اقلیت کا دن یا سب کا دن


پاکستان اجتماعیت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ نسلی، لسانی، علاقائی اور مذہبی تنوع اس کی خوبصورتی ہے۔ پاکستان میں پنجابی، بلوچ، سندھی، پختون اور مہاجر پانچ بڑی ایتھنو۔ ریجنل کمیونیٹیز ہیں اور چھوٹی کمیونٹیز اس کے علاوہ ہیں۔ مذہبی اقلیتوں میں مسیحی، ہندو، کیلاشا، پارسی، اور سکھ نمایاں ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ تحریک پاکستان کی بنیاد مسلم ریاست کا قیام تھا۔ پاکستان کے قیام کے چند نمایاں اغراض و مقاصد میں اسلامی ریاست کے قیام کی خواہش، اسلامی معاشرے کا قیام، مسلم تہذیب و ثقافت کی ترقی، مسلمانوں کی آزادی، مسلمانوں کی معاشی بہتری، اسلام کا قلعہ بنانا، انگریزوں سے نجات، ہندوں کے تعصب سے نجات وغیرہ شامل تھے۔ لیکن ایک بحث آج تک جاری ہے کہ ہے کہ قائداعظم پاکستان کو مذہبی ریاست بنانا چاہتے تھے یا نہیں۔ 1946 کے ایک انٹرویو میں قائد نے یہ واضح کیا تھا کہ وہ پاکستان کو تھیوکریسی نہیں بنانا چاہتے۔ 11 اگست کی تقریر بھی کسی حد تک اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں قائد نے کہا تھا کا ”مذہب ذاتی معاملہ ہے، ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔“

مگر قائد کے نظریہ پاکستان کے برعکس مذہبی اقلیتیں، مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملوں، سٹگماٹائزیشن، نفسیاتی اور سماجی عدم تحفظ کا شکار رہی ہیں۔ اقلیت کا دن مقرر کرنے کے پیچھے بھی یہی عوامل کارفرما تھے کہ قائد کی 11 اگست کی تقریر کے تناظر میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے اور قائد کے اس نظریہ پاکستان کو زندہ رکھا جائے جو ہر شہری کو مذہب، ذات، رنگ اور نسل سے بالا تر ہو کر مساوی حقوق دینے کا ضامن ہے۔ مگر سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اقلیتیں قائد کے نظریہ کی تکمیل کے انتظار میں ہیں۔

پورے ملک میں 11 اگست کو تمام مذہبی اقلیتیں، اقلیت کا دن بڑے جوش و خروش سے مناتی ہیں۔ سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی کی جانب سے ریلیز، سیمینار اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے، سوشل میڈیا پر پیغامات کی بھرمار ہوتی ہے۔ اس دن پر ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آتے ہیں۔ کچھ سالوں پہلے کچھ اقلیتی حلقوں نے احتجاج کے طور پر اقلیت کے قومی دن کو سیاہ دن کے طور پر بھی منایا، مگر اقلیتی رہنماٰوں اور کمیونٹی نے اس امر کی مذمت کی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ اقلیت کا دن پاکستان کی تشکیل اور تعمیر و ترقی میں اقلیت کی محنت اور قربانیوں کو سراہنے کا دن ہے۔ مگر نا چاہتے ہوئے بھی اقلیت کا دن، اقلیت کی طرف سے احتجاج میں تبدیل ہو جاتا ہے جس میں توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال، اقلیتی لڑکیوں کی جبری مذہب کی تبدیلی اور شادیاں، امتیازی قوانین، عبادت گاہوں پر حملے اور اقلیتی کمیونیٹیز پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جاتا ہے۔

حکومت اور سماج کی طرف سے اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کو صرف مذہب کی عینک سے دیکھنے کی بجائے کچھ دوسرے عوامل بشمول تاریخی، سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی پہلووں کا تجزیہ کرنا بھی بہت ضروری ہے ورنہ اقلیتیں نفرت، احساس کمتری اور نظرانداز ہونے کے احساسات کے ساتھ کبھی بھی ملکی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل نہیں ہو پائیں گی۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے سیاسی اور معاشرتی تعلیم و تربیت کی کمی رہی ہے۔

