نور مقدم قتل اور بھیانک سچ


نور مقدم کو بے رحمی سے قتل ہوئے کئی روز گزر گئے لیکن خلاف معمول اب بھی اس قتل کا ارتعاش ہمارے سماج میڈیا اور بحثوں میں موجود ہے۔ اس کی شاید واحد وجہ ہر دو جانب کے خاندانوں کا ہماری اشرافیہ سے متعلق ہونا ہے۔ یہ نہیں معلوم کہ نور مقدم کیس کی خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی۔ اس قتل نے پاکستان میں ایک نظریاتی بحث بھی چھیڑ رکھی ہے۔ ایک سمت کے دلائل قاتل کے ساتھ مقتولہ کو بھی زیر بحث لاتے ہیں تو دوسری جانب اسے وکٹم بلیمنگ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کسی کی نزدیک نور مقدم مشعل راہ ہے تو کسی کے نزدیک وہ بھی قابل گرفت۔ اس ساری بحث میں بہرحال میرے مشاہدے کے مطابق جو اہم پہلو نظرانداز ہو رہا ہے وہ ہے ایسے واقعات کا تدارک۔

بدقسمتی سے یہ قتل بھی نظریاتی بحث کا اکھاڑہ ہی بن کر رہ گیا کسی کو بظاہر سنجیدگی سے سروکار نہیں کہ ایسے قتل روکنے کو انتظامی طور پر کیا اصلاحات لازم ہے۔ ہر جانب سے بس اتنا ہی کہا جا رہا ہے کہ تمام سماج کو ہمارے نظریات میں ڈھال دو اور بس۔ حالانکہ جرم کو روکنے کے لیے ریاست کو خالصتاً تکنیکی اقدامات کرنے ہوتے ہیں لیکن ہماری جانب سے ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں تو اقدامات کہاں سے ہوں گے؟ میں یہاں صرف ایک پہلو پر بات کروں گا۔

کہا جا رہا ہے کہ جب نور مقدم قتل ہو رہی تھی تو اس کی چیخیں گھر کے ملازمین خانساماں وغیرہ سن رہے تھے اگر وہ بروقت پولیس کو اطلاع دے دیتے تو بھی یہ قتل رک سکتا تھا۔ اس وجہ سے انہیں بھی مجرم گردانا جا رہا ہے۔ ہم میں سے اکثر نے یہ روداد پڑھی ہو گی اور پھر تائید بھی کر دی ہو گی۔ لیکن ذرا رکیے کیا یہ بات پاکستان میں اس قدر ہی سادہ ہے؟

کہ ایک ارب پتی مالک کے کمرے سے آتی چیخوں کی آواز سن کر ایک ملازم ون فائیو پر کال ملاتا چند سیکنڈ میں پولیس کے کمانڈوز گھر کے گرد گھیرا ڈال لیتے اور پھر جدید ترین ٹیکنالوجی اور تربیت کا استعمال کر کے مغوی کو بازیاب کروا لیا جاتا۔

کاش ایسا ہوتا لیکن ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اگر ایک معمولی گھریلو ملازم اپنی تمام تر نوکری اور مالی مفادات بالائے طاق رکھ کر کال ملا بھی دیتا تو اس کا انجام کیا ہوتا۔ ایڑیاں رگڑ کر ملی نوکری سے ہاتھ تو دھونا ہی پڑتے دوسری صورت میں بھی تھانے کچہریوں کے چکر کاٹتے اور پھر اربوں پتی مالک کے غیض و غضب کا نشانہ الگ بننا پڑتا۔

ہو سکتا ہے بہت سے قاری یہیں پر میرے تجزیے سے تلملا اٹھے ہوں۔ تو بصد احترام عرض ہے دوسروں کا کیا کہنا میں ایک سے زیادہ بار اس تلخ تجربے سے گزر چکا ہوں ایک بار جب میں لاہور ابھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا تو راولپنڈی میں ایک موٹر سائیکل سے گرے نوجوان کو جنرل ہسپتال پہنچایا بعد ازاں معلوم ہوا کہ یہ کسی تیز رفتار ویگن کی ٹکر سے گرا تھا۔ نوجوان کے گھر والوں نے ویگن ڈرائیور پر مقدمہ درج کروا دیا۔ اس قضیئے میں مجھے کئی بار تھانے اور ایک بار اپنا امتحان چھوڑ کر کچہری بھی آنا پڑا۔

اور سنئیے دو سال قبل میری والدہ کی طبیعت شدید ناساز تھی بمشکل نیند آئی ایک گلی پیچھے شادی کی تقریب میں اونچی آواز میں میوزک اور ہوائی فائرنگ سے تنگ آ کر ون فائیو پر کال کر دی۔ پولیس پہنچنے پر بھی ہوائی فائرنگ جاری تھی ہونا تو یہ چاہیے تھا ایک ذمہ دار شہری کے طور اطلاع دینے پر پولیس میرا شکریہ ادا کرتی اور باقی کارروائی خود سنبھالتی۔ لیکن دو دن پولیس کی مختلف ضابطے کی کارروائیوں میں مجھے بھی شامل ہونا پڑا۔

دوبارہ نور مقدم کیس کی جانب آتے ہیں پاکستان میں پولیس کے پیچیدہ نظام میں یہ کہنا تو بہت آسان ہے کہ گھر کے ملازمین پولیس کو بروقت اطلاع کر دیتے تو نور مقدم کی زندگی بچ سکتی تھی لیکن ایک انتہائی با رسوخ خاندان کے معمولی ملازم کے طور پر تو آپ اتنی بڑی گستاخی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ جب خاندان کی انسانیت اس قتل کے سارے عمل میں بدترین درندگی کو بھی لرزا رہی ہے۔

دنیا بھر میں ایسے واقعات ہی نئی اصلاحات کی بنیاد بنتے ہیں جیسے کہ امریکہ میں امبر الرٹ، میری رائے میں پاکستان میں ون فائیو پر کی جانے والی تمام کالز کو انانومٹی یعنی خفیہ رکھا جائے کسی بھی وقوعے کے اطلاع دہندہ کی شناخت تک پولیس کی براہ راست رسائی کو مسدود کیا جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اطلاع دہندہ کے کوائف تک رسائی کو غلط اطلاع اور اعلی عدلیہ کے حکم سے مشروط کیا جائے۔ پاکستان میں جرائم کی شرح انتہائی بلند ہونے اور بدقسمتی سے پولیس پر عدم اعتماد کی عمومی رائے کی وجہ سے بہت سے لوگ اپنی جان کے خوف سے جرم کی اطلاع دینے سے ہچکچاتے ہیں ایسی یقین دہانی کی صورت میں جرائم کی بروقت اطلاع بھی ممکن ہو سکے گی۔

اور شاید پھر کوئی اور نور مقدم کسی معمولی ملازم کی بروقت اطلاع کے باعث اس بھیانک انجام سے بچ جائے۔

Facebook Comments HS