اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل اسلم بیگ کی دروغ گوئیاں

جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ ہماری تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں۔ جنرل صاحب کے کریڈٹ پر بلا شبہ سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر ضیاء الحق کے طیارہ حادثے کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو لوٹانے کا کارنامہ بہرطور جاتا ہے۔ جنرل صاحب اس وقت وائس چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور اگر وہ چاہتے تو اپنے آپ کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دے کر کر ملک کی عنانِ اقتدار سنبھال لیتے مگر انہوں نے اس سے گریز کیا۔ یہ ایک بہت شاندار کارنامہ تھا اور ملکی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ فوج نے اقتدار حاصل کرنے کی بجائے سویلین حکومت کو لوٹا دیا۔ جنرل صاحب ریٹائرمنٹ کے بعد بعد مختلف طریقوں سے سے خبروں کی زینت بنتے رہے اور اب حال ہی میں میں ان کی سوانح عمری اقتدار کی مجبوریاں کے نام سے ممتاز مصنف کرنل اشفاق حسین نے تحریر کی ہے۔

جنرل صاحب ہندوستانی صوبہ اتر پردیش کے شہر اعظم گڑھ سے متصل ایک قصبہ مسلم پٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک وکیل تھے۔ یہ آٹھ بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل گھرانہ تھا۔ جنرل صاحب کا بچپن اپنے قصبے کے سکول اور پھر شبلی کالج میں گزرا۔ ان کے مطابق کالج میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام انہی کے ہاتھوں سن 1945 میں عمل میں آیا اور انہوں نے تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تقسیم کے بعد جنرل صاحب کے والدین اور خود جنرل صاحب نے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے ایک بھائی پاکستان آرمی میں شمولیت کا ٹیسٹ، آئی ایس ایس بی، اپنے شہر اعظم گڑھ میں ہی امتحان دے کر پاس ہو کر پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کر گئے۔ جنرل صاحب سن 1949 میں پاکستان تشریف لائے اور آرمی میں شمولیت کے لیے لیے آئی ایس ایس بی کا امتحان دیا۔ یہ امر واضح رہے کہ ان کے والدین پھربھی ہندوستان میں ہی رہے۔ یہ عمل فہم سے بالاتر ہے کہ جس ملک کے لیے انہوں نے نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا، اس کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اس کا قیام جب عمل میں آیا تو جنرل صاحب نے پاکستان کی بجائے ہندوستان میں ہی رہنے کواس وقت تک ترجیح دی جب تک کہ ان کو ایک موقع میسر نہیں آ گیا۔ ان کے بڑے بھائی جو کہ پاکستان آرمی میں اس وقت تک آفیسر بن چکے تھے ان کی تحریک پر ہی جنرل صاحب پاکستان آئے اور آرمی میں شمولیت کا امتحان دیا۔

ان کے طبی معائنہ میں ایک دل کا معاملہ نکل آیا کہ ان کی ہر سات دھڑکنوں کے بعد ایک دھڑکن غائب ہو جاتی تھی۔ طبی وجہ سے ان کو طبی طور پر ناموزوں قرار دے دیا گیا۔ جنرل صاحب نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور وہاں چار پانچ ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ نے ان کا معائنہ کیا اور ان سے دریافت کیا کہ یہ دھڑکن غائب ہونے کا عمل کب سے وقوع پذیر ہو رہا ہے؟ جنرل صاحب نے جواب دیا کہ جب سے ہندوستان سے آیا ہوں اور بہن بھائیوں سے جدا ہوا ہوں یہ اس وقت سے ان کی یاد میں ایک دھڑکن ہے وہ غائب ہو جاتی ہے۔ ان کے بقول اس بات نے اس بورڈ کے سربراہ کو بہت متاثر کیا اور انہوں نے اٹھ کر اس نوجوان کو گلے سے لگا لیا اور طبی طور پر موزوں قرار دے دیا۔ یہ امر سائنسی طور پر اور طبی طور پر کتنا قابل قبول ہے یہ رائے میں ماہرین پر چھوڑتا ہوں۔