ایک مخصوص طبقے نے اپنے مفادات کی خاطر نظریہ قائد کو مسخ کیا۔ اقلیت کا قومی دن مختص کرنے کے پیچھے قائداعظم کی 11 اگست 1947 کی وہ تقریر ہے جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے آرکائیؤ میں تقریر کی ریکارڈنگ ہی موجود نہیں ہے۔ اسی وجہ سے بیشتر حلقے قائد کا قول ”مذہب ذاتی معاملہ ہے، ریاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں“ کو نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ ایسا قائد نے کبھی نہیں کہا۔ آج تک کسی بھی حکومت نے یہ جرآت نہیں کی کہ قائد کی 11 اگست والی تقریر کو نصاب کا حصہ بنا سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جن میں سینٹر فار سوشل جسٹس قابل ذکر ہیں سالوں سے کوشش کر رہی ہیں کہ قائد کی تقریر نصاب کا حصہ بن سکے مگر نمایاں مذہبی جماعتیں اس کی مخالفت کرتی آئی ہیں۔

یہ بات بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت غیر مسلم جوگندر ناتھ منڈل اور ایس پی سنگھا بشمول ان کے دو ساتھیوں نے فیصلہ کن ووٹ کاسٹ کر کے قیام پاکستان کی حمایت کی جبکہ جماعت السلامی، خاکسار تحریک اور جمیعت علمائے ہند اس وقت قیام پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے۔ مگر قیام پاکستان کے بعد انہی جماعتوں کا نظریہ، قائد کے نظریے پر حاوی ہو گیا اور اب تک ہے۔ اس لیے اقلیت کا قومی دن منانا اس بحث کا تواتر تو ہو سکتا ہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک تھیوکریسی دیکھنا چاہتے تھے یا ایک سیکولر سٹیٹ مگر ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک آئین جن ترامیم سے گزر کر جس موجودہ شکل میں موجود ہے وہاں سے واپسی ناممکن معلوم ہوتی ہے۔

قائداعظم کے نظریہ پاکستان کو پہلا دھچکا 1953 میں تب لگا تھا جب احمدی مخالف تحریک کے دوران پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان کی قیام پاکستان کے لیے نمایاں خدمات کے باوجود ان سے مذہب کی بنیاد پر استعفی کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ ظفراللہ خان احمدی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ بھٹو دور میں آئینی ترمیم کے ذریعے احمدیوں کو باقاعدہ غیر مسلم قرار دیا گیا۔ اس کے بعد 1970 سے 1980 کے دوران ضیاء اور بھٹو کی بدولت تھیوکریسی مائنڈ سیٹ کو عروج ملا۔

اقلیتوں کی مساوی حقوق کی جدوجہد آسان نہیں اور یہ اپنی تمام تر کمی کمزوریوں کے باوجود روز بروز آگے بڑھتی جا رہی ہے۔ مگر یہ بات بھی ایک حقیقت ہے کہ اقلیتی کمیونٹی عدم رہنمائی کا شکار ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سے اقلیتیں سیاسی طور پر کبھی بھی مضبوط نہیں ہو پائیں۔ جداگانہ انتخابات اور مخلوط انتخابات کی کشمکش میں کوئی نمایاں سیاسی رہنما سامنے نہیں آ سکا۔ اور اقلیتی سیاسی قیادت کا حال یہ ہے کہ وہ آج تک یہ طے نہیں کر پائی کی ان کے لیے مخلوط انتخابات بہتر ہیں یا جداگانہ؟

