امریکی اور طالبان: ایک نئی پارٹنرشپ

ایک دفعہ پھر پانچ ہزار امریکی فوج اپنے سفارتی عملہ کو نکالنے کیلئے واپس آئی ہے، اگر امریکی فوج نے واپس ہی آنا تھا تو پھر یہ فوج افغانستان سے گئی کیوں تھی؟ یہ واپس آنے والے امریکی فوجی دستے افغانستان سے نکلنے والے آخری دستے بھی تو ہو سکتے تھے جو نکلتے نکلتے اپنے ساتھ اپنا سفارتی عملہ بھی بحفاظت نکال لے جاتا؟ ان سوالات کے جوابات میں افغان صورتحال کے معمے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

ان سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب ہوں کہ افغانستان فتح نہیں ہوا بلکہ انتقال اقتدار کیلئے حالات سازگار بنائے گئے با الفاظ دیگر امریکہ طالبان کو افغان حکومت میں ان کا ‘جائز حصہ’ دلانا چاہتا ہے۔

امریکہ کی خواہش تھی کہ وہ افغانستان میں لمبی مدت تک موجود رہے اور علاقے کے تبدیل ہوتے ہوئے معاملات میں مداخلت کا حق کسی نہ کسی طرح حاصل کرے کیونکہ افغانستان کے ہمسایہ میں ابھرتی ہوئی اقتصادی اور فوجی قوت چین، جو پاکستان کے راستے مڈل ایسٹ اور مغربی دنیا تک بلا روک ٹوک اور مختصر ترین راستہ اپنا رہا ہے اس پر نظر رکھنا ہے تو دوسری طرف امریکہ کا پرانا حریف روس ہے جس نے شام کی لڑائی میں امریکہ اور مغرب کے منصوبے پورے نہیں ہونے دیئے تو ساتھ ساتھ ترکی کو ناٹو کے اتحادی ہونے کے باوجود میزائل بیچ کر تاریخی تلخیوں کے باوجود ساتھی بنانے میں کامیاب ہوتا نظر آرہا ہے۔ ساتھ ایران ہے جس پر نظر رکھنے اور دباؤ میں رکھنے کیلئے سہولت ہوگی۔ دوسری طرف پاکستان ہے جس کو چینی کیمپ میں جانے سے روکنے کیلئے جب چاہے گا افغان حکومت، پختون الٹرا نیشنلسٹ، بلوچ علیحدگی پسندوں اور بھارت کے ذریعے دباؤ میں رکھے گا۔ ان سب مقاصد کے حصول کیلئے امریکہ کو افغانستان میں ایک پرامن اور دوستانہ سیاسی حکومتی ماحول کی ضرورت ہے جس کیلئے امریکہ نے اربوں ڈالر کے علاوہ اپنا خون پسینہ بہایا لیکن طالبان کی مخالفت کی وجہ سے مذکورہ مقاصد حاصل نہیں کرسکا تو طالبان کو ساتھ ملا کر ان مقاصد کے حصول کیلئے نیا راستہ اختیار کیا۔

 آج سے دس پندرہ سال پہلے جب بھی طالبان نے افغان حکومت یا امریکہ سے براہِ راست بات چیت کرنے کی کوشش کی مخالف قوتوں نے کسی نہ کسی طرح ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ آخر کار امریکی خواہش پر، پاکستان، طالبان مذاکرات کاروں کو دوحہ میں امریکی حکومت کے ساتھ بٹھانے میں کامیاب ہوا۔

یوں مذاکرات کے کئی دور ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کار استوار کئے گئے، ایک دوسرے کو ضمانتیں سہولتیں اور آگے بڑھنے کے مواقع دیئے گئے، جس کے نتیجے میں، اشرف غنی حکومت کی ناراضگی کے باوجود، ایک معاہدہ طے پا گیا جس کے تحت امریکی فوج کا انخلا ممکن ہوسکی۔ اگرچہ اس انخلاء کی شرائط کے بدلے میں ظہور پذیر ہونے والی صورتحال میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی سرپرستی میں بنائی گئی موجودہ افغان حکومت تھی، کیونکہ دوحہ مذاکرات میں طالبان نے امریکیوں کو کیا دیا ہے، وہ ابھی ہزار پردوں میں مستور ہے، لیکن امریکیوں نے یقیناً طالبان کو اشرف غنی کی حکومت جانے کی ضمانت دی ہے۔ جس کے نابود اور مختصر ہوتے ہوئے اقتدار پر ابھی تک کچھ حلقوں کو یقین نہیں آتا۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدے کی بہت ساری شقیں، لگتا ہے، ایسی ہیں، جس کے علاقائی صورتحال پر دور رس اثرات مرتب ہونگے، جن کو معاہدے کے منسلکات (انیکشرز) کہہ کر مدتوں سامنے نہیں لایا جائے گا۔

