون تاخیر سے پہنچا ہے اسے اپریل میں بھیجتے تو شائع ہو جاتا اب تو نومبر میں ہی ہو سکتا ہے“ ۔ گویا اقبالؒ کی پیدائش اور وفات کے ان دو ماہ کے علاوہ ذکر اقبالؒ غیر ضروری ہے۔ اسی شمارے میں اس کے مالک کا کئی دفعہ کا شائع شدہ سفرنامہ ایک دفعہ پھر شامل اشاعت تھا۔ بہر حال بحیثیت قوم ہماری ترجیحات ایسی ہی ہیں اس پر کہاں تک اور کتنا رویا جائے۔

علامہ اقبالؒ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ وہ شاعری برائے شاعری کے قائل ہی نہیں تھے۔ شاعری محض ان کے لیے ذریعہ پیغام تھی۔ بالکل اسی طرح ان کی فکر اور فلسفہ امت مسلمہ کا ترجمان اور تہذیب مشرق کا نگہبان تھا۔ اقبالؒ مفکر بھی تھے اور فلسفی بھی، مفسر قرآن بھی اور علوم اسلامی کے عالم بھی، اسلامی اقتصادیات کے ماہر بھی اور بین الاقوامی مدبر بھی اور انتہائی دور اندیش رہنما بھی۔ ان تمام حیثیتوں میں انہیں اوج کمال حاصل تھا۔ ان کا فلسفہ، حیات و کائنات کے ایسے راز ظاہر کرتا ہے جو بنی نوع انسان کی نظروں سے اوجھل تھے۔

میری نوائے دو رنگی کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم راز درون خانہ ( اقبال)

ان کا پیغام انفرادی طور پر بنی نوع انسان، مرد مسلم، مرد مومن اور مرد کامل کے لیے اور اجتماعی طور پر ملت اسلامیہ اور اپنے ہم وطنوں سمیت سارے جہاں کے لیے ہے۔ جہاں وہ اسلامی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے علم بردار تھے وہاں انہوں نے مسلمانان ہند کے مستقبل کے معمار کا کردار بھی ادا کیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ان کی خدمات ان گنت اور ناقابل فراموش ہیں۔

بیسویں صدی کا پہلا نصف ہندوستان کے عوام کے لیے فیصلہ کن تھا۔ انگریز حاکم جو انیسویں صدی میں ہندوستان کے ساتھ جونک کی طرح چمٹے ہوئے تھے اور انہیں کسی قسم کی رعایت دینے کے روادار نہیں تھے، وہ بیسویں صدی میں خصوصاً پہلی عالمی جنگ کے بعد کچھ قانونی سہولتیں دینے کی طرف مائل ہوئے۔ مگر اس وقت ہندوں نے اکثریت کے بل پر ان کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ اگر مخلوط انتخابات کا طریقہ رائج ہو جاتا جو ہندووں اور کانگریسیوں کا مطمح نظر تھا تو مسلمان ہمیشہ کے لیے محکوم ہو جاتے، پہلے انگریزوں کے اور مستقبل میں ہندووں کے۔

ادھر انتہا پسند ہندو تنظیمیں مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے پر تولے ہوئے تھیں۔ وہ ببانگ دہل مسلمانوں کو للکار رہی تھیں کہ ہندو بن جاؤ یا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جاؤ۔ اگر ہندووں کی حکومت آ جاتی تو پھر مسلمانوں کی بقا خطرے میں تھی۔ ان کی نسل کشی کی جا سکتی تھی۔ تاریخ میں اس کی مثال موجود ہے جب ہسپانیہ پر آٹھ سو سال کی حکومت کے بعد مسلمانوں پر زوال آیا تو وہاں ایک بچہ بھی زندہ نہیں رہنے دیا گیا۔ یا تو وہ عیسائی بنا لیے گئے یا پھر تہ تیغ کر دیے گئے۔ جو تھوڑے بہت باقی بچے انہیں جہازوں میں بھر کر شمالی افریقہ کے ساحلوں پر پھینک دیا گیا۔

ہندوستان کے مسلمان حکومت کے چھن جانے کے بعد کبھی بھی نہیں سنبھلے۔ وہ انگریزوں اور ہندووں سے سہمے ہوئے اور اپنے بچاؤ کے لیے فکر مند رہتے تھے۔ ان میں اندرونی انتشار تھا۔ عام مسلمان ان پڑھ تھے۔ جو تعلیم یافتہ تھے وہ انگریزوں سے سخت مرعوب تھے اور باقی خارزار سیاست سے دور رہتے تھے۔ ان دنوں مسلمانوں کے لیڈر چند علما تھے جو زیادہ تر کانگریس کی بھول بھلیوں اور تحریک خلافت میں مگن تھے اور بحیثیت قوم مسلمانوں کے مستقبل کی انہیں زیادہ فکر نہیں تھی۔ اس جمود کو، وطنیت کے اس جال کو اور قوم پرستی کے اس خول کو سب سے پہلے علامہ اقبالؒ نے توڑا۔ :

ایک بلبل ہے کہ محو ترنم ہے اب تک
اس کے سینے میں نغموں کا تلاطم ہے اب تک ( اقبال)

انہوں نے شاعری کے ذریعے وطنیت کا بت پاش پاش کیا، مسلمانوں میں تازہ روح پھونکی، ان کے اندر جذبہ ایمانی جگایا اور سیاسی بصیرت کی روشنی سے انہیں اپنے قانونی اور سماجی حقوق سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور اپنے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے تیار کیا۔ سب سے اہم یہ کہ ایک الگ قوم کے طور پر اپنی شناخت قائم کرنے اور اس پر جمے رہنے کی مسلسل ترغیب دیتے رہے۔ مسلمانوں کو ایک قوم، ایک طاقت کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے علامہ ؒنے طویل جدوجہد کی۔