11 اگست کو کئی سیاسی نمائندے اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں مگر ہم سب جانتے ہیں کہ وہ اقلیت کے منتخب نمائندے نہیں، وہ کس طرح اپنی پارٹی کے بیانیے کے خلاف جاتے ہوئے، قائد کے 11 اگست والے نظریے کا دفاع کر سکتے ہیں جو کہ مسخ ہو چکا ہے۔ جہاں ایک چھوٹا سا تنگ نظر اور مذہبی جنونی طبقہ جسے بلا شبہ عوامی حمایت بھی حاصل ہے آئین کو نظرانداز کرتے ہوئے جمہوری نظریات، مساوات، انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کی فاتحہ پڑھتا رہتا ہے وہاں اقلیتی سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی آواز کوئی خاص اثرات مرتب نہیں کر پاتی۔

میری ذاتی رائے کے مطابق اقلیت کا دن مختص کرنے کے پیچھے یہ عوامل کارفرما نہیں تھے کہ اقلیتیں اس دن کو صرف احتجاج سے منسلک کر دیں۔ یہ دن صرف اقلیت کا دن بن کر رہ گیا ہے جبکہ یہ ایک قومی دن ہے جس میں حکومتی سطح پر اقلیتوں کے پاکستان کی تشکیل اور ترقی میں کردار کو سراہا جاتا ہے اور اور اس عہد کی تجدید کی جاتی ہے کہ اقلیتیں پاکستان میں برابر کی شہری ہیں۔ ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ جب کاوش مساوی حقوق کی ہے تو لفظ اقلیت بذات خود اس کاوش کی نفی کرتا ہے۔

اور اقلیت کا دن مختص کرنا سٹیریو ٹائپنگ کو جنم دیتا ہے اور پہلے سے ایکسکلوڈڈ اقلیتی (آبادی کے لحاظ سے ) طبقے پر احساس کمتری کا بوجھ بڑھاتا ہے۔ اقلیتی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ اقلیت کا لفظ استعمال بھی کرنا چاہیے یا نہیں۔ اقلیت کے قومی دن پر یوں لگتا ہے جیسے اقلیت، اکثریت سے اپنے حقوق مانگ رہی ہے، جب حقوق مانگنے والوں کا رویہ ایسا ہے تو مساوی حقوق کی جدوجہد مبہم سی لگتی ہے مگر ہم اپنے آپ کو علیحدہ رکھنا چاہتے ہیں یا ہمارے ذہنوں میں یہ ڈالا جاتا ہے کہ ہم علیحدہ طبقہ ہیں جو آبادی کے لحاظ سے اکثریتی طبقے کے رحم و کرم پر ہے۔

یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ 1970 اور 1980 کی دہائی قائد کے نظریے کی نفی کرتے ہوئے اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے چکی ہے۔ جس طرح 11 اگست کی تقریر کے تناظر میں قائد کے پاکستان کا نظریہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مبہم ہوتا گیا، اسی طرح پاکستانی مذہبی اقلیتوں کی جدوجہد بھی یوں ابہام کا شکار ہے کہ یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ پاکستانی اقلیتیں قائد کی 11 اگست کی تقریر سے کیا مطلب اخذ کرتی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں۔

اگر مذہبی اقلیت یہ چاہتی ہے کہ پاکستان ایک سیکولر سٹیٹ بنے تو یہ خواب تو ہو سکتا ہے مگر جدوجہد کا ہدف نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور مذہبی ریاست کا نظریہ اور بیانیہ ہماری قومی سیاست کا مرکزی حصہ ہے۔ 90 فیصد سے زیادہ مسلم آبادی تحریک آزادی اور تقسیم ہند کے وقت سے ہی ہندو اور انگریز سے نفرت کسی نا کسی صورت میں ہمارے معاشرے میں زندہ رہی ہے اور ہمارا نصاب، میڈیا اور لٹریچر اس نفرت اور تعصب کو جلا بخشتے آئے ہیں۔

مسیحیوں کو آج تک انگریزوں سے جوڑا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں اگر کچھ اسلام مخالف واقعہ ہو تو اس کا اثر پاکستانی مسیحیوں پر پڑتا ہے اور بھارت میں کچھ ایسا ہو تو پاکستان میں ہندو مقامی مسلم آبادی کے عتاب کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ یہ ایک سماجی مسئلہ ہے حکومت اس رویے کی سرپرستی نہیں کرتی۔