جنرل صاحب ٹریننگ کے بعد آٹھ بلوچ رجمنٹ انفنٹری میں آفیسر بن کر تعینات ہو گئے اور پھر مدارج طے کرتے ہوئے اسپیشل سروسز گروپ چراٹ میں آن پہنچے۔ سن 1959 میں ان کی شادی اسماء شوکت انصاری سے ہوئی جو شادی کے لیے ہندوستان سے ہی تشریف لائیں۔ مجھے اس امر کی بھی سمجھ نہیں آئی کہ جس ملک کے لیے آپ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کا عہد کر اس کی فوج میں شمولیت اختیار کئے ہوئے ہیں، اس ملک کے طول و عرض میں آپ کو شادی کے لیے ایک بھی موزوں خاتون نہیں ملتی؟ آپ ہندوستان سے شادی کے لیے ایک عورت کا انتخاب کرتے ہیں۔ انیس سو اڑسٹھ تک ان کے والدین ہندوستان میں ہی قیام پذیر رہے۔ میرے لئے یہ امر بھی باعث حیرت ہے کہ جب انیس سو پینسٹھ کی جنگ ہوئی تو جنرل صاحب جہاں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہندوستان کے خلاف سینہ سپر تھے اس وقت ان کے والدین اسی ہندوستان کے شہری تھے۔

جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں ایک مشہور آپریشن کا ذکر کیا ہے کہ جب ایس ایس جی کی ایک کمپنی ان کی کمان میں نواب آف دیِر کی سرکوبی اور گرفتاری کے لئے دیر بھیجی گئی۔ وہ وہاں سخت مزاحمت کی توقع کر رہے تھے مگر نواب آف دیر نے بغیر کسی مزاحمت کے ہتھیار ڈال دیئے۔ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں میں جنرل صاحب مشرقی پاکستان کے شہر کومیِلا میں ایک بریگیڈ میں برگیڈ میجر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے جس کے کمانڈر بریگیڈیئر ابوبکر عثمان مٹھا اسپیشل سروسز گروپ کے بانیوں میں سے شمار ہوتے تھے۔ جنرل صاحب نے باقیوں کی طرح شکوہ کیا ہے کہ وہاں موجود فوج بہت کم تھی اور مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے ہوگا، اس آئیڈیا پر جنرل صاحب نے کھل کر تنقید کی ہے۔ 1971 کی جنگ کے دوران جنرل صاحب کرنل کے عہدے پر ترقی پا کر چٹاگانگ کے علاقے میں موجود ڈویژن میں جی ایس او ون کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مشرقی پاکستان میں موجود ایسٹ بنگال رجمنٹ جو کہ پاکستان آرمی کی یونٹ تھیِں نے میجر ضیالرحمان کی سربراہی میں بغاوت کر دی تھی۔ میجر ضیا نے اپنے کمانڈنگ آفیسر جو کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل تھے، ان کے آفس میں گھس کر گولی مار دی تھی اور اپنے آپ کو بنگلہ دیش کا چیف آف آرمی سٹاف کا اعلان کر دیا تھا۔

ان نامساعد حالات میں میں پاکستان فوج بڑی بے جگری سے لڑی اور اس نے ان ایسٹ بنگال باغی رجمنٹس کا کافی حد تک صفایا کیا اور علاقے میں موجود شرپسند عناصر کو بھی اپنی گرفت میں کیا۔ جون جولائی سن انیس سو اکہتر میں جنرل صاحب کے بقول مشرقی پاکستان میں حالات بہت معمول پر آ چکے تھے اور ان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل شوکت رضا نے کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل نیازی کو ایک بریفنگ میں واشگاف الفاظ میں میں تمام معاملات سویلین حکومت کو لوٹا کر فوج واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔ جنرل صاحب کے بقول اس فیصلے میں ان کی یعنی مرزا اسلم بیگ جو کہ ان کے سٹاف افسر تھے کی بھرپور تائید حاصل تھی۔ جنرل نیازی نے اس بات کو ناپسند فرمایا اور اس بریفنگ میں ان دونوں جرنیلوں کی آپس میں شدید تلخ کلامی ہوگئی جس کی پاداش میں جنرل نیازی نے جنرل شوکت کو کمانڈ سے محروم کرکے واپس مغربی پاکستان بھیج دیا اور ان کی جگہ ایک اور میجر جنرل تعینات ہو گئے۔