اس راہ میں انہیں اپنوں اور غیروں سمیت چو مکھی لڑائی لڑنی پڑی مگر ان کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہیں آئی۔ ایک طرف انگریز تھے، دوسری طرف ہندو تھے، تیسری طرف قوم پرست کانگریسی مسلمان مدمقابل تھے اور چوتھی جانب مسلم لیگ کے اندر سازشی عناصر سانس نہیں لینے دے رہے تھے۔ علامہؒ پر بھی مخلوط انتخابات کا نہرو فارمولہ مسلط کرنے کی بارہا کوشش کی گئی۔ ان کے بہت سے ساتھی اس جھانسے میں آ گئے مگر اقبالؒ اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی نہیں ہٹے۔ اسی لیے بانی پاکستان حضرت قائد اعظمؒ نے علامہؒ کے بارے میں فرمایا تھا :

” He is friend, a guide,philospher, during the darkest moments through which the Muslim league had to go,he stood like a rock and never flinched for one single moment“

( ترجمہ : وہ (اقبالؒ) میرے دوست، میرے راہبر اور فلسفی ہیں۔ تاریک ترین لمحات جن سے مسلم لیگ کو گزرنا پڑا اس دوران وہ چٹان کے طرح جمے رہے اور ان کے پائے استقامت میں ایک لمحے کے لیے بھی لغزش نہیں آئی ) ۔

حقیقت یہ ہے کہ 1908 ء سے لے کر جب اقبالؒ یورپ سے تعلیم اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے واپس آئے 1938 ء تک، اپنی زندگی کے آخری تیس برسوں میں وہ اپنی شاعری، خطبات، مقالات اور بیانات کے ذریعے قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔ جب وہ عملی سیاست میں نہیں ہوتے تو بھی مسلمان ان سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ 1926 سے لے کر 1934 تک علامہ نے انتہائی اہم سیاسی کردار ادا کیا۔ اس دوران میں اقبالؒ مسلمانوں کی سیاسی قیادت نہ کرتے تو ہندوستان کے مسلمانوں کا مستقبل تاریک ہو سکتا تھا۔

کیونکہ یہ برصغیر کی تاریخ کے نہایت اہم سال تھے۔ انگریز اقتدار کے منتقل کرنے کے قانونی فارمولے سوچ رہے تھے۔ اس کے لیے انہوں نے لندن میں تین گول میزیں کانفرنسیں بلائیں۔ علامہ اقبالؒ نے ان میں سے دو میں شرکت کی اور مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کیا۔ ان کا سب بڑا اور تاریخی قدم 1930 ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے سے صدارتی خطاب ہے۔ اس خطاب میں پہلی مرتبہ علامہ ؒنے مسلمانان ہند کی طرف سے آزاد وطن کا مطالبہ کیا۔

حالانکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت نصف النہار پر تھی مگر علامہ ؒنے اپنی سیاسی بصیرت اور مستقبل بینی کی بنا پر مسلمانوں کو الگ وطن کا راستہ دکھا دیا۔ علامہ اقبال ؒ کا یہ مطالبہ اتنا عظیم تھا اور وہ بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی جماعت کے صدر کے طور پر کہ اس کی گونج بین الاقوامی سطح پر بھی سنائی دی۔ اس مطالبے سے کانگریس اور انگریز ہل کر رہ گئے۔ علامہؒ کے اس مطالبے کی گونج ہندوستان کے قریہ قریہ میں پھیل گئی، بلکہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کی آواز بن گئی۔

1934 کے بعد علامہؒ کی طبیعت خراب رہنے لگی مگر انہوں نے ادبی مشاغل اور قومی خدمات کا سلسلہ ترک نہیں کیا۔ قائد اعظم مسلم لیگ کے اندرونی انتشار سے برگشتہ ہو کر 1930 میں لندن منتقل ہو گئے تھے۔ علامہؒ نے انہیں ہندوستان واپس آنے اور مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لیے پیغامات اور خطوط کا سلسلہ جاری رکھا۔ قائد اعظم بھی علامہؒ کی خدمات اور ان کی سیاسی بصیرت کے قائل تھے لہذا وہ 1934 میں وطن واپس آ گئے اور انہیں مسلم لیگ کا تاحیات صدر منتخب کر لیا گیا۔

اس کے بعد بھی علامہ ؒ نے قائد اعظم کے ساتھ دست تعاون دراز رکھا۔ یوں دو عظیم رہنماؤں جنھیں اللہ نے اس عظیم کام کے لیے منتخب کیا تھا، کی سرکردگی میں یہ تحریک آگے بڑھتی گئی۔ علامہ 21 اپریل 1938 کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا اللہ و انا الیہ راجعون۔ اس کے دو برس بعد مارچ 1940 ء میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ اسی شام قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا۔ ”آج اقبال زندہ ہوتے تو کتنے خوش ہوتے کہ ہم نے وہی قدم اٹھایا ہے جو وہ چاہتے تھے“ ۔ ادھر آسمانوں پر روح اقبالؒ مسکرا رہی تھی۔

مدتوں کرتی ہے گردش جستجو میں کائنات
تب کہیں ملتا ہے ایسا محرم راز حیات ( علی اختر)
(مضمون نگار سے اس ای میل پر رابطہ ہو سکتا ہے

Facebook Comments HS