بحیثیت قوم ہم اس حقیقت سے نظریں نہیں چرا سکتے کہ مذہبی اقلیتیں معاشرتی، سیاسی اور معاشی لحاظ سے امتیازی سلوک اور متعصبانہ رویوں کا شکار ہیں۔ مگر ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ پاکستان پچھلی کئی دہائیوں سے متواتر سیاسی اور معاشرتی تجربات سے گزر رہا ہے۔ اقلیتوں کے خلاف تعصب، نفرت اور استحصال کی بڑی وجہ مذہبی تفریق ضرور ہے مگر اقلیتوں کی محرومیوں کو صرف مذہب سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ جمہوریت کا ٹوٹتا اور بحال ہوتا تسلسل، ملک کا دولخت ہو جانا، مارشل لاء کے ادوار، بھارت سے جنگیں، افغان جنگ کے محرکات اور نتائج، مذہبی اور سیاسی شدت پسند جماعتوں اور گروہوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور اثر و رسوخ، بھٹو اور ضیاء دور میں متعارف کردہ آئین، کسی حد تک متعصبانہ میڈیا اور قومی نصاب جیسے عوامل معاشرتی اور مذہبی ہم آہنگی پراثر انداز ہوتے آئے ہیں۔

مگر حالات کو صرف مظلومیت اور محرومی کے زاویے سے نہیں دیکھنا چاہیے ورنہ آپ کو اپنے اردگرد سب کچھ ظالم ہی دکھائی دے گا۔ کسی بھی جدوجہد کا نتیجہ کسی فوری حل کی صورت میں نہیں نکلتا بلکہ یہ ایک ارتقائی عمل کا نام ہے اور جدوجہد میں ہر قدم ہر تدبیر چاہے وہ ناکام ہی کیوں نا ہو معنی رکھتی ہے۔ پاکستان ماضی میں بنسبت موجودہ حالات کے زیادہ تنگ نظری اور شدت پسندی کا شکار رہا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ ہمارے ملک میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملا ہے اور ملتا رہے گا۔ میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر ایک مخصوص تنگ نظر اور شدت پسند طبقے کا ردعمل اجاگر کیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں عوام کی اکثریت اپنے معاشی مسائل کا حل چاہتی ہے نا کہ ایک مخصوص طبقے کے نظریات کا تحفظ۔

ایسا نہیں کہ سب اچھا ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ سب برا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے لیے جو قوانین پہلے نہیں تھے وہ آج ہیں، جو آواز اقلیتوں کے حق میں پہلے سنائی نہیں دیتی تھی، اب وہ سنائی دیتی ہے۔ سب سے بڑی اور زندہ مثال چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا وہ فیصلہ ہے جو انہوں نے ملک میں غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 19 جون 2014 کو رقم کیا تھا۔ اس فیصلے کے سات مندرجہ ذیل نقاط ہیں :

1۔ مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے وفاقی سطح پر ایک ٹیم تشکیل دیں۔

2۔ پرائمری، سیکنڈری اور تیسری سطح کی تعلیم کے لیے مناسب نصاب تیار کریں جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دے۔

3۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کو روکیں۔
4۔ اقلیتوں کے لیے قومی کونسل بنائیں۔
5۔ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے خصوصی پولیس فورس قائم کریں۔
6۔ سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد اقلیتی کوٹہ نافذ کریں۔

7۔ جب بھی مذہبی اقلیتوں کے آئینی حقوق پامال ہوتے ہیں یا ان کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کی جاتی ہے، فوجداری مقدمے کے اندراج سمیت فوری کارروائی کریں۔

بدقسمتی سے جسٹس جیلانی کے تاریخ ساز فیصلے کی تعمیل نہیں ہو سکی۔ اگر حکومتی ذمہ دار ادارے جسٹس جیلانی کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے تو نا صرف اقلیتیں معاشی اور سماجی طور پر بہتری کی منازل طہ کرتیں بلکہ پاکستان کا عالمی سطح پر وقار بھی بڑھتا۔