جنرل اسلم بیگ صاحب کے بقول ان نئے میجر جنرل صاحب نے اسلم بیگ صاحب کو ہدایت کی کہ تمام سیچویشن رپورٹس، سٹریپس، جو کہ ہائر ہیڈ کوارٹر کو بھیجی جاتی تھی وہ پہلے انہیں پیش کی جائیں اور وہ خود اسے آگے ہیڈکوارٹر بھیجیں گے۔ اسلم بیگ صاحب کے بقول وہ تمام رپورٹیں سچ پر مبنی پیش کرتے تھے جس میں دن بھر کی تمام کارروائی اور اس میں جتنا ایمونیشن اپنی فوج کی زخمی اور ہلاکتیں اور دشمن کی ہلاکت یا زخمی یا علاقہ، اس کو حقیقت کے مطابق بیان کرتے تھے۔ اسلم بیگ صاحب کے بقول ان جنرل صاحب نے ان رپورٹوں میں بہت ردوبدل شروع کر دیا اور ان میں اپنی سپاہ کے کارنامے زیادہ اور دشمن کا نقصان زیادہ سے زیادہ دکھایا جاتا اور اپنا نقصان کم سے کم دکھایا جاتا۔ ایسا وہ جنرل نیازی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کر رہے تھے۔

اسلم بیگ صاحب کے بقول انہیں یہ بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے اپنے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل صاحب کو ان کے دفتر میں جاکر کر بتایا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی رپورٹیں بھیجی جا رہی ہیں جو کہ غلط بات ہے۔ اسلم بیگ صاحب کے بقول جنرل صاحب اس بات پر بہت ناراض ہوئے اور انہوں نے سخت الفاظ استعمال کر کے انہیں دفتر سے باہر نکال دیا اور تین دن کے اندر اندر انہیں واپس جی ایچ کیو مغربی پاکستان بھجوا کر ان کے کورٹ مارشل کی تیاری شروع کروا دی۔ عساکرِ پاکستان سے سابقہ تعلق کی بنا پر میں یہ بات پورے یقین اور وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ جنرل صاحب اس معاملے میں مکمل دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔ اول تو کسی سچ بات پر پر کسی سینئر کی جرات بھی نہیں ہوتی کہ جونیئر کو برے الفاظ سے یاد کرے اور اگر وہ اس بات پر ناراض بھی ہے تو اس کے پاس پاکستان آرمی کے قانون کے مطابق ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں کہ وہ اپنے جونیئر کو اس پاداش میں میں کورٹ مارشل کے لیے تجویز کردے۔ وہ یقینا کوئی اور بات ہوگی ڈسپلن کا معاملہ ہو گا، کوئی اور اخلاقی بات ہوگی کیونکہ کورٹ مارشل کے لیے عین جنگ کے دنوں میں واپس بھیج دینا ایک بہت بڑی بات ہے جو کہ صرف سچ بولنے کی پاداش میں پاکستان آرمی میں ممکن ہی نہیں ہے۔