مذاکرات کے نتیجے میں ایک دوسرے کیلئے سازگار ماحول بنانے کیلئے نیک نیتی پر مبنی ایسے اقدامات کئے گئے جس سے طرفین کو مختلف سہولیات حاصل ہوئیں۔ ان اقدامات میں پہلا قدم امریکی فوج کے ایک حصے کا افغانستان سے واپسی تھی، جو امریکہ نے حسبِ ضرورت کر دکھایا۔ جس سے ایک طرف امریکہ کی نیک نیتی ظاہر ہوئی تو دوسری طرف طالبان نے اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے سامنے خود کو فاتح ثابت کرنے کی ظاہر کر کے معاہدے میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پایا۔ اس معاہدے میں ایک شق طالبان کو افغانستان میں موجود ایسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کے خلاف جنگی کارروائی کی پابند کرتی ہے جو مغرب اور امریکہ کے مفادات کے خلاف ہوں بالفاظ دیگر ایسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کے خلاف طالبان امریکی لاجسٹک اور انٹلیجنس سپورٹ کے ساتھ کاروائی کرنے کی پابند ہوئی جن کا ایجنڈا علاقائی ہونے کی بجائے بین الاقوامی ہو۔ طالبان نے ابھی تک اکا دکا جھڑپوں کے علاؤہ ایسا کچھ کیا ہو بظاہر نظر تو نہیں آرہا لیکن امریکہ نے اپنے انٹلیجنس ذرائع سے طالبان کی کوششوں سے ضرور آگاہی اور اطمینان حاصل کیا ہو گا۔

معاہدہ کے ایک جز کے مطابق امریکہ طالبان پر ایک مقررہ مدت تک نظر رکھتا، جس کے نتیجے میں مطمئن ہو کر امریکہ آگے کے اقدامات کرتا۔ نگرانی کے اس دورانیے کے دوران امریکہ کو جب محسوس ہوا کہ طالبان امریکہ کی مرضی کے مطابق عمل پیرا نہیں ہیں ان پر بمباریاں کی گئیں، اور ساتھ ساتھ افغان حکومت کو مالی اور فوجی امداد کے علاؤہ اشرف غنی کے حق میں سرکاری بیانات دیئے گئے، جس سے تاثر ملتا رہا گویا امریکیوں نے اشرف غنی حکومت کو چھوڑا نہیں، جبکہ درحقیقت اس دوران طالبان کو راہ راست پر لایا جا رہا تھا۔ امریکہ کی طالبان پر ایک دن بمباری دوسرے دن اشرف غنی حکومت کی امداد اور ساتھ دینے کے اعلانات اور پھر تیسرے دن یہ کہنا کہ افغان حکومت خود لڑے، ہم ساتھ نہیں دے سکتے، جیسی صورتحال کو باہر کی دنیا نے امریکی پالیسیوں کا کنفیوژن سمجھا جبکہ اس وقت وہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے طالبان کے ساتھ کیرٹ اینڈ سٹک کھیل رہا تھا۔

جونہی اس معاہدہ کے جزیات اور اس کے منسلکات پر فریقین کا سمجھوتا ہو گیا، اشرف غنی کی حکومت، دوپہر کے وقت، جون کے مہینے میں، ملتان کی سڑک پر، کسی بچے کے ہاتھ سے گرے ہوئے آئس کریم کی طرح ناقابل یقین مختصر وقت میں پگھلتے پگھلتے غائب ہونے لگی۔

طالبان کو امریکیوں کے ساتھ بٹھانے میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے بدلے میں امریکی کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کو انڈیا سے سہولیات دلانے کا وعدہ کر چکے تھے، جس کے بارے میں وزیراعظم صاحب نے ورلڈ کپ سے بڑے ورلڈ کی خوشخبری قوم کو امریکہ سے واپسی پر سنائی تھی، لیکن دوسری سرد جنگ میں امریکی کیمپ میں شمولیت اختیار نہ کرنے کی وجہ سے امریکہ نے نہ صرف پاکستان سے سرد مہری کا رویہ اختیار کیا بلکہ طالبان کا دفتر دوحہ میں قائم کر کے پاکستان کے اثرات کو طالبان پر مزید کم کردیا۔ یوں پاکستان ایک بنیادی کھلاڑی کی بجائے بارہویں کھلاڑی کی طرح باہر رکھ دیا گیا۔

اس لئے اب پاکستانی حکومت کو امریکہ سے یہ شکوہ ہے کہ طالبان آپ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بٹھانے کے باوجود آپ اپنی کوتاہیوں کا ملبہ ہم پر گرا رہے ہو۔

درحقیقت پاکستان کی موجودگی میں امریکہ طالبان کے ساتھ اپنے ملکی مفادات کیلئے آزادانہ اور اپنی مرضی کا معاہدہ کر نہیں سکتا تھا، کیونکہ پاکستان اور امریکہ کے مستقبل کے ترجیحات اور مفادات ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہیں۔ امریکہ چین کو اپنا آئندہ کا مخالف جبکہ پاکستان اسے اپنا مستقل دوست سمجھتا ہے۔ اس لئے پاکستان کو اصل شکوہ یہ ہے کہ ہمارے ذرائع سے طالبان کو رام کرا کر ہمیں مستقبل کے مذاکرات اور اس کے فوائد سے مکمل طور پر الگ کردیا گیا۔