حکومتی اور سماجی سطح پر اقلیتوں سے امتیازی سلوک کے خلاف 11 اگست کو احتجاج ضروری ہے اور ذمہ دار اداروں کو ان کی ذمہ داریاں بھی یاد کرانا انتہائی اہم ہے کہ وہ حکومتی پالیسیوں اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرا سکیں۔ مگر اس سے بھی زیادہ ضروری اقلیتی سیاسی اور مذہبی لیڈرشپ کا اتحاد اور مذہبی سیاست سے آگے نکل کر قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانا ہے۔

بطور اقلیت ہمیں ان حکومتی اقدامات کو بھی سراہنا چاہیے جو تمام شہریوں کے تحفظ اور ترقی کے لیے اٹھائے جاتے ہیں۔ ہماری اپنی بھی کئی کوتاہیاں ہیں ہم سارا الزام حکومتی اداروں یا پالیسیوں پر نہیں ڈال سکتے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ تعلیم اور روزگار کا کوٹہ تو موجود ہے مگر اقلیتی نوجوان اپنی کم تعلیم اور استعداد کی وجہ سے اس کوٹے کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے اور یونیورسٹیوں اور اداروں میں سینکڑوں اقلیت کے لیے مختص نشستیں خالی پڑی رہتی ہیں۔ اقلیتی رہنماء اپنے نوجوانوں کی مناسب رہنمائی اور تربیت نہیں کر پا رہے کیونکہ سلیکٹڈ ہونے کی وجہ سے ان کا رشتہ کمیونٹی سے زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ اقلیتی سیاسی اور مذہبی رہنماء عوام اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

اقلیت کے ساتھ امتیازی سلوک ایک قومی مسلے سے زیادہ سماجی مسئلہ ہے جس کی بنیادی وجہ تعلیم اور تربیت کی کمی ہے۔ اقلیت کے بارے بہت سی غلط فہمیاں اور سٹیریو ٹائیپنگ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کا خاتمہ اور غلط استعمال کسی قانون اور پالیسی کے تحت نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے آگہی مہم کے ذریعے کمیونٹی کی تربیت ضروری ہے۔

بحیثیت اقلیت ہمیں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پوری قوم ایک جیسے مسائل کا شکار ہے۔ دہشت گردی کے واقعات سے ہم سب متاثر ہوتے ہیں، مہنگائی سب کے لیے بڑھ رہی ہے، روزگار سب کے لیے کم ہو رہا ہے، توہین مذہب کا غلط استعمال صرف اقلیت کے خلاف ہی نہیں، شدت پسندوں کے حملوں سے مساجد بھی محفوظ نہیں۔ ملک کے نوجوان جو کل آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ہیں، اگر وہ معاشی اور نفسیاتی طور پر پریشان ہیں تو اس میں اکثریت اور اقلیت کا امتیاز نہیں، مشکلات سب کی یکساں ہیں لیکن قابل غور نقطہ یہ ہے کہ مواقع سب کے پاس یکساں نہیں۔

حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے یکساں مواقع فراہم کریں، قانون سازی یا پالیسیاں بنانے سے زیادہ ضروری بغیر تاخیر کے قوانین اور پالیسیوں پر عملدرآمد ہے۔ سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومتی سطح پر ایسے رویوں اور گروہوں کی دل شکنی کرنے کی ضرورت ہے جو سماجی اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اقلیتی کمیونٹی اور قیادت کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ یہ تجزیہ کر سکیں کہ ان کی اپنی کیا کمیاں اور کوتاہیاں ہیں۔

قوموں کی تاریخ میں اتار چڑھاو آتے ہیں، پاکستان بھی پوری دنیا کی طرح بہت سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے لیکن ہم سب کو مل کر اپنے ملک کو سنوارنا ہے، کیونکہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔

Facebook Comments HS