 یہ ایک ایسا عجیب و غریب کورٹ مارشل تھا کہ وہ واپس راولپنڈی جی ایچ کیو آتے ہیں اور اور ان پر کوئی انکوائری ہوتی ہے نہ ہی کوئی کارروائی بلکہ ان کو کیریئر کے لئے ایک بہت موزوں وارکورس پر بھیج دیا جاتا ہے۔ وارکورس ابھی درمیان میں ہی ہوتا ہے کہ انیس سو اکہترکی جنگ شروع ہو جاتی ہے اور کرنل اسلم بیگ کو ایک اور یونٹ کی کمان دے کر لاہور کے علاقے بدوملہی میں تعینات کر دیا جاتا ہے۔ یہاں جنگ کے بعد ان کی ترقی ہو جاتی ہے اور وہ برگیڈئیربن جاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا افسر جو کسی بھی وجہ سے کورٹ مارشل کے لیے آیا ہوا تھا وہ ترقی کیسے حاصل کرتا گیا؟ یہ جنرل صاحب کی ایک مکمل دروغ گوئی ہے۔

جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے جب یہ سنہ 1975 میں بلوچستان میں تعینات تھے اور وزیراعظم نے وہاں آکر ان کے برگیڈ کا دورہ بھی کرنا تھا اور ایک سیاسی جلسہ بھی کرنا تھا۔ جنرل صاحب کے بقول اس سیاسی جلسے کے تمام انتظام و انصرام انھوں نے اس خوبصورتی سے ترتیب دیئے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خصوصی شاباش کا مستحق ٹھہرایا۔ اب یہ بات کہ ایک فوجی افسر ایک سیاسی لیڈر کے لیے سیاسی جلسوں کا انتظام و انصرام کرتا پھرے، یہ بات اس کے حلف اور اس کے عہدے کے شایان شان ہے؟ یقینا ایک سوالیہ نشان ہے۔ جنرل صاحب کو انیس سو اٹھتر میں ترقی دے کر میجر جنرل بنا کر اوکاڑہ کے ڈویژن میں تعینات کیا گیا۔ یہاں ایک اور دلچسپ واقعہ انہوں نے تحریر کیا ہے کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے پہلے صدر جنرل ضیاء الحق نےتمام کور کمانڈرز کو کہا کہ آپ اپنےجنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرلز کی رائے بھی لو۔ کور کمانڈر ملتان میں تھے انہوں نے اپنے زیر کمان میجر جنرلز کو بلایا اور ان کی رائے طلب کی۔ جنرل صاحب کے بقول سب نے پھانسی دینے کے فیصلے پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے اور اسے ایک مستحسن فیصلہ قرار دیا۔ اسلم بیگ صاحب کے بقول انہوں نے اس فیصلے سے شدید اختلاف کیا اور انہوں نے یہاں تک کہا کہ اس فیصلے سے پنجاب اور سندھ میں نفرتیں بڑھیں گی۔ اسلم بیگ صاحب کے بقول اس بات سے ان کے کورکمانڈر اتنے ناراض ہوئے کہ انہوں نے اپنے چیف آف سٹاف برگیڈئیر حمید گل کو صدر سے فون ملوا کر میجر جنرل اسلم بیگ کو کمان سے ہٹا کر تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ بریگیڈیئر حمید گل نے کورکمانڈر صاحب کو تجویز دی کہ آپ فوری ردعمل نہ دیں اور یہ چیز لکھ کر جنرل ضیاءالحق کو پیش کر دیں، وہ جو بھی مناسب فیصلہ ہوگا کر لیں گے۔ کور کمانڈر نے یہ مشورہ مان لیا اور لکھ کر ضیاالحق کو پیش کر دیا جنہوں نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ یہاں بھی قرین از قیاس ہے کہ جنرل صاحب ایک دروغ سے کام لے رہے ہیں۔ فوج میں کبھی بھی اختلاف رائے پر اور وہ بھی ایک سیاسی فیصلے کے اختلاف رائے پر اتنا بڑا فیصلہ نہیں لیا جاتا کہ ایک میجر جنرل کی کمان ہی تبدیل کر دی جائے۔