اس دوران طالبان نے کچھ علاقے قبضہ کئے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ انکے خدشات دور کرنے کی کیلئے بات چیت کی۔ غنی حکومت طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں حصہ لے رہی تھی نہ امریکی معاہدے کے مطابق طالبان قیدیوں کو چھوڑ رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اس کی قیمت پر ہو رہے ہیں اس لئے اسے پارٹ آف دی سلوشن ماننے کی بجائے پارٹ آف دی پرابلم مانا گیا یعنی وہ حل کا حصہ بننے کی بجائے مسئلے کا حصہ بنا رہا۔ یوں کچھ وقت تک سردخانہ میں رکھ کر برداشت کیا گیا۔

افغان حکومت کی تحلیل ہوتی ہوئی اتھارٹی سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اب طالبان اور امریکیوں کے درمیان ایک قابلِ عمل معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے امریکی فوج طالبان کی مرضی سے واپس افغانستان آگئی ہے، جو اپنا عملہ نکال کر غنی حکومت کو احساس دلا رہی ہے کہ اب تم تنہا ہو، بہتر ہوگا دوحہ معاہدہ مان لو، جس کا مطلب ہے استعفیٰ دے کر ایک قابلِ قبول عبوری حکومت کیلئے راستہ ہموار کر دو، جس کی مخالفت کی صورت میں اغلب امکان ہے کہ وہ کسی رات آرگ (صدارتی محل) میں تنہا اپنی زندگی کی لڑائی کیلئے مجبور ہوکر سب کچھ ہار جائے گا۔

دوسری طرف سے کابل طالبان کے مکمل محاصرے میں ہے۔ سارے ملک اور خصوصاً کابل اور جلال آباد کو آمد و رفت اور ہر قسم کی سپلائی طالبان کی مرضی سے ممکن اور مشروط ہے۔ ایس حالت میں غنی حکومت کے پاس مذاکرات اور اس کے نتیجے میں حکومت چھوڑنے کے علاؤہ کوئی آپشن نہیں بچی۔ کیونکہ اس طرح وہ افغان فوج اور ریاستی مشینری تباہ ہونے سے بچا سکتا ہے، جس پر امریکہ نے اربوں ڈالر کا خرچہ کیا ہے اور اس کی خواہش ہوگی کہ اسے مستقبل میں استعمال کرنے کیلئے محفوظ رکھا جائے۔ اشرف غنی کی حوصلہ افزاء تقاریر سن کر مجھے صدام حسین یاد آتا ہے جو آخری وقت تک سرپرائز دینے کی باتیں کرتا تھا لیکن اس کی سرپرائز آخر میں واقعی سرپرائز تھی۔ کچھ لوگ اب بھی یہ شہادت دینے کیلئے موجود ہیں کہ جب اس نے آخری تقریر میں آخری سرپرائز کی بات کی تھی تو میرا تجزیہ یہ تھا کہ یہ بھاگ جائے گا یہی اس کی سرپرائز ہے۔ اشرف غنی کی حکومت اس وقت عبوری حکومت کی تشکیل پر مذاکرات میں مصروف ہے۔ اس لئے میں نے ابتداء میں لکھا کہ افغانستان میں کسی کا قبضہ ہوا ہے نہ فتح بلکہ ایک سیاسی بندوبست کے تحت انتقال اقتدار کا عمل وقوع پذیر ہو رہا ہے جو خوش آئند ہے۔

 اکثریتی افغان لوگ ذہنی طور پر طالبان کے بہت قریب ہیں۔ ان جیسا فیشن، ان جیسی متشدد سوچ، خود کو صحیح اور راستباز اور دوسرے فرقے کو مشکوک سمجھنا، عورتوں اور اقلیتوں کو جینے کا محدود حق، مخالف کو گردن زدنی سمجھنا اور طاقت اور طاقتور کا ساتھی بننا ایسی بری خصوصیات ہیں جس کی وجہ سے وہ جمہوریت اور جمہوری قدروں تک پہنچتے پہنچتے بہت سے کوہ سفید پیدل طے کریں گے تو کہیں جا کر پہنچیں گے۔

اس وقت طالبان، امریکی، افغان حکومت اور دوسری قوتوں اور بین الاقوامی اداروں کی توجہ، امن اور مصیبت میں مبتلا افغان عوام پر مرکوز ہونی چاہئے جو تیزی سے چھا جانے والے وسط ایشیا کے سرد ہوتے ہوئے موسم کی شدتوں کی زد میں ہیں۔ اگر موسمی حالات کے تبدیل ہونے تک افغان حکومت کا فیصلہ نہ ہو سکا تو افغانستان میں ایک بڑا افسوس ناک انسانی المیہ وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words