74 واں سوال
ہمارا وطن پاکستان وہ وطن نہیں جو وراثت میں اس کے بسنے والوں کو ملا۔ پاکستان کی بنیادیں استوار کرنے کے لئے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا۔ اتنی گراں قدر تخلیق کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے تعمیر پاکستان میں تن، من دھن، بیوی، بچے، بہن، بھائی، عزیر و اقارب اور اپنے پیارے قربان کیے۔ حصول پاکستان کے لئے لا کھوں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ کتنی ماؤں کے سامنے ان کے بچے قتل کر دئے گئے۔ کتنے بے بسوں کے سامنے ان کے خاندان کو مکانوں میں بند کر کے نذر آتش کر دیا گیا، کتنی پاک دامنوں نے نہروں اور کنوؤں میں ڈوب کر پاکستان کی قیمت ادا کی، بے شمار بچے یتیم ہوئے، بے بسی، بے چارگی، یتیمی اور بیوگی کی ایسی ایسی دل خراش داستانیں کہ بیان کرتے کرتے خود تاریخ گنگ ہو جائے۔
اس مملکت خداداد کی وادیاں اپنے اندر فردوس کی رعنائیاں لئے ہوئے ہیں، ہرے بھرے اور وسیع و عریض کھیت سونا اگل رہے ہیں۔ ہر قسم کی آزادی اور سامان آسائش و آرائش مہیا ہے مگر یہ کبھی نہ بھولیں کہ اس میں سلطان ٹیپو کا خون، سرسید کی نگاہ دور بین، اقبال کے افکار، قائد اعظم کی جہد مسلسل اور دوسرے اکابرین کا ایثار بھی شامل ہے اور ان کا ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا۔
ایک آزاد اور خود مختار اسلامی مملکت کا حصول۔
چودہ اگست وہ مبارک دن تھا جب مسلمانوں کے عظیم رہنما قائد اعظم کے خلوص کی وجہ سے یہ عظیم سلطنت وجود میں آئی۔ لیکن آج ہم نے اپنی آزادی کی قدر کھودی۔
کیا یہی جدوجہد آزادی کا مقصد تھا؟
کیا ہم نے فراموش کر دیا کہ بغل میں چھری منہ میں رام رام کن کے بارے میں کہا گیا؟
کیا یہی دو قومی نظریہ تھا؟
کیا یہ تلخ حقیقت نہیں کہ ہمارا معاشرہ زوال اور انحطاط کی گہرائیوں میں گرا جا رہا ہے۔
ہر کوئی چاہتا ہے سب کچھ ٹھیک ہونا چاہیے۔
مگر کیسے؟
بے عملی کا حال یہ ہے کہ ہر ایک کا خیال ہے کہ۔ میں پہل کیوں کروں؟
دوسرے ٹھیک ہوجائیں گے تو میں بھی خود کو درست کرلوں گا۔
بس یہی ہے اصلاح اور درستی حالات کی راہ کا بھاری پتھر۔
جب کہ اچھائی، اصلاح، سدھار اور درستی حالات کی صحیح اور کامیاب ترتیب اس کے برعکس ہے کہ۔
میں خود کو ٹھیک کرلوں، اچھائی کا آغاز اپنی ذات اور اپنے گھر سے کردوں، معاشرے میں خیر کا پہلا پھول میں کھلا دوں
لیکن
ہم نے نظریہ پاکستان فراموش کر دیا، بے مثال اور لازوال قربانیوں کو بھلا دیا؟
نظریہ سے پسپائی ہماری رسوائی سے کسی طور کم نہیں۔
ہے کوئی جو حکمرانوں کو بتائے کہ معاشی لحاظ سے پاکستان دیوالیہ ہونے کو ہے۔
ہے کوئی جو نام نہاد سردار ان قوم کو بتائے کہ ملک میں امن و امان ناپید ہو چکا اور معاشرہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی ہو بہ ہو تصویر بن چکا۔
ہے کوئی جو کرسی کے ان متوالوں کو بتائے کہ صوبائی اور مذہبی تعصب اس پاک سر زمین کی سڑکوں کو انسانی خون سے رنگین کر رہا ہے۔
ہے کوئی جو ان نادانوں کو بتائے کہ کنٹرول لائن پر کی جانے والی بھارتی جارحیت بلا سوچے سمجھے اور منصوبہ بندی کے بغیر نہیں۔
اور ہے کوئی جو ان کو بتائے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔
مسائل و آلام اور مصائب میں گھری قوم کے ناخداؤں!
خواب خرگوش سے اٹھو کہ آسمان گرنے والا ہے
سوال یہ ہے کہ یہ عوامی سیاست اور جمہوریت کے ٹھیکیدار حکمران جاگ کیوں نہیں رہے۔
ایک اللہ ایک رسول اور ایک قرآن کے نام پر پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے والوں نے اسلام پھیلانے کے بجائے اسلام کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔
ملک کی تمام دولت چند خاندانوں کی لونڈی بن گئی، یہی خاندان قیام پاکستان سے آج تک کسی نہ کسی طور حکمران ہیں۔ غریب پس کر رہ گیا، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی۔
امیر کا پاکستان اور ہے غریب کا پاکستان اور۔
افسر کا پاکستان اور ہے کلرک کا پاکستان اور۔ امیر کے بچوں کا نظام تعلیم اور ہے، غریب کے بچے کا نظام تعلیم اور۔
غریب پچاس سال محنت کے باوجود بھی اپنا دو مرلے کا مکان بنانے میں ناکام اور سرمایہ داروں کی ہر صوبے میں الگ الگ عظیم الشان محل۔
غریب محنت کرتا ہے اور اس کی محنت کا پھل سرمایہ دار کھا جاتا ہے۔
ہماری صفوں میں آج بھی کئی میر قاسم اور میر جعفر موجود ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر ملکی سلامتی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ سیاسی نعرے اور وعدے ہیں کہ جنہیں سن سن کر کان پک گئے۔
بہلاوے ہی بہلاوے، دکھاوے ہی دکھاوے۔
افسوس کہ ہم مسلمانان پاکستان نے اپنے عظیم قائد کی تلقین کے باوجود اپنی قیادت اور کروڑوں مسلمانوں سے کیے عہد سے بد عہدی کی، قومیتوں کا پرچار شروع کر دیا۔ سندھی، پنجابی بلوچی پٹھان اور مہاجر کو اپنی پہچان قرار دے دیا۔ بانی پاکستان قائد اعظم اپنی ذات میں ایک تاریخ تھے، آپ نے ہمیں اخوت محبت امن بھائی چارے اور نظم و ضبط کا درس دیا لیکن شومئی قسمت ہم ان کا درس بھلا چکے اور سوائے ندامت کے ہمارے دامن میں کچھ بھی نہیں۔ کچھ بھی تو نہیں۔
قائد ترے وطن کے کیا حال ہو گئے
کچھ لوگ خواہشات کے دلال ہو گئے۔