جنرل صاحب کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پشاور کے علاقے کا کور کمانڈر تعینات کردیا گیا۔ یہاں جنرل صاحب نے افغانستان میں مجاہدین کی کاروائیوں کا کافی سارا کریڈٹ اپنی جھولی میں لینے کی کوشش کی ہے۔ بقول ان کے انہوں نے ہی امریکیوں کو مجاہدین کو سٹنگر میزائل دینے کا مشورہ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ روسی گن شپ ہیلی کاپٹرز کو مار گرانے میں کامیاب ہوئے۔ یہاں جنرل صاحب نے ایک دلچسپ فقرہ لکھا ہے کہ روس کی شکست میں میرا ہاتھ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ جنرل صاحب کے ایک مشورے سے مجاہدین جو دس سال سے جہاد کر رہے تھے تھے اس کا پانسہ جنرل صاحب کے صرف ایک مشورہ سے پلٹا۔ ان کی لازوال قربانیاں ایک طرف اور دوسرے پلڑے میں جنرل صاحب کا مشورہ۔ جنرل صاحب کے بقول یہ سینئر جنرل تھے اور وائس چیف آف آرمی سٹاف کے لیے انیس سو ستاسی میں میں جب فیصلہ ہونا تھا تو جنرل ضیا الحق نے ان کی بجائے لفٹننٹ جنرل زاہد علی اکبر کا نام تجویز کیا۔ آخری فیصلہ وزیراعظم جونیجو نے کرنا تھا اور بقول جنرل صاحب کے جونیجو ان کی فائل دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کو زاہد علی اکبر کی بجائے مرزا اسلم بیگ کو وائس چیف آف آرمی سٹاف لگانے کا مشورہ دیا۔ یہاں بھی جنرل صاحب جو بات گول کر گئے کہ وزیراعظم جونیجو کیا صرف فائل پڑھ کر ہی اتنے متاثر ہو گئے تھے یا اس میں میں ایک طویل پبلک ریلیشننگ، بہت سارے تعلقات کو بروئے کار لانا، سفارشی حضرات اور اس طرح کے کئی معاملات ہوں گے۔

سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو بہاولپور کے صحراؤں میں الخالد ٹینک کا مظاہرہ دیکھنے کے لئے صدر ضیاء الحق اور ان کے رفقاے کار بہاولپور تشریف لے گئے تھے۔ جس واپسی پر ان کا طیارہ ایک حادثے کا شکار ہوگیا اور صدر ضیاء الحق اور ان کے تمام رفقااس میں جاں بحق ہو گے۔ جنرل صاحب کے بقول ان کی آخری ملاقات بہاولپور ایئرپورٹ پر صدر ضیاء الحق سے اس وقت ہوئی جب وہ اپنے طیارے میں سوار ہونے لگے تھے اور انہوں نے دعوت دی آپ بھی آ جائیے اور پھر کہا اوہ آپ کا تو طیارہ موجود ہے۔ جنرل اسلم بیگ کے مطابق انہوں نے جب یہ حادثہ ہوا تو دھواں اور آگ کے شعلے سب دیکھا اور انہیں جہاز کے ریڈیو سسٹم پر بتایا گیا کہ صدر کا طیارہ تباہ ہو گیا ہے اور اس میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ جنرل صاحب کے بقول انہوں نے واپس بہاولپور جو کہ پانچ منٹ کی فلائٹ ٹائم پر تھا وہاں جانے کی بجائے اسلام آباد جانا زیادہ مناسب سمجھا۔ یہ امر بھی قابل فہم نہیں کہ جنرل صاحب نے بہاولپور واپس جانا کیوں مناسب خیال نہیں کیا؟ اس کا جواب انہوں نے اپنی کتاب میں اس انداز سے دیا ہے جی اگر میں وہاں جاتا تو رات ہو جاتی اور اس کے بعد ہم فلائی نہ کر سکتے۔

یہاں بھی دو تین باتیں ہیں کہ فوج کی روایات کا تقاضا تو یہی ہے کہ جب اتنا بڑا حادثہ ہو تو آپ جائے حادثہ کے نزدیک ترین رہتے ہیں کیونکہ آپ اس وقت سینئر موسٹ فوجی افسر تھے اور آپ کے احکام نے ہی آگے کوئی چیز چلانی تھی تو آپ نے اس سے روگردانی کی۔ دوسرا اگر آپ بہاولپور سے نہ فلائی کرسکتے تو اس میں قباحت کیا تھی؟ آپ تو اقتدار سویلین حکومت کو دینے کا فیصلہ کر چکے تھے تو جب آپ نے اقتدار پر قبضہ نہیں کرنا تھا تو پھر آپ بہاولپور کی بجائے راولپنڈی کی طرف کیوں گامزن ہوئے؟ جنرل صاحب کے بقول انہوں نے تینوں سروسزچیف سے مشورے کے بعد غلام اسحاق خان کو اقتدار سنبھالنے کا کہا۔ اب اس کے پس پردہ کیا حقائق ہیں یہ بات اس کتاب سے ہمیں معلوم نہیں ہوتی۔

جنرل صاحب نے اپنے چیف آف آرمی سٹاف ہوتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے کہ کشمیر کے علاقے میں انہوں نے ہندوستان کی مسلسل دراندازی سے تنگ آ کر اس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل محمد صفدر کو ہندوستان کے اندر گھس کر ایک سرجیکل سٹرائیک کا حکم دیا جو انہوں نے بخوبی سرانجام دیا۔ جس طرح جنرل صاحب نے روس کی شکست کا کریڈٹ بھی اپنے کندھوں پر لینے کی کوشش کی ہے اس طرح انہوں نے بوسنیا میں میں مسلم آبادی کا دشمن سے حملے میں کامیاب ہونے کا کریڈٹ بھی اپنی ذات پر ہی لیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان آرمی کے دیے گئے گرین ہیرو اینٹی ٹینک میزائل سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور کوسووو نامی ایک نیا ملک معرض وجود میں آیا۔ یہاں بھی جنرل صاحب یہ بات گول کر گئے کہ وہ حکومتی سطح پر ایک فیصلہ تھا۔ جنرل صاحب نے اس بات پر بالکل روشنی نہیں ڈالی کہ وہ اس وقت کی سیاسی حکومت کا ایک فیصلہ تھا اور اس میں ان کا رول صرف وہ میزائل اٹھا کر دینے تک محدود تھا لیکن انہوں نے بوسنیا میں مسلمانوں کا کریڈٹ بھی اپنے کندھوں پر ہی لیا۔

جنرل صاحب نے پیپلز پارٹی کی حکومت اور بے نظیر بھٹو حکومت کے خاتمے میں اپنے کسی ہاتھ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بقول غلام اسحاق خان خان پیپلز پارٹی حکومت سے سخت نالاں تھےاور ان کی کرپشن اور مس گورننس پر مشتمل ایک فائل انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ کو مناسب ایکشن کے لیے پیش بھی کی تھی۔ جنرل صاحب کے مطابق انہوں نے کورکمانڈرز کانفرنس میں اس فائل پر سیر حاصل گفتگو کی اور اس کے بعد فیصلہ کیا کہ سیاسی حکومت کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ یہاں بھی جنرل صاحب بڑی صفائی سے اپنا آپ بچا گئے ہیں اور پیپلز پارٹی حکومت توڑنے کا سارا بوجھ انہوں نے صدر غلام اسحاق خان کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔

سن انیس سو نوے کے انتخاب میں جنرل ریٹائر اسلم بیگ کا نام آج تک ایک متنازع شخصیت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ یہ اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے سیاستدانوں اور کچھ اور افراد میں رقوم تقسیم کر کے اسلامی جمہوری اتحاد کی راہ ہموار کی اور اس کو الیکشن میں فتح دلوائی۔ یہ الزام ایئر مارشل ریٹائرڈ محمد اصغر خان نے اپنی سپریم کورٹ میں داخل درخواست کے ذریعے لگایا۔ انہوں نے درخواست میں اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی آئی لیفٹننٹ جنرل اسد درانی کا ایک بیان حلفی پیش کیا جس میں کہا گیا کہ مرزا اسلم بیگ نے انہیں یہ رقوم تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ اپنی کتاب میں جنرل صاحب نے اس تمام کارروائی سے صاف انکار کردیا۔ جنرل صاحب کے بقول 1973 کے آئین میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے، این پچھتر نمبر، یہ حکم دیا گیا تھا کہ جب بھی انتخابات ہوں گے تو آئی ایس آئی اس میں لوجسٹک سپورٹ میسر کرے گی۔ جنرل صاحب کے بقول انہوں نے نوے کے انتخابات میں اسی کے تحت آئی ایس آئی کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا کہا۔ یہ امر انتہائی باعث حیرت ہے کہ لوجسٹک سپورٹ کا ترجمہ مواصلاتی تعاون ہوتا ہے تو اس میں تو کوئی گاڑیاں دینا، خیمہ لگانا، کھانا پہنچانا اس طرح کے کام آتے ہیں یہ سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کرنا آخر لوجسٹک سپورٹ میں کس طرح؟

جنرل صاحب نے اپنے سپریم کورٹ میں دیے گئے بیان میں بھی اس کا پہلے ذکر کیا لیکن جب مصیبت بڑھی اور ان کو یہ نظر آیا کہ حقیقت حال تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں تو انہوں نے ایک اور بیان دیا جس کے مطابق انہیں یہ سب کام کرنے کا اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے حکم دیا تھا۔ یہاں بھی جنرل صاحب کا دروغ اپنے عروج پر ہے کہ پہلے تو وہ رقوم تقسیم کرنے سے صاف منکر ہو گئے تھے اور بعد میں انہوں نے اپنے آپ کو صدر کے حکم کے تابع دکھا کے اپنے آپ کو بے بس ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس صدارتی حکم اور اس کے ذریعہ اپنے آپ کو اس حکم کا تابع ہونے کا ذکر اپنی کتاب میں مکمل گول کر گئے۔

جنرل صاحب 16 اگست 1991 کو ریٹائرڈ ہو گئے اور ان کے بقول ان کی ریٹائرمنٹ سے کافی پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت میں میجر جنرل ریٹائرڈ نصیراللہ بابر انہیں چیف آف آرمی سٹاف سے ہٹانے کی سازش کر رہے تھے لیکن انہوں نے کور کمانڈرز کو بلا کر فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں سخت تنبیہ کرنے سے اس سازش کی روک تھام کی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل صاحب نے پہلے تو ایک غیر سرکاری تنظیم فرینڈز کے نام سے مختلف سیمینار کا بندوبست کیا اور پھر وہ پاکستان اسلام کا اتحاد کے نام سے ایک سیاسی جماعت کے سربراہ بھی بن کر سامنے آئے۔ جنرل صاحب نے کتاب میں ایک اہم واقعہ کا ذکر کیا ہے کہ جس میں دو ہزار چھ میں انہیں ایک امریکی عہدے دار رچرڈ آرمیٹج جو کہ صدر مشرف کو پتھر کے دور میں لے جانے والی دھمکی کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں، کا ملاقات کے لیے فون آیا۔ جنرل صاحب کے بقول انہوں نے اپنی فطری ذہانت کو بروئے کار لا کر یہ جان لیا کہ یہ امریکی ان سے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لئے تعاون کا طلبگار ہے۔ جنرل صاحب نے اس گفتگو میں معاونت کے لیے آئی ایس آئی کے ایک پرانے آفیسر کرنل امام کو بھی بلا لیا۔ رچرڈ نے وہی بات کی اور انہوں نے کرنل امام کے ذریعے اس معاملے کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

اگلی خوفناک بات یہ ہے کہ کرنل امام ایک اور افسر خالد خواجہ کے ساتھ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے گئے جو کہ جنرل صاحب کے بقول انہوں نے منع کیا تھا۔ یہ عجیب بات ہے کہ پہلے آپ ایک افسر کو مذاکرات کے لیے بلاتے ہیں اور پھر اسے منع کر دیتے ہیں، یہ بات ناقابل فہم ہے۔ یہ عمل بہت افسوسناک ہے کہ کرنل امام اور خالد خواجہ طالبان لیڈر بیت اللہ محسود کے ہاتھوں وزیرستان میں قتل ہو گئے تھے۔ جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں میں ایک کسی کو سمجھ میں نہ آنے والی بات بھی کی ہے اور بیت اللہ محسود، ملا اختر منصور اور اس قماش کے خونخوار قسم کے دہشت گردوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں کے ذبح کیے ہوئے سروں سے فٹبال کھیلنے والے بیت اللہ محسود کی ہلاکت پر ان کا افسوس بالکل ناقابل فہم ہے۔

جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں مشرف سے اپنی اظہار ناپسندیدگی کا بھی اظہار کیا ہے۔ ان کی کتاب کا سب سے افسوسناک حصہ وہ ہے جس میں وہ آخر میں اپنے آپ کو اسلام کا سپاہی اور مجاہد قرار دیتے ہیں۔ یہ اسلام کارڈ تقریبا تمام ریٹائرڈ جنرل، بیوروکریٹ، سیاسی لیڈران استعمال کرتے ہیں لیکن اگر جان کی امان ہوتو کیا جنرل صاحب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اس اسلام کی سر بلندی کے لئے انہوں نے پریکٹیکل کیا کیا؟ اپنے فرینڈز کے زیر اہتمام جرمن مدد سے ہونے والے سیمینار کا تو جنرل صاحب نے بخوبی اظہار کیا ہے مگر کیا اس اسلام کی سربلندی کے لیے، جس کا اظہار انہوں نے جابجا اپنی کتاب میں کیا ہے، انہوں نے کوئی اسلامی تقریب بھی منعقد کی؟

جنرل صاحب نے اپنی تنظیم فرینڈز کے زیراہتمام کبھی کوئی عید میلاد النبی کی تقریب منعقد نہیں کی، کبھی کوئی نعتیہ یا حمدیہ تقریب کا اہتمام نہیں کیا، کبھی کسی اسلامی تقریب میں وہ نظر نہیں آئے تو جنرل صاحب یہ اسلام کو ذرا رہنے دیں۔ جنرل صاحب نے اپنی کتاب میں ایک اور بڑا عجیب و غریب بیان یہ کہہ کر دیا ہے کہ سیاچن میں تو ہم ہمیشہ سے اچھی پوزیشن میں تھے اور ہیں۔ ہم جب چاہیں ہندوستان کو پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔ یہ ہم نے اس وجہ سے پہلے نہیں کیا اور اب بھی نہیں کر رہے کیونکہ ہندوستان کی مواصلاتی لائن محدود ہے جبکہ ہماری مواصلاتی لائن بہت اگلے مورچوں تک جاتی ہے۔ ہندوستان کو اس وجہ سے بہت مہنگے اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جنرل صاحب ایک دور کی کوڑی لائے ہیں کہ چونکہ اس کا سیاچن پر ہم سے بہت زیادہ خرچ ہو رہا ہے اس لیے ہم اس پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی کہ ہم اسے پیچھے دھکیل سکیں، ہم یہ کام نہیں کر رہے۔

اس کتاب کا نام اقتدار کی مجبوریاں ہےلیکن در حقیقت اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اور حالات و واقعات کو جانچنے کے بعد بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کتاب کا نام اقتدار کی مجبوریاں اور جنرل اسلم بیگ کی دروغ گوئیاں ہوتا تو زیادہ مناسب تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words